اتوار ‘ 20 ؍ ربیع الاوّل 1431ھ‘ 7 ؍ مارچ 2010ء
ـ 7 مارچ ، 2010
خبر ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھوک لگتی ہے‘ نہ نیند آتی ہے۔
جسٹس افتخار پاکستانی قوم کا مایۂ افتخار ہیں‘ اسی لئے وہ پاکستانی شردھالوئوں پر بھار ہیں‘ ایک ایسا شخص جسے راتوں کو نیند نہیں آتی اور جسے بھوک نہیں لگتی‘ اسکی وجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ قوم کے درد میں جاگتا اور کھانے کی جگہ غم کھاتا ہے۔ یہ بڑی عبرتناک بات ہے کہ آج قوم کی نظریں عدل و انصاف کیلئے حکومت پر نہیں جسٹس افتخار پر جمی ہوئی ہیں‘ سابق آمر نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ذریعے ان کی سرعام توہین کی اور خداجانے انہیں بند کمرے میں بلایا تو انکے ساتھ کیا کچھ کیا ہو گا‘ مگر اس کج کلاہ عدل نے نہ تب سر جھکایا نہ اب سرجھکایا‘ سچ تو یہ ہے کہ آج حکمرانی کوئی کر رہا ہے اور حکومت جسٹس افتخار چلا رہا ہے۔ اس لئے کہ وہ دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کی خاطر بھی ازخود نوٹس لیتا ہے۔
جسٹس جاوید اقبال کے یہ جملے ہماری تاریخ عدل کے سنہری حروف ہیں کہ ہمارے چیف جسٹس تو مردِ آہن ہیں‘ نہ انہیں بھوک لگتی ہے اور نہ ہی نیند آتی ہے۔ دس سال سے میں نے ان کی معیت میں ایک دن کی چھٹی بھی نہیں لی اس لئے کہ اسکو چھٹی نہ ملی‘ جس نے سبق یاد نہ کیا۔ عدلیہ میں سے ایک مرد مجاہد کے سامنے آنے سے پوری عدلیہ کے افراد اگر مرد مجاہد نہیں بنے لیکن جہادِ عدل کیلئے تیار ہیں۔ مرد آہن ایک بھی ہو پوری امت جنم دے دیتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں بڑے طویل عرصے سے علی بابا اور چالیس چور کی مثل مشہور ہے حالانکہ یہ ایک الف لیلوی کہانی ہے جس میں علی بابا چوروں کے سردار نہیں‘ ایک شریف آدمی ہیں اور انکی ایک لونڈی ہے جس کا نام سرجینا ہے۔ یہ لونڈی نہایت وفادار ہے اور اپنے مالک کے مال اور گھر کی حفاظت جان پر کھیل کر کرتی ہے اور وہ چالیس چور جو ہر وقت علی بابا کی دولت لوٹنے کی تاک میں رہتے ہیں‘ مرجینا اپنے مالک کی دولت بچانے کیلئے ایک کھیل کھیلتی ہے‘ ان چالیس چوروں کو چالیس دیگوں میں چھپا کر ان پر ابلتا ہوا تیل ڈال دیتی ہے۔ جس سے چالیس کے چالیس چور ہلاک ہو جاتے ہیں مگر حیرانی یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اور صاحب علم حضرات اپنی تحریروں‘ تقریروں میں علی بابا کو چوروں کا سردار اور چالیس چوروں کو انکا ساتھی ثابت کرکے اپنے حریفوں پر چوٹ لگاتے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ چودھری افتخار اصلی والے علی بابا ہیں اور انکے آس پاس کوئی ضرور مرجینا جیسا شخص ہے جس نے آٹھ ہزار آٹھ سو چوروں کو کھیل ہی کھیل میں چالیس دیگوں میں ڈال دیا ہے۔ مگر ابھی تک ان پر گرم گرم تیل نہیں ڈالا‘ شاید اسکو انتظار ہے کہ تیل ڈالنے کا فریضہ خود جسٹس صاحب ہی ادا کرینگے۔ ہماری ان تمام حضرات سے درخواست ہے کہ جو علی بابا کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں‘ آئندہ ایسا نہ کریں اس سے ہماری داستان گوئی کی تاریخ مسخ ہوجاتی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے ملازمت سے جبری برطرفی ختم کرکے بل پر دستخط کردیئے اور انہوں نے کہا کہ مزدور کسان اب نوکر نہیں پارٹنر ہونگے۔
ملازمت سے جبری برطرفی ختم کرنے کے بل پر دستخط کرکے صدر نے ایک قدیم جبر کو ختم کر دیا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ مزدور‘ کسان اب نوکر نہیں‘ پارٹنر ہونگے‘ ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو چیلنجوں کا سامنا ہے‘ اس لئے اندرونی طور پر کسی تنازعہ میں الجھنا نہیں چاہئے بلکہ مزدور‘ کسانوں اور ملازم پیشہ لوگوں کے ساتھ ایک عرصہ سے ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ صدر نے ان طبقوں کیلئے جس بل پر دستخط کئے ہیں‘ وہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے کہ ہم اندرونی تنازعات اور خلفشار سے بچنا چاہتے ہیں۔
زرداری صاحب کچھ عرصہ سے مرد حر کے منصب سے معطل رہے مگر اب لگتا ہے کہ وہ پھر سے اس پر بحال ہو گئے ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ پاکستان اندرونی رکاوٹوں کا متحمل نہیں ہو سکتا‘ اس لئے کہ بیرونی سپیڈ بریکر ہی کافی ہیں‘ ان کی اولین توجہ کا مستحق ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ بھارتی زیادتیوں کا نوٹس لیں‘ بھارت پاکستان کا پانی روک رہا ہے اور مذاکرات پر اس طرح کے بیانات دے رہا ہے کہ شاید وہ پاکستان کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اس سے مذاکرات کئے جائیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ان دنوں جس تندہی کے ساتھ ملک کی ترقی کیلئے اصلاحی اقدامات کر رہے ہیں‘ اس سے یہ بات فضاء میں خوب گونجے گی‘ پاکستان کھپے۔ پاکستان کھپے۔
٭…٭…٭…٭
پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے‘ بھارت ایٹمی جنگ کی تیاری کر رہا ہے‘ جامع مذاکرات سے انکار سمجھ سے بالاتر ہے۔
اگر بھارت کے معاملات ہمارے سیکرٹری خارجہ کی سمجھ سے بالاتر ہیں تو کوئی ایسی سمجھ انکی جگہ لانی چاہئے جو بنیے کی کارروائیوں کو سمجھے اور ایک ایسی خارجہ پالیسی وضع کرے جس سے بھارت کو نانی یاد آجائے۔ ہم ایٹم بم کی رٹ لگائے رہتے ہیں اور بھارت پاکستان سے ایٹمی جنگ کی تیاری کر رہا ہے‘ کہنے میں اور تیاری کرنے میں سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کو فرق سمجھ لینا چاہئے۔ یا یہ بھی انکی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم جو سوچتے ہیں‘ بھارت اس پر عمل شروع کر چکا ہوتا ہے اور ہماری سوچ بالا سے بالاتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ بھارت کا اس بات پر ضد کرنا کہ کسی ایک نقطہ پر مذاکرات ہو سکتے ہیں‘ جامع مذاکرات نہیں کر سکتے‘ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کشمیر کے معاملے کو خارج از بحث سمجھتا ہے۔
پاکستان کو بھی اب بھارت کیخلاف نعرہ بازی اور اسکے نقائص ڈھونڈنے کے بجائے اس جنگ کا مقابلہ کرنے کی تیاری کرنی چاہئے جس کی بھارت شروعات کر چکا ہے۔ تلخ باتوں یا جگتوں سے بھارت کا کچھ نہیں جائیگا‘ بھارت کو ہماری طرف سے اب ایک ضرب کی ضرورت ہے‘ جو ماضی کی تاریخ سے عیاں ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں