پیر ‘ 21 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 8 ؍ مارچ 2010ء
ـ 8 مارچ ، 2010
خبر ہے کہ ڈنمارک کا گستاخانہ خاکے بنانے والا ملعون ویسٹر گارڈ جل مرا۔
ویسٹر گارڈ کو حکومت کی طرف سے سخت سکیورٹی حاصل ہونے کے باوصف اس بات کا امکان نہیں تھا کہ اس پر کوئی حملہ کرسکتا۔ اب تک کوششیں بسیار کے باوجود آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا اللہ تعالیٰ نے بلاشبہ گستاخ رسولﷺ کو اس دنیا ہی میں عبرت کا نشان بنادیا اور یہ ثابت کردیا کہ وہ اپنے حبیب پاک کے گستاخوں کی خود ہی خبر لے گا حیرانی کی بات ہے کہ ویسٹر گارڈ کے گھر میں لگنے والی آگ صرف اس کے کمرے تک محدود رہی اور بجلی کی وائرنگ سمیت دیگر کوئی چیز اس سے متاثر نہیں ہوئی ڈنمارک حکومت نے ابھی تک ملعون کارٹونسٹ کی ہلاکت کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے براہ راست کاروائی کرڈالی۔ خدا جانے خود کش حضرات کا ایسے ملعونوں کی طرف رخ کیوں نہیں ہوتا۔ 57 اسلامی ممالک میں سے اب تک ملعون ویسٹرگارڈ پر صرف ایک صومالی مسلم نوجوان نے حملہ کیا تھا جو ناکام رہا جبکہ عہد نبوت میں یا اس کے بعد جب بھی کسی نے گستاخی رسولﷺ کی، جانثاران محمد نے بلاتاخیر ایک ہی دن میں اس کی گردن کاٹ کر پھینک دی۔ ڈنمارک کی حکومت نے اس رسوائے زمانہ گستاخ رسولؐ کو ہر طرح کی سہولت اور سکیورٹی فراہم کررکھی تھی لیکن کسی بھی اسلامی ملک نے ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑے، نہ اُن کی مصنوعات کا استعمال چھوڑا مسلم امہ کی یہی بے حمیتی ہے جس کے باعث عیسائی دنیا باؤلی ہو کر اس کے پیچھے پڑ گئی ہے اور چاہتی ہے کہ یہ مسلمان تو کسی طرح بھی ردعمل ظاہر نہیں کرتے لہذا ان کے پیغمبر کی کردار کشی کرنی چاہیے تاکہ ان کو ملیامیٹ کرنے کا کوئی بہانہ مل سکے۔
٭…٭…٭…٭
ممتاز صحافی مجید نظامی نے کہا ہے ہم نے پاکستان میں اسلامی نظام نافذکرکے اسے عالم اسلام کا قلعہ بنانا ہے۔
اسلام کا قلعہ تو یہ آج سے چند برس پہلے بھی تھا مگر پھر امریکہ نے اس میں کلہ ٹھوک دیا اور بھارت اس کیلئے مزید کلے تیار کررہا ہے رہ گئی بات اسلامی نظام کی تو یہاں اسلامی نظام تب نافذہوگا جب دنیا بھر میں کہیں اسلامی نظام نافذ ہو پھر بھی اس گئے گزرے دور میں یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ہم اسلام نافذکرنے کی بات تو کرتے ہیں۔ نظامی صاحب نے سیرت النبی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا تھا مگر افسوس کہ ہم نے کلمہ طیبہ کا استعمال جنازے اور نکاح تک محدود رکھا ہوا ہے سیرت النبی ﷺ کی محفلیں ضرور آراستہ ہونی چاہیے کیونکہ ان کا ذکر ان پر درود ہے مگر حضورﷺ نے جس طرح مکہ سے ہجرت کرکے تھوڑے ہی عرصے میں مدینہ منورہ میں ایک ریاست کی بنیاد ڈال دی تھی اسلام کا قلعہ بھی اسی طرح قائم ہوسکتا ہے۔ مجید نظامی صاحب اسلامی پاکستانی صحافت کے مردآہن ہیں اور تنہا کھڑے دامے دِرمے سُخنے ڈٹے ہوئے ہیں مگر تنہا تو اللہ ہی سب کچھ کر سکتا ہے نظامی صاحب کچھ نہیں کرسکتے البتہ ان کی آواز مکے اور مدینے ضرور پہنچتی ہے اور ملکی صحافت پر اور عوام الناس پر بھی اثر انداز ہوتی ہے ان کے مشوروں پر حکمران کان دھرتے یا سیاست دان توجہ دیتے تو فی الواقع پاکستان اسلام کا قلعہ بن چکا ہوتا۔
٭…٭…٭…٭
حافظ آباد میں خاتون نے رکشہ میں بچی کو جنم دے دیا، یوں لگتا ہے ان دنوں بچے احتجاج کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہسپتالوں کے بجائے رکشوں میں جنم لینے کو ترجیح دیتے ہیں ڈاکٹروں کو بھی اس بات پر تحقیق کرنی چاہیے کہ رکشوں میں ضرور ایسا کوئی میکانزم ہے جو بچے کو جنم دینے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور ہرہسپتال کو ایک ایک رکشہ بھی خرید لینا چاہیے تاکہ زچہ کو ایک چکر دینے سے بآسانی بچے کی ولادت ہوسکے۔ اس خبر کی تفصیل یہ ہے کہ ٹھٹھہ کھوکھراں کی رہائشی زاہدہ بی بی زچگی کیلئے ڈی ایچ کیوD.H.Q ہسپتال داخل ہوئی لیکن حالت تشویش ناک ہونے پر اُسے لاہور ریفر کردیا گیا راستے میں رکشہ پر جاتے ہوئے راجہ چوک میں خاتون نے بچی کو جنم دے دیا پاکستان میںکاکے ناکے ڈاکے عام ہوگئے ہیں تینوں اپنی کارکردگی میں دیر نہیں لگاتے تو وہ کام جو D.H.Q ہسپتال نہ کرسکا رکشے نے کردکھایا اس لئے رکشے والوں کو رکشوں پر لکھ دینا چاہیے کہ بچے کی پُر سہولت پیدائش کیلئے رکشہ کرائے پر لیجئے۔ ہسپتالوں میں جانے سے چھٹکارا مل جائے گا اور خرچہ بھی نہیں ہوگا پاکستان کی آبادی 17 کروڑ ہوچکی ہے اور اس کی مہنگائی بے روزگاری کا گراف اس سے کہیں زیادہ اونچا جارہا ہے اگر بچوں کی پیدائش کی کثرت کا یہی عالم رہا کہ کاکے ہسپتال جانے تک کا بھی انتظار نہیں کرتے اور رستے میں ہی برآمد ہوجاتے ہیں تو کہیے ان کے دودھ کا خرچہ کون پورا کرے گا۔
٭…٭…٭…٭
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے بھارت کو پاکستان کا پانی ہر صورت دینا پڑے گا۔
اس خبر سے تو یوں لگتا ہے کہ پانی کی جنگ سر پر کھڑی ہے اگر بھارت ہمارے جیسی صورت حال سے دوچار ہوتا تو کب کا حملہ کرچکا ہوتا بہر حال یہ ایک اچھی بات ہے کہ قریشی صاحب نے دو ٹوک بات کردی ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا ہے بھارت مذاکرات نہیں چاہتا تو ہمیں بھی جلدی نہیں خدانخواستہ اگر یہ جنگ چھڑگئی تو اس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال خارج از امکان نہیں اس لئے بین الاقوامی برادری کو اس گھمبیر مسئلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ گندم کے ساتھ گھن پس جانے کا بھی اندیشہ ہے کسی قوم کیلئے پانی موت وحیات کا مسئلہ ہوتا ہے اور زندگی پانی سے ہے بھارت یزید کا رول پلے کررہا ہے اور پاکستان کو چاروں جانب سے گھیر کر اس کا پانی بند کئے بیٹھا ہے بعد میں ماتم کرنے کے بجائے ہمیں فی الفور وزیراعظم من موہن سنگھ کو یہ الٹی میٹم بھجوا دینا چاہیے کہ پاکستان کا پانی واگزار کریں وگرنہ ہم پانی کے بغیر مرنے کے بجائے جنگ میں مرنا پسند کریں گے بھارت مذاکرات سے بھی مکر گیا ہے اس کا مطلب تو یہی ہے کہ وہ پاکستان کیلئے ایک ہی آپشن چھوڑنا چاہتا ہے ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں