تازہ ترین:

پیر‘ 14 صفر المظفر 1433ھ‘ 9جنوری 2012ئ

سر را ہے …پروفیسر اسرار بحاری ـ 9 جنوری ، 2012
احتساب عدالت کے جج نے ڈبل شاہ کو 14 سال قید اورجائیداد ضبطی کی سزا سنادی۔اسے اور جرمانہ بھی دینا ہوگا۔ ڈبل شاہ ان ٹربل پرتو فلم بنائی جاسکتی ہے مگر ہماری فلم انڈسٹری ہی وینا میں ڈوب گئی اورکوئی فلمساز ایسا نہیں کہ ایسی اداکاراﺅں سے کام لے تاکہ وہ بھارت کی شہریت حاصل نہ کریں، احتساب عدالت نے حساب کتاب توٹھیک ٹھاک کیا ہے لیکن نہ جانے پھر بھی یہ سزا کچھ کم کم سی لگتی ہے چلو خس کم جہاں ہنوز ناپاک کے مصداق یہ ڈبل شاہ تو ایک نہیں ہزاروں میں ہیں اور تھانیداروں کو پتہ ہے مگر کیا کیجئے کہ تھانے ان کے مرید ہیں وگرنہ یہ تو ایک ڈبل شاہ اتفاقیہ قابو آگیا ایسے کتنے ہی کالے ڈبل شاہ موجود ہیں اسلئے ” گوریاں نوں پراں کرو“ اگر ہمارے عوام اپنی اور کئی ” اچھی“ عادتوں کی طرح یہ ڈبہ پیر پرستی کا شوق بھی ترک کردیں تو اس معاشرے میں اولیاءاللہ پیدا ہوں ، لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ پہلے تو بڑے بڑے ولی پیدا ہوتے تھے اب کیوں نہیں ہوتے کہ میرے سجنو تے مترو بات یہ ہے کہ جب تک تمہیں ان ڈبل شاہوں کی طلب رہے گی بڑے بڑے اولیا کرام پیدا نہیں ہوں گے اور اگر کہیں موجود ہوں گے بھی تو ڈبل شاہوں کی شان و شوکت،شعبدہ بازی اور گیٹ اپ دیکھ کر آپ تو اُن کو پہچان ہی نہیں سکیں گے۔
ہم کس کس ٹھگ کی بات کریں ڈبل شاہ ٹائپ ٹھگوں کی یا حکمران ٹائپ ٹھگوں کی اور تنگ آکر یہی کہتے ہیں....
خداوندا ترے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
٭....٭....٭....٭....٭
وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے: میمو سکینڈل اور این آر او کیس جلد ختم ہوجائیںگے۔ ملک سے عدلیہ ختم کردیں تاکہ جنگ میں سرخروئی بھی ہو اور جگ ہنسائی بھی نہ ہو۔گویا ایک پنتھ دو کاج، وزیر دفاع ملک کا دفاع کررہے ہیںیا کسی وکیل کی طرح قاتل کو پھانسی کے تختے سے بچارہے ہیں، یہ وزیر دفاع ہیں یا وزیر ضیاع کیوں نہ ان کو کوئی قائمہ کمیٹی سپرد کردی جائے جو بینظیر سپورٹ پروگرام کی نگرانی کریں اور وزارت دفاع کسی مردِنراگر ہے تو اُسکے سپرد کردی جائے اور و ہ اپنے پسندیدہ ضرورت مندوں کی گلیوںمیں بندریا کو نچا کر کہیں....
ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا
”قدردان“ تجھے کب ایسا ملے گا
میمو گیٹ کیس کو کسی سوٹ کیس میں بند نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کاسائز ہی بڑا ہے اور این آراو ختم تو نہیں ہوسکتا کیونکہ قوم اپنا پیسہ کب چھوڑنے ، معاف کرنے پرراضی ہوگی ہم تو کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی تمام کیسز کا سامنا کرے کیونکہ یہ تزکیہ ہے جواللہ نے اُسے عطا کیا ہے ،اس طرح بھٹو اور بینظیر والی پارٹی سامنے آجائے گی ،روٹی کپڑا مکان بھی مل جائیں گے چاہے گیس بجلی ملے نہ ملے اور کشمیر فتح ہو نہ ہو بینئے کا دل تو فتح کر ہی لیاجائے گا۔ ہم جب بھی احمد مختار کا نام پڑھتے ہیں تو دفاع کی جگہ مائی مختاراں یاد آجاتی ہے کیوں نہ ان دونوںکے میدان اول بدل کردئیے جائیں، ملک کا دفاع تو اُسی روز ہوگیا تھا جب نیٹو نے شب خون مارا تھا اور جب ایبٹ آباد آپریشن ہوا تھا۔
٭....٭....٭....٭....٭
آزادجموںو کشمیر کے صدر سردار یعقوب خان نے کہا ہے چاہے ہماری کھال کیوں نہ اتار دی جائے کشمیر کا ز پر سمجھوتہ نہیںکرینگے۔نوائے وقت گروپ نے کشمیر کاز کو زندہ رکھا مجید نظامی سے رہنمائی لیتے رہینگے۔ بیان کی حد تک توسردار صاحب کا بیان کھال ادھیڑنے والا ہے مگر سردست معاملہ الٹا ہے کیونکہ سردارصاحب آزاد کشمیر میں بھارت کو شال اڑھاتے ہیں اور لاہور آکر کشمیر کاز پر سمجھوتہ نہ کرنے کی بات اس طرح سے کرتے ہیں جیسے انہوںنے جہادِ کشمیر کی تیاری مکمل کرلی ہے، کشمیر تو روز بروز بے پیر ہوتا جارہا ہے وہاں کشمیر کے حصول کیلئے کوئی تحریک نہیں چل رہی کیا وہ بھی اقبال کا یہ فرمودہ بھول گئے ہیں ....
دنیا میں ٹھکانے دو ہی تو ہیں آزاد منش انسانوں کے
یا تختہ جگہ آزادی کی یا تخت مقام آزادی کا
پاکستان اور آزاد کشمیر جب تک مل کر بھارت سے دوستی کی پینگیں کاٹ کرتجارت بند کرکے اوروفود کے آنے جانے کا تدارک نہیں کرتے ، تب تک یہی فضا بنی رہے گی کہ....
ہم بھول گئے ہر بات
مگر تیرا پیار نہیں بھولے
سردار یعقوب، اپنے یوسف کو ڈھونڈیں اور حاصل کر کے رہیں اب تو آزد کشمیر صرف ایک سلطنت نظر آتی ہے اور اُس کے حکمران سلطانِ وقت ۔واقعی یہ ہے اپنی ہی کھال ادھیڑنے والی بات۔ چودھری صاحب نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ بھارت کوM.F.N قرار دینے سے مسئلہ کشمیر متاثر نہیں ہوگا۔ یعنی حل ہوگا؟
٭....٭....٭....٭....٭
ہدایت نامہ برائے پیپلزپارٹی۔ یہ نہیں کہ پارٹی قیامت کے پاس اچھے دانشمند افرادموجود ہی نہیں لیکن جو گروہ اُس نے پارٹی کومقبول بنانے کیلئے آگے لگا رکھا ہے اُس نے جنگل میں آگ لگا رکھی ہے ہم ان لمبی کالی زبانیں رکھنے والوں کے نام تو نہیں لیتے کہ یہ ہمارے لئے اچھا شگون نہ ہوگا لیکن بھٹو شہید کی پارٹی کو یوں بے مقصد کیوں شہید کیاجارہا ہے، وہ غازی بھی تو بن سکتے ہیں ، اتحادی بھی ریلوے برباد کرکے سیکولرازم کی صدا لگاتے اور کل کی قاتل لیگ بھی آج کی حریص لیگ بن کرزرداری کی ٹیم میں شامل ہے۔اس میںکوئی شک نہیں کہ بقول پیپلز پارٹی آئین اور پارلیمنٹ سب سے بڑاطاقتور ادارہ ہے لیکن زرداری گیلانی نے تو اُسے اقوامِ متحدہ بنارکھا ہے اور سپریم کورٹ جیسے آزاد اور قانون کے کسٹوڈین ادارے کی بات نہیں مانتے جبکہ میمو کو کاغذ کا پرزہ قرار دینا پیپلز پارٹی کے ہاں ایسا ہے جیسے کاغذ چننے والا پٹھان اسے لے کر ردی کی دکان پرآیا ہو۔ یہ ایک دستاویز ہے جس کی ایک نہیں کئی بنیادیں ہیں۔
بتاﺅ تم کیا کیا گراﺅگے؟
جب ایک قانونی عدالتی کمشن تحقیقات کیلئے چیف جسٹس نے مقرر کردیا ہے توپھر عدالتِ عظمیٰ کوکیوں لال کپڑا دکھایا جارہا ہے،آج بھی اگر پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے اچھے ترجمانوں کو سامنے لائے،ٹپے گانے والوں کو وزیر بے قلمدان لگادے، بجلی گیس کے مسئلے کو حل کردے، کراچی کے شتر بے مہار گھوڑے کوقابو کرلے تو پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات کیلئے عوام کے دلوں میں نرم گوشتہ پیدا کرسکتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter