اتوار ‘26 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘ 8 ؍ اگست 2010ء

ـ 8 اگست ، 2010
ہمارے ایک نامہ نگار گوہر علی گوہر نے مردان سے لکھا ہے‘ ضلع مالاکنڈ کے ہیڈکوارٹر بٹ خیلہ میں تین دن تک سیلاب میں پھنسے ہوئے شیرمحمد گجر اور انکے چار بیٹوں کو اللہ تعالیٰ نے تین دن تک ایک درخت پر نہ صرف محفوظ رکھا‘ بلکہ نعمتوں سے بھی نوازا۔ شیر محمد گجر نے اپنے بیٹوں سمیت درخت پر تین دن گزارے‘ پہلے روز گیارہ بجے تک ان کا اپنے گھر والوں سے ٹیلی فونک رابطہ برقرار رہا‘ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے پہلے دن انہوں نے قریب سے گزرنے والے ایک کولر کو پکڑ لیا جو صاف پانی سے بھرا ہوا تھا‘ دوسرے روز پانی میں ایک پریشر ککر بہتا ہوا آرہا تھا‘ کھول کر دیکھا تو وہ پکے ہوئے لوبیا سے بھرا ہوا تھا‘ اسکے علاوہ درخت کے قریب سے گزرنے والے سیب اور آڑو بھی پکڑ پکڑ کر کھاتے رہے۔ جبکہ مختلف مشروبات کی بوتلیں بھی انکے ہاتھ لگتی رہیں اور وہ پیتے رہے۔ تین روز تک درخت پر صحیح سلامت رہنے کے بعد پاک آرمی کا ہیلی کاپٹر آیا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
اس واقعہ میں صاحبان عقل کیلئے بڑی نشانیاں ہیں‘ جسے اللہ بچانا چاہتا ہے‘ ان کیلئے اسکی مہمانداری بھی شاندار ہوتی ہے اور جن کی اجل آئی ہوتی ہے‘ وہ اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں مگر ہمارا یہ فرض ہے کہ ڈوبتوں کو بچائیں‘ انکی مدد کریں‘ ان کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کریں‘ بہرحال شیر محمد گجر اور اسکی فیملی کیلئے یہ رزق کسی من و سلویٰ سے کم نہیں تھا۔
٭…٭…٭…٭
برطانوی مسلمانوں کیلئے مس وارثی کے بعد دوسرا تحفہ!پاکستانی نژاد 36 سالہ غزن محمود نے برطانوی سپریم کورٹ کے کم عمر ترین جج بننے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
ہمارے ہاں سپریم کورٹ آزاد ہو رہی ہے اور برطانیہ میں سپریم کورٹ مسلمان ہو رہی ہے‘ اگر برطانوی مسلمانوں کی یہی رفتار رہی تو کیمرون کی ہرزہ سرائی کا جواب اور کوئی تو نہ دے سکا‘ البتہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی ترقی کرتے کرتے عملی جواب دیتے جائیں گے۔ یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہمارے ایک جواں سال پاکستانی غزن محمود نے برطانیہ کی سپریم کورٹ کا جج بن کر نہ صرف پاکستان کا نام اونچا کیا ہے بلکہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں سے زیادہ لائق اور جرأت مند عام پاکستانی ہیں جن میں سے انشاء اللہ وطن عزیز کو جرأت مند غیرت مند قیادت بھی نصیب ہو گی۔ ہمیں غزن محمود پر فخر ہے اور انہیں اس ترقی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ وطن کی کیا بات کریں‘ یہاں تو یہ صورتحال ہے کہ…ع
زاغوں کے تصرف میں ہیں عقابوں کے نشیمن
صلاحیت اور قومی حمیت دو ایسے عناصر ہیں‘ جن کی آج ہمیں ضرورت ہے‘ اگر حکمران خود جرأت رندانہ نہیں رکھتے تو کم از کم عوام میں جو جوہر قابل ہیں‘ ان کو سامنے آنے کا موقع دیں‘ یہ ان کا قوم پر بڑا احسان ہو گا۔
وزارت ریلوے خیبر پختونخواہ میں خودکش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کے بعد وفاقی وزیر ریلوے غلام احمد بلور کے پشاور سے راولپنڈی اور لاہور تک خصوصی سیلون پر سفر کیلئے منفرد طرز کے حفاظتی اقدامات کرلئے ہیں اور پشاور سے لاہور آنیوالی خیبر میل کے آگے ایڈوانس سیکورٹی انجن چلانا شروع کر دیا‘ ان اقدامات پر دس لاکھ روپے فی دورہ اضافی اخراجات آتے ہیں۔
اس کو کہتے ہیں دمڑی کی بڑھیا‘ ٹکہ سر منڈائی‘ غلام احمد بلور کا فرمانا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے نہیں ڈرتے‘ اسی لئے تو چودہ ٹرینیں بند کرکے‘ خسارے میں چلنے والے ریلوے پر جب سفر کرتے ہیں تو قومی خزانہ بہت Suffer کرتا ہے۔ پاکستان کے تمام اداروں میں سے سب سے بڑے خسارے کا اعزاز ریلوے کو حاصل ہے‘ اسی لئے تو منافع کمانے کیلئے حاجی صاحب دس لاکھ روپے فی دورہ خرچ کرتے ہیں اور ہر ماہ ایسے پانچ دورے کرتے ہیں۔ اس جفاکشی اور حسن کارکردگی کے نتیجے میں اللہ نے چاہا تو باقی جو تین چار ٹرینیں رہ گئی ہیں‘ وہ بھی بند ہو جائیں گی اور خسارہ سو فیصد ہو جائیگا تو ریلوے تباہ حاجی بلور صاحب دہشت گردوں سے محفوظ باقی رہ جائیں گے اور وہ ممکن ہے وزیر ٹرانسپورٹ لگ جائیں اور سڑکوں پر سے بسیں بھی غائب ہو جائیں۔ حاجی صاحب نہایت متقی وزیر ہیں‘ وہ خیبر پختونخواہ کے پختون ہیں‘ اس لئے خودکشوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوتے۔
٭…٭…٭…٭
نیو یارک میں ایک دوسرے کے کان کھینچنے کا مقابلہ (Pulling Ear) منعقد ہوا‘ اس کھیل میں دو افراد کے کانوں کو رسی سے باندھ دیا جاتا ہے‘ ریفری کے اشارے پر جانبین ایک دوسرے کے کان کھینچنا شروع کر دیتے ہیں جس کی رسی اتر جائے یا وہ جھک جائے‘ ہار جاتا ہے اور فریق ثانی فاتح کہلاتا ہے۔
کان کھینچنے کا مقابلہ ہمارے ہاں بھی ہوتا ہے مگر ذرا وکھری ٹاپ سے‘ بالعموم پرائمری سکولوں کے اساتذہ کرام معصوم بچوں کے کان کھینچنے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور لمبے کانوں والے تعلیم یافتہ افراد پیدا کرتے ہیں۔ بعض اساتذہ صرف کان کھینچتے ہی نہیں‘ انہیں توڑتے بھی ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے کن ٹٹے لیڈر بھی پیدا ہوتے ہیں۔ بس کان کھچ استادوں کو نیویارک Pulling Ear مقابلے میں ضرورلے جایا جائے تاکہ انہیں بھی معلوم ہو کہ کان کھنچوانے میں کس قدر لطف تا ہے۔
ہمارے ہاں لیگ پلنگ یعنی ٹانگ کھینچنے کا بھی بڑا رواج ہے‘ اس کا مقابلہ اکثر دفاتر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر اس کو صرف دل کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے‘ کیونکہ ٹانگ بڑے راز دارانہ انداز میں کھینچی جاتی ہے۔ اس عمل سے ٹانگ تو نہیں ٹوٹتی‘ البتہ کمر ضرور ٹوٹ جاتی ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter