پیر ‘27 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘ 9 ؍ اگست 2010ء
ـ 9 اگست ، 2010
امریکی خاتون اول مشیل اوباما کے دورہ سپین پر4لاکھ ڈالر خرچ آنے پر امریکی عوام بپھر گئے، امریکی میڈیا نے فرانسیسی ظالم ملکہ کا لقب دیدیا۔
امریکی عوام کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا، خدشہ ظاہر کیاجاسکتا ہے کہ وہ ’’ملکہ میری انٹیونیٹ‘‘ جیسا حشر نہ کردیں، میری انٹیونیٹ فرانس کی ملکہ گزری ہے انکا سرکاری خزانے میں اپنے پر تعیش اخراجات کیلئے تصرف اس قدر مشہور ہوا کہ وہ فرانس کے غریب عوام سے بالکل لا تعلق ہوگئیں کسی نے انہیں روٹی نہ ملنے کی شکایت کی تو اس نے کہا کہ اگر انہیں روٹی میسر نہیں تووہ کیک کھالیں۔
فرانسیسی انقلاب کے موقع پر عوام 38 سالہ ملکہ کا سر کاٹ کر اظہار عبرت کیلئے فرانس کی گلیوں میں لیے پھرتے رہے۔ لیکن شاید اسکی نوبت نہ آئے کیونکہ مشیل اور ملکہ میری انیٹونیٹ کے زمانے اور اخراجات میں کافی تفاوت ہے تب فرانسیسی عوام ملک کو سنوارنے کیلئے اکٹھے ہوئے تھے اور آج امریکی عوام ملک کو بگاڑنے کیلئے نام نہاد دہشت گردی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شائد اوباما عوامی مطالبے پر حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے 4لاکھ ڈالر قومی خزانے میں جمع کروادیں مشیل اوباما شاید بھول گئی ہوں اور انکے ذہن میں ہو کہ وہ شاید پاکستان جیسے صدر کی بیوی ہیں خزانے کو جیسے مرضی استعمال کریں، عوام توصُمّ‘ُ بُکْم‘ُ عُمْیّ‘ُ کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بہر حال ہمارامشورہ ہے سیر سپاٹے پر قومی خزانے سے شاہانہ اخراجات ہضم کرنے کیلئے مشیل اوباما کو امریکی عوام میں پاکستانی عوام والا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔ یا پھر اوباما کو کسی ایسے ملک کا صدر بنانا ہوگا جس کے عوام پاکستانی عوام جیسے ہوں کیونکہ پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔
٭…٭…٭…٭
ایک پرانی فلم بیجو باورا کا موضوع تو کلاسیکی موسیقی تھا مگر اس میں ایک مزاحیہ کردار ڈالا گیا تھا۔ جو بے سُرے انداز میں ستار بجاتا تو دوسرے مزاحیہ کردار والا ستار بجانے والے کوکہتا…’’ اُستاد۔ستار اور جوتے میں فرق سمجھتے ہو…؟ ‘‘دوسرے کردار نے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرق جاننے کی خواہش ظاہر کی تو پہلے کردار نے کہا…’’ ستار کا تو تار تار بجتا ہے۔ مگر جوتا سرپر تاڑ تاڑ پڑتا ہے۔‘‘ کسی زمانے میں جوتا بس پائوں میں پہننے اور تلوئوں کو تکلیف دہ کانٹوں اور چبھنے والی چیزوں کے علاوہ وقت بے وقت کسی کے سر پر بجانے کے علاوہ کوئی کام نہیں تھا، جوتے کا استعمال جو ں جوں عقل بڑھتی گئی اور علم میں اضافہ ہوگیا۔ وسیع تر ہوگیا۔
٭…٭…٭…٭
قومی اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں ایک نا مور خاتون سیاسی لیڈر چائے پینے کیلئے آئیں تو ایک اور معروف سیاسی لیڈر نے اس خاتون راہنما کی تعریف و تحسین کرتے ہوئے انکی تقریر کی تعریف کی خاتون نے شکریہ ادا کیا جس پر مرد سیاسی لیڈر نے مزید بے تکلفی کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ نے جوتا بڑا شاندار پہنا ہے۔ بہت خوبصورت اور قیمتی ہے۔
اُس پر خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا…’’ پھر اُتاروں…‘‘ جس پر پورے کیفے ٹیریا میں قہقہہ پڑا اور لیڈر خاموش ہوگئے
٭…٭…٭…٭
ذوالفقار علی بھٹو بڑے زبردست عوامی لیڈر تھے۔ کراچی کے ایک جلسۂ عام میں کچھ لوگوں نے اپنے جوتے ہاتھوں میں پکڑ کر لہرائے۔ تو بھٹو نے فوراً کہا…’’ ہاں۔ ہاں۔ مجھے پتہ ہے کہ جوتے بہت مہنگے ہوگئے ہیں عام لوگوں کیلئے مشکل ہوگئی ہے کوشش کریں گے کہ جوتے سستے ہوجائیں‘‘۔
ڈاکٹر ارباب غلام رحیم ایک ذہین و فطین سیاست دان ہیں اور مشرف دور میں سندھ کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ جب مشرف دور کے بعد انکا زوال ہوا اور وہ اسمبلی کے اجلاس سے باہر نکلے تو انکے مخالفوں کے ہجوم میں ایک شخص نے اچانک جوتا ہاتھ میں لے کر ارباب رحیم خان کے منہ پر دے مارا ارباب رحیم ہکا بکا رہ گئے۔ تو اس نے دوسرا جوتا بھی ماردیا۔
٭…٭…٭…٭
سکھوں کے مشہور راہنما ماسٹر تارا سنگھ جس نے پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے چبوترے پر تلوار لہراتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ سکھ ہر مسلمان کو کاٹ کر رکھ دیں گے اور پاکستان نہیں بننے دیں گے۔ مگر پاکستان بن گیا اور سکھوں کے وحشیانہ مظالم کے باوجود بھارت سے مہاجرین کے لٹے پٹے اور زخمی قافلے پاکستان آتے رہے۔ یہی ماسٹر تارا سنگھ سکھوں کی سیاسی تنظیم کے سربراہ کی حیثیت سے ایک معاشرتی غلطی کے مرتکب ہوئے تو سکھ پنتھ کے حکم پرتین دن تک زائرین کے جوتے صاف کرتے رہے۔ سکھوں کے ایک اخبار کے مطابق انہوں نے ان تین دنوں میں تیس ہزار سے پچاس ہزار کے درمیان جوتے صاف کئے۔ جس کے بعد انہیں معافی دے دی گئی۔
٭…٭…٭…٭
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد شریف نے کہا ہے کہ جیلوں میں 50فیصد بے گناہ لوگ بند ہیں جیلوں میں بند افراد کو ریلیف بنتا ہوتو فوری دیاجائے۔ہمارے ہاں سسٹم کی اتنی خرابی ہے کہ تھانے اور کلچر کے معاملات نمٹانے کیلئے آدمی کو اگر عمرِ نوح مل جائے تو وہ بھی کم پڑ جائے گی ایک آدمی دس پندرہ سال تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے انصاف کی تلاش میں گھرا رہتا ہے پھر فیصلہ آتا ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔ آخر اسکی زندگی کے یہ قیمتی سال کس کھاتے میں گئے، اسکی صلاحیتیں قیدو بند کی مصیبتیں جھیلتے اور کال کوٹھڑیوں کے چکر لگاتے ختم ہوجاتی ہیں آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ تھانے کا ایس ایچ او جیل کا عملہ ، یا سسٹم کی خرابی۔ ان میں اکثریت اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو پولیس کی دو نمبر کارروائیوں کے باعث جیلوں اور حوالات میں سُکڑتے رہتے ہیں چیف جسٹس کو چاہئے کہ تھانہ کی سطح پر کوئی انصاف کا سسٹم لائیں تاکہ بے گناہ افراد کو حوالات میں ہی چھان بین کرکے رہا کیاجائے ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں