مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکرٹری حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ چودھری شجاعت کو پی پی حکومت سے علیحدگی کا کہہ سکتے ہیں۔
آصف علی زرداری نے تو دانہ پھینک کر چودھری برادران کو مفاہمتی جال میں پھنسا لیا تھا لیکن پیپلز پارٹی سندھ کے ارباب و بست کشاد جال میں پھنسے (ق) لیگ کے مگرمچھوں کا سنبھال نہیں پا رہے۔ وہ جال سے باہر نکلنے کی سر توڑ کوشش میں ہیں لیکن مفاہمتی شکاری بھی تو سب پر بھاری ہے نا۔ حلیم عادل شیخ کی علیحدگی کی بات دیوانے کی ”بڑ“ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ جہاں قاتل اور مقتول کے فرق کو ختم کرکے اقتدار کو سرکس کا شو بنا دیا گیا ہو‘ جہاں اولاد کی خاطر باپ دادا کی ”پَگ“ کو سربازار تار تار کر دیا ہو‘ وہاں حلیم شیخ جیسوں کو کون گھاس ڈالتا ہے؟ اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے استاد امام دین گجراتی کو اگر آج زندہ ہوتے تو گجرات کے چوکوں‘ چوراہوں میں چودھری برادران کا ایسا ”توا“ لگاتے کہ انکی سات نسلیں یاد رکھتیں۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حادثاتی طور پر جنم لینے والی (ق) لیگ تتربتر ہو رہی ہے۔ چودھری شجاعت حسین کی قیادت کا ٹائی ٹینک ڈوبنے والا ہے اور بہت جلد چودھری شجاعت کالا چشمہ لگائے میڈیا کے سامنے گویا ہونگے....
اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
کہ ہم سے قافلے منزل پہ لٹوائے نہیں جاتے
اس سے قبل کہ جگری یار بھی منہ موڑ لیں‘ چودھری برادران کو جاتی عمرہ پہنچ جانا چاہیے اور بڑے میاں صاحب کو بھی حیل و حجت کے بجائے آگے بڑھ کر پرانے یاروں کو سینے سے لگا لینا چاہیے۔
٭....٭....٭....٭
مولانا فضل الرحمان کی صدر زرداری سے ملاقات کے بعد دینی سیاسی اتحاد کیلئے کوششیں پھر رک گئیں۔
مولانا کی ایک ٹانگ اقتدار میں ہے اور دوسری دینی جماعتوں کے اتحاد کی طرف‘ دو کشتیوں میں سوار آدمی ڈوبتا ہی ہے لیکن بھاری جثہ والے مولانا بہت سوں کو لے کر ڈوبیں گے کیونکہ....ع
ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ تم کو بھی لے ڈوبیں گے
سترہویں ترمیم کو پاس کروانے اور مشرف کے صدارتی انتخاب کے وقت خیبر پی کے کی حکومت کو ختم نہ کرنےوالے مولانا سے دینی جماعتوں کے رہنماﺅں کو کسی خیر کی امید ہے؟ گھبرانے کی بات نہیں‘ اگر سیاسی اتحاد نہیں بنتا‘ مسجدوں سے تو کوئی نہیں نکالے گا۔ اقتدار میں آنیاں اور جانیاں دیکھ کر مولانا کے کرم فرما بھی یہی کہتے ہیں....
تیرے وعدے پر جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
مولانا نے جہاں یاری لگائی ہے‘ وہاں تو رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ وہ تو بڑوں بڑوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کر چکے ہیں۔ سارے مولوی بھی ایک دسترخوان پر نہیں بیٹھ سکتے‘ کوئی سیاسی سہارا تلاش کرتا ہے تو کوئی ڈیزل اور پٹرول کو مطمح نظر بناتا ہے۔ ووٹوں کے وقت مسکینوں کا لبادہ اوڑھ کر یوں آدھمکتے ہیں‘ جیسے زم زم سے غسل کرکے آئے ہوں۔ پنجابی کہاوت ہے: ”دونوں دین سے گئے پانڈے‘ حلوہ ملا نہ مانڈے۔“ (یعنی جو بہت لالچ کرے اسے کچھ بھی نہیں ملتا۔
٭....٭....٭....٭
اتحادیوں کو پاکستان سے ”پنگا“ مہنگا پڑ گیا‘ پٹرول 10 ہزار روپے لیٹر میں پڑنے لگا۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
اگر ہمارے حکمران ڈٹے رہے تو امریکیوں کو ”نانی“ یاد آجائیگی۔ انہوں نے شہد کی مکھیوں کے چھتے پر پتھر پھینکا ہے‘ اب انکی جان گلے میں اٹکی ہوئی ہے۔ نزاع کا وقت طاری ہے۔ پٹرول 10 ہزار روپے لیٹر سے ایک لاکھ تک جائیگا‘ لیکن پاکستان کی تھوڑی سی استقامت کی ضرورت ہے۔ اب تو پچھتا رہے ہیں کہ یہ پنگا کیوں لے بیٹھے ہیں۔ جب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ افغانستان کا حل پاکستان سے ہو کر جاتا ہے‘ پھر امریکہ کو اتنی بہادری دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ بون کانفرنس میں شرکت کیلئے اوباما نے فون کرکے جوئے کے طور پر آخری کارڈ کھیلا لیکن وہ بھی کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ اگر بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو وہ تیلی جلانے سے باز تھوڑا ہی آئیگا۔ اوباما میں بندر کی مشابہت کےساتھ تمام خصلتیں بھی پائی جاتی ہے۔مگر ہمارے صدر محترم کو دوبئی کے ہارٹ ہاسپٹل میں داخل ہونا پڑا اور وہ بھی ایمولینس جہاز پر جاکر۔ وہ امریکی عوام کو تبدیلی تو نہیں دے سکا لیکن امید ہے کہ اس دفعہ امریکی عوام اسے تبدیل کر دینگے۔ طالبان آجکل بپھرے شیر کی طرح امریکیوں پر حملہ آور ہو رہے ہیں دیکھیں امریکہ لومڑی کی طرح دم دبا کر کب بھاگتا ہے۔
٭....٭....٭....٭
اداکارہ ثناءشوٹنگ کیلئے بھارت پرواز کرینگی جبکہ اداکارہ حیاءکو بھی بالی وڈ فلم میں کردار مل گیا۔
ہماری اداکاراﺅں کو یہاں کیا کم عزت ملتی ہے جو بھاگ کر بھارت جاتی ہیں؟ سٹیج ڈراموں میں وہ سب کچھ کر سکتی ہیں‘ جو بھارت میں منہ پر کالک ملتی ہیں۔ وینا ملک کو ببرک شاہ‘ کرکٹر آصف جیسے کیسے کیسے دوست ملے تھے لیکن اس نے دشمن کی سرزمین پر جا کر غیرت کا جنازہ نکالا۔ اب ثناءاور حیاءبھی اس راستے پر چل کھڑی ہوئی ہیں۔ دیکھیں کیا گل کھلاتی ہیں۔ انکو وطن کی تب یاد آتی ہے‘ جب سر سے پانی گزر چکا ہوتا ہے۔ درحقیقت عشق اور پیسہ ایسی بیماریاں ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔ بقول شاعر....
عشق نے سیکھ ہی لی وقت کی تفریق کہ اب
وہ مجھے یاد تو آتا ہے مگر کام کے بعد
ان شمعوں کو اپنے ہی ملک میں جلنا چاہیے تاکہ ہر سو پروانے اڑ کر یہاں پر ہی اجل کو گلے لگائیں۔ بہرحال حکومت کی خدمت میں یہی گزارش ہے کہ....
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہو گا