تازہ ترین:

پیر ‘ 23؍ صفر المظفر1431ھ‘ 8 ؍ فروری 2010ء

ـ 8 فروری ، 2010
گورنر پنجاب نے پنجاب حکومت کے بارے میں کہا ہے وہ جھوٹ بولنا بند کردیں میں سچ بولنا چھوڑ دوں گا۔
سچ بولنے والے کی پہچان ہے کہ وہ کبھی منہ سے نہیں کہتا کہ میں سچ بولتا ہوں یہی فارمولا جھوٹ بولنے والے پر بھی لاگو ہوتا ہے گورنر پنجاب کے بارے میں حکومت پنجاب کہہ رہی ہے …؎
گھڑی گھڑی گھڑیال بجاوے
رین وصل دی پیا گھٹاوے
یہاں اس مصرعے میں کہیں غلطی سے لوگ اسے چڑیا گھر کا گھڑیال نہ سمجھ لیں۔ گورنر صاحب طبیعت کے بڑے اچھے ہیں ان کی باتوں میں طنز و مزاح کا رنگ نمایاں ہوتا ہے جس سے مزاح نگاروں کو کافی تقویت ملتی ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کے ساتھ اَکھ مٹکا اور اِیٹ کھڑکالگائے رکھنا گورنر صاحب کا محبوب مشغلہ ہے ان کی وجہ سے رانا ثناء اللہ کے پلازے کا معاملہ خوب نمایاں ہوا مگر وہ وزیرقانون ہیں غیر قانونی کام کیوں کریں گے ویسے بھی وزیراعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ رانا ثناء اللہ میری کابینہ کا قابل ترین وزیر ہے ویسے گورنر صاحب جتنے بڑے گورنر ہائوس میں رہتے ہیں اگر چاہیں تو ایک تاریخی کام کر جائیں کہ گورنر ہائوس کو خواتین کی یونیورسٹی بنا دیں۔ پنجاب حکومت گورنر صاحب کی باتوں کا بُرا نہ منایا کرے ان کے آنے سے تو منہ پر رونق آجاتی ہے اور ان کے جانے سے بھی منہ پر رونق آجاتی ہے۔ ایسی مساوات کسی کسی شخصیت میں ہوتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ نمل یونیورسٹی کے پروفیسر پر رجسٹرار نے تشدد کیا۔ ایوان صدر نے تحقیقات کا حکم دے دیا۔
آج کی دنیا میں جن قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے علم کی اور عالم کی قدر کی ہے مگر ہمارے ہاں شاید ہمارے زوال کا باعث یہ ہے کہ اُستاد کے ساتھ کمیوں والا سلوک کیا جاتا ہے یونیورسٹی کے رجسٹرار بریگیڈئر ریٹائرڈ رانجھا نے پروفیسر طاہر ملک کو 45 منٹ کی گرما گرم بحث و مباحث کے بعد پیٹنا شروع کر دیا۔ طاہر ملک کو بُری طرح پیٹنے کے بعد جب رجسٹرار واپس آئے تو انہوں نے ریکٹر کو بتایا کہ مشن کامیاب رہا۔ ریکٹر نے اس پر شاباش دیتے ہوئے اُس کی پیٹھ تھپکی اگرچہ ایوان صدر کی طرف سے اس واقعہ کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے تاہم حملے میں ملوث یونیورسٹی کے رجسٹرار بریگیڈئر ریٹائرڈ رانجھا کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی یہاں تک کہ ایف آئی آر درج کرانے کی کوششیں بھی لاحاصل رہیں طلبہ نے اس واقعہ پر احتجاج کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ ہمارے ہاں فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد سفید ہاتھی بنا دیا جاتا ہے اور اُن کو بڑے بڑے عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے اگر رانجھا صاحب بریگیڈئر نہ ہوتے تو شاید یہ واقعہ نہ ہوتا۔ صدر آصف علی زرداری اس اندوہناک واقعہ کا سنجیدگی سے سخت نوٹس لیں اور حکم جاری کریں کہ آئندہ کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کو بالخصوص تعلیمی اداروں میں تعینات نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ تعلیمی ماحول میں بھی فوجی کارروائی کرتے ہیں۔ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کو اس واقعہ پر احتجاج کرنا چاہئے اور رجسٹرار کو یونیورسٹی سے فارغ کرنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
استنبول سے ایک صحافی نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ وہاں ہر صحافی پوچھ رہا ہے کہ آپ کے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔
امریکہ نے پاکستان کو اِس قدر بدنام کر دیا ہے کہ پوری دنیا سوال کر رہی ہے کہ کیا کسی ملک میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہر روز دھماکے ہلاکتیں ہوں پاکستان نائن الیون سے پہلے ایک پُرامن اور خودمختار ملک تھا لیکن ایک آمر کی غلطی سے نہ اِس کی خودمختاری باقی رہی اور نہ وقار برقرار رہا آج ترکی میں اگر یہ سوال ہو رہا ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے تو یہی سوال پوری دنیا کی زبان پر بھی ہے کہ آخر ہم نے امریکہ کو اتنی چھوٹ کیوں دے رکھی ہے حالات بتا رہے ہیں کہ یہ صورت حال مزید بڑھتی چلی جائے گی اور پاکستانی قیادت میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ امریکہ کو کم از کم ڈرون حملوں سے تو روک سکیں امریکہ نے اپنی چالاکی سے پاکستانی فوج کو بھی اپنا کام نکلوانے پر لگا رکھا ہے جبکہ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کر رکھا ہے بلکہ حد تو یہ ہے کہ امریکہ پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کر رہا ہے کہ وہ مشرقی سرحدوں سے اپنی فوج واپس بلا لے اور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے استنبول کے صحافیوں کا پاکستان کے حالات پر پریشان کن حیرانی ظاہر کرنا ایک عبرتناک بات ہے جس کا حکومتِ پاکستان کو نوٹس لینا چاہئے اگر نوٹس نہ لیا گیا تو پاکستان امریکہ کی چھائونی بن جائے گا اور وہ اُسے اتنا کمزور کر دے گا کہ بھارت کے سامنے اُس کی حیثیت ایک کالونی کی رہ جائے گی۔
٭…٭…٭…٭
امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے عافیہ کو باقی زندگی جیل میں گزارنا پڑ سکتی ہے سزا 6 مئی کو سنائی جائے گی۔
ڈاکٹر عافیہ پاکستان کی بیٹی ہے مگر یوں لگتا ہے جیسے سوتیلی بیٹی۔ آج پاکستان امریکہ کے لئے جو کچھ کر رہا ہے اُس کا اِتنا بھی فائدہ نہیں ہوا کہ وہ امریکہ پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے دبائو تو کیا مطالبہ بھی کر سکے۔ ایک خاموشی ہے جو حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں اختیار کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ بے گناہ ہے مگر اُس کو بے گناہی کی سزا دی جا رہی ہے پاکستان کے عوام اپنے طور پر احتجاج کر رہے ہیں جس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جا رہا۔ برطانوی ہائوس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر نے اوباما کو خط لکھا ہے اور عافیہ کی رہائی کے لئے تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے امریکی جیوری نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے سزا ہوئی تو امریکہ کے خلاف نفرت اور بنیاد پرستی بڑھے گی۔ افسوسناک حیرانی اس بات پر ہے کہ عالم اسلام اس بے انصافی پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ یہ مطالبہ حق بجانب ہے کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی رہائی تک نیٹو کو سپلائی کی سہولت معطل کر دے۔ لاہور ہائیکورٹ میں امریکی عدالت کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مجرم قرار دینے کے خلاف بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے درخواست دائر کی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو مجرم قرار دلوانے میں پاکستانی حکومت بھی ملوث ہے لہٰذا وزارت خارجہ کے اعلیٰ افسروں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter