تازہ ترین:

منگل‘ 24؍ صفر المظفر1431ھ‘ 9 ؍ فروری 2010ء

ـ 9 فروری ، 2010
بھارتی واٹر کمشنر نے کہا ہے کہ راوی اور ستلج کا معائنہ کرونگا اس سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ہو گی۔
بھارت جو کچھ کر رہا ہے وہ پاکستان کیلئے نہیں وہ صرف دنیا کو دکھانے کیلئے کر رہا ہے۔ بھارتی واٹر کمشنر نے کہا ہے کہ پاکستان جن دریائوں کی انسپکشن چاہے گا بھارت کرائے گا یوں لگتا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ پانی کے معاملے پر مضحکہ خیز کارروائی کر رہا ہے اور بات صرف ایک دوسرے کے دریائوں کی سیر تک محدود رہے گی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ بھارت نے پانی کے معاملے پر جو بے انصافی کرنی تھی وہ کر چکا ہے۔
بھارت اس سلسلے میں اپنی لات پاکستان کے اوپر رکھے گا۔ یہ بڑی خام خیالی ہو گی کہ واٹر کمشنروں کے آنے جانے سے بھارت پاکستان کا پانی واگزار کر دے گا۔ اور اس کا حشر بھی کشمیر پر 62 سالہ مذاکرات جیسا ہو گا بھارت صرف الٹی میٹم کی زبان سمجھتا ہے اور ہم ایسی زبان سے توبہ کر چکے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو بھارت کا پاکستان کو ریگستان بنانے کا منصوبہ کامیاب ہو گا اور ہم اِس کے مجرم ٹھہریں گے۔ بھارت نے کشمیر پر قبضہ ہی اِس لئے کیا تھا کہ وہ پاکستان کا پانی بند کر لے گا۔ اب پاکستان کے پاس سوائے اِس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ بھارت سے کہے کہ پانی ہماری زندگی ہے اگر اُس نے اسے واگزار نہ کیا تو ہم اپنی زندگی کی بقا کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں یہ بات سوچنے والی ہے کہ جب سے امریکہ نے پاکستان میں قدم رکھا ہے بھارت کی زیادتیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ بھارت کی بالادستی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان دوسرے معاملات کی طرح پانی کے معاملے پر بھی کمزور موقف رکھتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ گورنر بادشاہ آدمی ہیں‘ انکی کسی بات کا جواب نہیں دے سکتا‘ بسنت پر کسی معصوم کا گلا کاٹنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
گورنر واقعی بادشاہ آدمی ہیں‘ اس لئے کہ انکے شوق ہی شاہانہ ہیں‘ انکا یہ کہنا کہ بسنت لازمی منائی جائیگی‘ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے اس لئے کہ عدلیہ اس سلسلے میں اپنا فیصلہ دے چکی ہے اور وزیراعلیٰ نے بھی کہا ہے کہ بسنت پر قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے اور کسی معصوم کا گلا کاٹنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘ گورنر جو چاہے کہتے رہیں‘ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ ہر سال بسنت کے موقع پر کتنے ہی معصوموں کے گلے کٹتے ہیں‘ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کا بیان عوام کی نمائندگی ہے‘ گورنر پنجاب کو بھی چاہئے کہ وہ اس بات کا احساس کریں اور جیسا کہ وزیر اعلٰی نے کہا ہے کہ لاہور میں عالمی معیار کی تفریحی سہولتیں فراہم کرینگے‘ وہ بھی اپنی توجہ اس پر مرکوز کریں۔ ایک ایسی تفریح کا کیا فائدہ جس کے نتیجے میں لوگوں کے گھروں میں جنازے پہنچیں۔
اہلحدیث یوتھ فورس نے اعلان کیا ہے کہ گورنر نے بسنت منائی تو جانوں پر کھیل کر روکیں گے۔ اہلحدیث یوتھ فورس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرف سے اس بیان پر کہ( حکومت جو فیصلہ کرے‘ میں بسنت منائوں گا) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مسخرہ گورنر اگر ہندوانہ تہوار بسنت کو پنجاب حکومت کی پابندی کے باوجود منانے کا ارادہ رکھتا ہے‘ تو اسے جان لینا چاہئے کہ اہل حدیث یوتھ فورس کے سر فروش نوجوان جان پر کھیل کر اسے روکیں گے‘ بہرحال بسنت اب ایک متنازعہ تہوار بن چکا ہے‘ اس سے پرہیز ہی کرنا بہتر ہے۔ ممکن ہے گورنر بہادر کا ارادہ گورنر ہائوس کی چار دیواری کے اندر بسنت منانے کا ہے‘ تو پھر کرلو جو کرنا ہے!
٭…٭…٭…٭
سیکرٹری صحت نے کہا ہے کہ ایمرجنسی میں سینئر ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
ہمارے ہاں ہسپتالوں میں انسانی جانوں کے ضائع ہونے کی اکثر پرواہ نہیں کی جاتی‘ بالخصوص ایمرجنسی میں اس لاپرواہی سے علاج کیا جاتا ہے کہ مریض چل بستے ہیں‘ اس طرح کے واقعات پچھلے دنوں ہوتے رہے ہیں۔ سیکرٹری صحت نے ہدایت کی ہے کہ ویسٹ اور استعمال شدہ سرنجیں تلف کرنے پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ایمرجنسی وارڈ میں اکثر ناتجربہ کار ہائوس جاب کرنیوالے ڈاکٹروں کو متعین کیا جاتا ہے‘ انکی جگہ سینئر ڈاکٹروں کی ڈیوٹی لگائی جائے‘ اس کے علاوہ ایمرجنسی عملے کا رویہ بھی اچھا نہیں ہوتا‘ پاکستان میں ایمرجنسیوں کا حال بھی یا نصیب کلینک جیسا ہوتا ہے جو بچ گیا سو بچ گیا‘ جو چلا گیا سو چلا گیا۔
ایمرجنسی وارڈ کسی بھی ہسپتال کا دل ہوتا ہے‘ لیکن سب سے زیادہ بے پرواہی اسی میں برتی جاتی ہے۔ جبکہ بڑے بڑے مہنگے ہسپتالوں میں ایسا نہیں ہوتا‘ عام ہسپتالوں میں شاید اس لئے لاپرواہی برتی جاتی ہے کہ وہاں غریب مریض آتے ہیں‘ جہاں تک سرکاری ہسپتالوں کا حال ہے‘ وہاں تو سب کچھ بے حال ہے‘ باتھ روموں سے لیکر وارڈوں تک صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ وزارت صحت عام ہسپتالوں اور خاص کر سرکاری ہسپتالوں کا اچانک دورہ کرنے کا پروگرام بنائے جیسا کہ سیکرٹری صحت نے کہا ہے کہ وہ کارکردگی کا جائزہ لینے اور صفائی کے انتظامات کو چیک کرنے کیلئے اچانک دورہ بھی کرینگے۔
٭…٭…٭…٭
سابق آرمی چیف اسلم بیگ نے کہا ہے‘ چین اور پاکستان سے جنگ لڑنا بھارت کا خواب ہو سکتا ہے‘ حقیقت نہیں۔
جنرل صاحب باخبر آدمی ہیں‘ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت نے اپنی عسکری صلاحیت میں خاصا اضافہ کرلیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پچھلے چالیس پچاس سال سے بھارت ٹینک گن‘ ہوائی جہاز‘ سب میرین اور کروز میزائل نہیں بنا سکا ہے جبکہ اسکے برعکس پاکستان نے ہر چیز بنالی ہے۔ مگر اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت نے خرید خرید کر جنگی ساز وسامان کے ڈھیر لگا دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت نے جاسوسی کا بہت بڑا جال بچھایا ہے‘ جہاں سے پڑوسی ممالک میں مداخلت ہو رہی ہے۔ اگر بھارت چین اور پاکستان پر بیک وقت حملہ کردے تو کو معلوم ہوجائیگا کہ تباہی کو دعوت دینے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ بھارت اس وقت خطے کی سب سے بڑی فوجی قوت ہونے کے مغالطے میں ہے‘ وہ سمجھتا ہے کہ شاید پاکستان اور چین اس سلسلے میں سو رہے ہیں۔ وہ فوجی دھمکیاں دینے کا بہت شوقین ہے مگر اسکا یہ شوق دیوانے کا خواب ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter