امریکہ کے ایک سابق عہدیدار ڈیوڈ فرم نے کہا ہے‘ ایبٹ آباد اپریشن پر منصور اعجاز کا بیان پاکستان میں جمہوریت کیخلاف سازش ہے‘ جبکہ امریکہ کے ممتاز کالم نگار ایچ ڈی ایس گرینوے نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بلاجواز غیرضروری محاذ آرائی سے گریز کرے۔
منصور اعجاز کو مکروہ آواز کہنا مناسب ہو گا جس نے چند روز پہلے یہ الزام تراشی کی تھی کہ ایبٹ آباد اپریشن کے بارے میں صدر اور حسین حقانی کو پہلے سے علم تھا۔ گویا وہ یہ ہرزہ سرائی کرنا چاہتا تھا کہ پاکستان میں امریکی بلاجواز کارروائیاں سویلین حکومت اور فوج سے بالا بالا کرا رہی ہے۔ اس بیان کا واضح مقصد دو بڑے اداروں بلکہ افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر اور فوج کے درمیان آویزش پیدا کرنا تھا۔ یہ شخص 20 برس سے سی آئی اے کا ایجنٹ ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان سے جمہوریت کو رخصت کیا جائے مگر اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ....
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
لیکن جس کی رگ و پے میں عداوتِ مصطفی کی غلاظت دوڑ رہی ہو‘ وہ پاکستان دشمنی کیخلاف اور کیا کر سکتا ہے۔ یہ شخص باولے سگ کی طرح پاکستان کو کاٹتا رہے گا اور وہ یہ نہیں جانتا کہ پاکستان کی حفاظت اللہ کر رہا ہے وگرنہ وہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر اس اسلامی جمہوریہ کو قائم ہی نہ ہونے دیتا۔
ہم زرداری اور حسین حقانی کی بات نہیں کرتے لیکن منصور اعجاز پر دو حرف بھیجتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
پاسپورٹ میں والدہ کے نام کے نئے خانے کا اضافہ کیا جائے۔
یہ بات تو سوا لاکھ کی ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے‘ شناختی کارڈ کی کیا حیثیت ہے لیکن یہ بھی سنا ہے کہ بروز قیامت ہر ایک کو ماں کے نام سے پکارا جائیگا۔ گویا بچے کی شناخت کا دارومدار ماں کے نام پر بھی ہے۔ ویسے امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ بچہ 80 فیصد ماں کا ہوتا ہے‘ 20 فیصد باپ کا۔ اور سائنسی تحقیق بھی یہ کہتی ہے کہ بچے کی ساری جسمانی ساخت میں ماں ہی کی طاقت خون اور جسم کی طاقت استعمال ہوتی ہے۔ یہ بھی سنا ہے کہ امریکہ میں بچے کو داخل کرتے وقت ماں کا نام درج ہوتا ہے ممکن ہے والد مفقود الخبر ہو۔
شناخت کو اگر عقلی زاویے سے پرکھیں تو اسکی تکمیل ماں باپ دونوں کے ناموں سے ہوتی ہے اس لئے یہ اچھی تجویز ہے۔ لیکن ماں حقیقی ہونی چاہیے‘ دونمبر نہیں تاکہ شناختی کارڈ سوتیلے پن سے پاک رہے۔ عربوں کے ہاں زمانہ قدیم سے یہ دستور ہے کہ وہ ماں کا نام تو شناخت میں شامل نہیں کرتے لیکن کسی بھی شخص کی شناخت کو تاوقتیکہ نہیں مانتے جب تک وہ اپنا باپ کا اور دادا کا نام ہر دستاویز پر درج نہ کرے۔ یہ طریق بھی اچھا ہے کہ اس سے ہمنام ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
ماں ایک ایسی ہستی ہے کہ انسان جب بھی دکھ درد میں مبتلا ہوتا ہے‘ باپ کو نہیں پکارتا‘ ماں ہی کو آواز دیتا ہے اور اپنا ہر راز و نیاز بھی ماں ہی سے بیان کرتا ہے۔ شاہ حسین نے اسی لئے ہجر کی کیفیت میں ماں ہی کو صدا دی۔ مائیں نی میں کہنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی۔ اور آگے سے ماں یہ تو نہیںکہتی ہے کہ ”جا اپنے پیو نوں دَس“۔
٭....٭....٭....٭
سردیوں کا پہلا تحفہ ملاحظہ ہو‘ ایل پی جی کی قیمت میں 5 روپے فی کلو کا اضافہ کردیا گیا۔ گویا گھریلو سلنڈر 60 اور کمرشل سلنڈر 240 روپے مہنگا ہو گیا۔ اطلاق ہو چکا ہے۔
دشمن جب مارتا ہے تو لاش چلچلاتی دھوپ میں پھینک جاتا ہے‘ اپنا مارے بھی تو ٹھنڈی چھاﺅں میں تو لٹا دیتا ہے۔ حکومت ذرا اپنی حیثیت اور عوام سے تعلق کا تعین کرے کہ وہ کس مقام پر کھڑی ہے۔ سردیوں کا پہلا تحفہ ہرگز قابل قبول نہیں‘ اب تو مہنگائی کے حوالے سے موسموں کی بھی کوئی قید نہیں رہی۔
ہر موسم ہے پیار کا موسم ہو گا کہ نہیں
بول رادھا بول سنگم ہو گا کہ نہیں
ہماری ”شام“ سے درخواست ہے کہ رادھا سے جدائی کا بدلہ عوام سے تو نہ لے جن کے چولہے ایل پی جی سے چلتے ہیں۔ وہاں کتنی ہی رادھائیں ٹھنڈے چولہوں پر ٹھنڈی آہیں بھریں گی۔ ایل پی جی ان تمام علاقوں میں استعمال ہوتی ہے۔ جہاں غریب لوگ رہتے ہیں اور کوئی پرسان حال نہ ہونے کے سبب وہاں گیس پائپ لائن نہیں پہنچائی جاتی حالانکہ سب سے زیادہ ووٹ یہی غریب لوگ دیتے ہیں۔
کیا کسی پوش ایریا کے باسیوں کو ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کی کوئی پرواہ ہو سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ایل پی جی کبھی مہنگی نہ ہوتی مگر وہاں تو دیواریں کھڑی ہونے سے پہلے سوئی گیس پہنچا دی جاتی ہے اس لئے وہاں کی رادھاﺅں کو شام کی فکر ہے اور نہ شام کو رادھاﺅں کی۔ ایل پی جی مافیا ہے اور منظور نظر لوگوں کے پاس اسکے ٹھیکے ہیں جن میں بظاہر ہر ٹھیکیدار معزز بھی ہے اور وہ بادی النظر میں ٹھیکیدار بھی نہیں لگتا۔
غریبوں پر یہ مہنگائی بم نہ پھینکا جائے بلکہ ایل پی جی کے پہلے سے چڑھتے ہوئے ریٹ بھی کم کئے جائیں ورنہ عوام کو اس کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
٭....٭....٭....٭