تازہ ترین:

اتوار‘ 13 صفر المظفر 1433ھ‘ 8جنوری 2012

ـ 8 جنوری ، 2012
صدر نے شیری رحمان کے اعزاز میں ظہرانہ دیا‘ کئی ملکی امور زیر غور آئے‘ زرداری نے کہا‘ خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا‘ نیٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔
شیری رحمان کا ستارہ چہارم آسمان پر ہے کہ زرداری نے انکے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ ملکی امور پر بات چیت کی‘ زرداری نے یہ بھی کہا کہ خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا اور نیٹو کو سپلائی کا فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔ خاتون کو امریکہ میں سفیر لگا دیا‘ وزارت خارجہ کو بھی خاتون کے حوالے کردیا تو اس سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اب امریکہ سے نسوانی تعلقات بحال ہونگے۔
اس ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا لیکن پارلیمنٹ میں نیٹو سپلائی کا معاملہ طے پاجائیگا۔ جب نیٹو نے ہمیں لاشوں کی سپلائی دی اور اب تک ہم اس سپلائی کا جواب سپلائی سے نہ دے سکے تو پھر یہ ساز و سامان کی سپلائی کا مسئلہ پارلیمنٹ میں جانا خودمختاری اور ملکی سلامتی پر سمجھوتے کی راہ نکالنے کے مترادف نہیں؟
یہ پالیسی بہت اچھی ہے کہ حکومت کے اہم عہدوں پر زیادہ سے زیادہ عورتیں تعینات کی جائیں اور مردوں کو مردوّا بنا کر انکے پیچھے پیچھے لگا دیا جائے حالانکہ ایسا تو ہندوﺅں کے نکاح میں بھی نہیں ہوتا۔ شیری کے کان میں جب صدر کی قومی خودمختاری کی صدا پہنچی ہو گی تو شیری زلفوں کو اور پریشان کرکے کہتی ہونگی....
جدوں ہولی جئی لیندا میرا ناں
میں تھاں مر جانی آں وے
٭....٭....٭....٭
سیٹ بک کرالی‘ مشرف 29 جنوری کو دبئی سے اسلام آباد پہنچیں گے۔انہوں نے کہا‘ عدالتوں کا سامنا کروں گا‘ یقین ہے دو تین سماعتوں میں بری ہو جاﺅں گا۔
دبئی کے اخبار میں اشتہار بھی چھپوا دیا ہے‘ ساتھ 134 دیگر افراد بھی پاکستان پہنچیں گے۔ اب یہ تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ سیٹ بک کرالی ہے یا اڈیالہ میں Set بک کرالیا ہے اگر واقعی یہ 29 جنوری سابقہ تاریخوں سے مختلف ہے تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مروت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر ان کو ایوان صدر کے قریب ترین جیل میںرکھیں‘ آخر وزیراعظم نے حقانی کو پہلو میں دبا رکھا ہے اور واشنگٹن میں خارجہ کی ترجمان پھر کہتی ہیں ہمارے حقانی کا خاص خیال رکھیں‘ کیا ایوان صدر میں لے جائیں؟ ویسے مقام تو ان کا وہی ہے۔
”آل پاکستان مسلم لیگ“ اپنی آل بھی دبئی سے پاکستان لا رہی ہے کہ یہاں تو مشرف ہنوز بے اولاد ہے۔ یہ 134 افراد انہوں نے دبئی مارکیٹ سے کتنے میں خریدے‘ یہ تو وہ رسید دکھائیں گے تو معلوم ہو گا۔ گویا یہ افراد دبئی سے دبئی جا رہے ہیں‘ کیونکہ فرد فروشی کی دبئی یہاں پہلے سے موجود ہے۔ اب تو انہوں نے دبئی اخبار میں اشتہار بھی چھپوا دیا‘ اس لئے یقیناً وہ آئینگے اور حب الوطنی کا تقاضہ ہے کہ پھر کبھی نہیں جائینگے۔جیل میں ہی بقیہ زندگی گزاریں‘ خواہ ایوان صدر کے پاس نئی بنانی پڑے۔
دو تین سماعتوں میں بری ہونے کےلئے ضروری ہے کہ امام بری سرکار جائیں‘ وہاں سارے ملنگ سُوٹا لگا کر کہیں گے‘ ”بری بری“ مشرف کی شرافت تو دیکھیں کہ آنے سے پہلے ہی اقبال جرم کر چکے ہیں‘ اسی لئے تو کہتے ہیں بری ہو جاﺅں گا۔ بالکل اسی طرح جیسے مرنے والا کہتا ہے‘ بچ جاﺅں گا۔
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط ”مردِ خر “کی آنکھ ہے نابینا
٭....٭....٭....٭
میاں نواز شریف نے وزیراعظم سے کوئٹہ میں کہا: وزیراعظم بتائیں کہاں تکلیف ہے‘ چھوٹی موٹی مالش ہم کرلیتے ہیں۔
ایک طرف موسیٰ پاک شہید کے مجاور کے فرزند ہیں‘ دوسری جانب جاتی عمرہ کے مالشیئے‘ جوڑ بے جوڑ نہیں۔ میاں صاحب نے چار سال مالش کی ہے‘ تو اب پھر اگر وہی تکلیف نکل آئی ہے تو کیا حرج ہے‘ کاندھے پر کپڑا رکھیں‘ تیل کی بوتل کھولیں اور شروع کر دیں‘ گیلانی صاحب کی مالش۔ لیکن مساج سنٹر والی یا ساحل پر کی جانیوالی مالش نہ کریں کہ وہ دائرہ شریعت سے باہر ہے۔ ویسے گیلانی صاحب قدرتی ذوق رکھتے ہیں‘ یہ میاں صاحب انہیں کیوں غیرفطری ذوق کا عادی بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ میاں صاحب بہت اونچے درجے کے سیاست دان اور نچلے درجے کے مالشیئے ہیں۔ یہ حکمران اور حزب اختلاف کے سیاست دان جو عوام کے سامنے عوام کی تکلیف کی خاطر دست و گریباں رہتے ہیں‘ کیوں عوام کی تکالیف دور کرنے کیلئے انکی مالش نہیں کرتے کیونکہ حکومتی و غیرحکومتی مالشیوں کے پاس تو ”بجلی بھری ہے مورے انگ انگ میں“ کے مصداق ہر درد کا تیر بہدف علاج موجود ہے لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ دشمن ایک دوسرے کا کتنا خیال رکھتے ہیں اور انکے دوستوں پر جو محرومیوں کی بارش ہو رہی ہے۔ اس سے انہیں نہیں بچاتے‘ شاید اسی لئے کہا گیا ہو گا ”دل رابہ دل رہیست“
٭....٭....٭....٭
مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے کہا ہے: زرداری قرآن پاک تو کیا تاج کمپنی بھی سر پر اٹھا لیں‘ اعتبار نہیں۔
زرداری صاحب نے سر پر تاج اٹھا رکھا ہے‘ اس لئے اب واقعی پوری تاج کمپنی بھی سر پر رکھ لیں تو انکی کسی بات کا اعتبار نہیں۔ خواجہ آصف کی ”وکھی“ بہت قیمتی ہے‘ میاں صاحب کو کبھی کبھی انکی وکھی پر ہلکا سا مکہ مارنا چاہیے‘ کوئی نہ کوئی سچی بات نکل ہی آئیگی ورنہ زرداری کو تو ٹرائی سرکل تالہ لگا ہوا ہے‘ انکے اندر سے کوئی راجہ اِندر نکلتا ہی نہیں....
دیکھا بھی دکھایا بھی سنایا بھی سنا بھی
ہے دل کی تسلی نہ نظر میں نہ خبر میں
مستند جھوٹے کی ایک بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ جب جھوٹ بولتا ہے تو اسے خود سچ لگتا ہے‘ یہ روز و شب کے ریاض کا نتیجہ ہے وگرنہ زرداری کا مقام بے اعتباری کیونکر کسی کو حاصل ہو سکتا ہے البتہ ایک سچ انہوں نے بولا تھا کہ بینظیر کے قاتلوں کا ان کو پتہ ہے‘ مگر وہ بتائیں تو ان کا پِتا پانی ہوتا ہے۔ گویا سچ کہہ کر بھی سچ نہ بولا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter