تازہ ترین:

بدھ ‘24 ؍ رجب المرجب1431ھ‘ 7 ؍ جولائی 2010ء

ـ 7 جولائی ، 2010
ایشوریہ کو کامن ویلتھ گیمز کی افتتاحی تقریب میں ڈانس کیلئے چار کروڑ مانگنے پر تنقید کا سامنا ہے۔
کیا عجب بات ہے کہ ایک ستارے کے ستارے گردش میں ہیں اور اس گردش کے پیچھے لالچی سسرال کارفرما ہے وگرنہ حسن تو فیاض ہوتا ہے‘ اپنی نمائش کیلئے پیسے نہیں مانگتا۔ اگرچہ ایشوریہ بنیادی طور پر ڈانسر نہیں مگر ان کا چہرہ انہیں نچواتا ہے اور کروڑوں پاتا ہے۔ پچھلے دنوں سے ایشوریہ رائے مختلف قسم کے مسائل کا شکار ہیں‘ انکی فلم راون ناکام ہوئی‘ پاسپورٹ انٹرنیٹ پر سکین ہو گیا۔ انہوں نے کامن ویلتھ گیمز میں ڈانس پر پرفارمنس کیلئے چار کروڑ مانگے تھے جس کیلئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ کامن ویلتھ گیمز کیلئے حاصل کردہ رقم ٹیکسوں کی وصولی سے حاصل کی جاتی ہے۔ ایشوریہ حسن کی ملکہ ہے‘ فن کی نہیں‘ اسکے باوجود انہیں پرفارمنس میں گھسیٹا جاتا ہے۔ کامن ویلتھ کو اگر گیارہ منٹ کا ڈانس ہی کرانا تھا تو بے چاری نرگس کو ڈانس پرفارمنس کیلئے بلالیا جاتا کیونکہ یہ اداکارہ ہیں اور رقاصا بھی‘ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا حسن بھی سمارٹ نہیں رہا‘ شاید واقعی ستارے ان سے روٹھ گئے ہیں۔ ابھیشک اور امیتابھ بچن کی آنکھوں میں بھی ایشوریہ کے بجائے کروڑوں روپے نظر آتے ہیں‘ ایشوریہ کو چاہئے کہ بھلے وقتوں میں ریٹائرمنٹ لے لے اور اپنی گود ہری ہونے دے اور پھر ہری رام‘ ہری رام کرے رام بھلی کریگا۔
٭…٭…٭…٭
حکومت پنجاب کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنماء راجہ ریاض نے کہا ہے‘ چیف جسٹس ہائیکورٹ استعفیٰ دے کر الیکشن لڑیں۔ ’’مانو‘‘ پہلوان مقابلہ کریگا‘ پیپلز پارٹی نے جسٹس خواجہ شریف کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
آجکل راجہ ریاض بہت ریاض کر رہے ہیں حالانکہ الیکشن کشتی انکے ’’مانو‘‘ پہلوان نے لڑی ہے‘ ویسے انکی ڈیل ڈول سے لگتا ہے کہ کہیں مانو پہلوان وہ خود تو نہیں ہیں؟ وہ چیف جسٹس کو ایکشن کا چیلنج دیتے ہوئے جوشِ جذبات میں یہ بھی بھول گئے کہ چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قانوناً دو سال تک الیکشن نہیں لڑ سکتے‘ راجہ ریاض اگرچہ زرداری کے ایاز ہیں‘ تاہم وہ پیپلز پارٹی کیلئے بیانات کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ ویسے انہیں شکر ادا کرنا چاہیے کہ جس وزارت کیلئے انہوں نے مسلم لیگ (ق) کے دور سے کوششیں شروع کی تھیں‘ وہ اب (ن) کے دور میں جا کر پوری ہو گئی ہیں۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ کے منہ سے سادگی میں ایک سچا جملہ کیا نکل گیا کہ عدلیہ کی تذلیل پر کمربستہ پیپلز پارٹی نے اسے افسانہ بنا دیا۔ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عادلانہ حیثیت سب پر واضح ہے‘ کسی جج کے کسی سیاسی خاندان سے دشمنی تو ضروری نہیں‘ آخر جج بھی اسی معاشرے میں رہتے ہیں اور انکے جج بننے سے پہلے بھی کسی سیاسی خاندان کے ساتھ تعلق ہو سکتے ہیں‘ بس خواجہ صاحب سے یہی بھول ہو گئی کہ انہوں نے اس تعلق کا اظہار برملا کر دیا۔ پیپلز پارٹی کے سارے لیڈر ’’مانو‘‘ پہلوان ہیں‘ اسلئے کہ وہ امریکہ کی ہر بات مانتے چلے آرہے ہیں‘ اس کیخلاف بھی تو ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی بظاہر عدلیہ کے احترام کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اور اندر ہی اندر اسکے مقابلہ کیلئے ’’مانو پہلوانوں‘‘ کو تیار کر رہی ہے۔
٭…٭…٭…٭
نیویارک ٹائم نے خبر دی ہے کہ جنوبی وزیرستان اور سوات میں دوبارہ کارروائی کیلئے پاکستانی فوج پر دبائو بڑھایا جا رہا ہے۔
دبے ہوئے حکمرانوں پر امریکہ کو دبائو بڑھانے کی کیا ضرورت ہے‘ امریکہ حکم دے تو جنوبی وزیرستان اور سوات میں پاکستانی فوج دوبارہ کارروائی بھی کر سکتی ہے۔ ایک طرف ہمیں یہ دکھایا جا رہا ہے کہ سوات میں امن کے جشن منائے جا رہے ہیں اور اب وہاں دہشت گردی یا دہشت گردوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ مگر واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج کو اپنے کام میں اپنے لئے مصروف کار رکھے اور جہاں امن ہو گیا ہو‘ وہاں پھر سے بدامنی شروع کر دی جائے‘ ہم پورے وثوق کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری حکومت امریکہ کی اس تمنا کو پورا کرنے میں دیر نہیں لگائے گی‘ اس لئے کہ اسکے ہاں اندھیر ہے دیر نہیں۔
پیپلز پارٹی کی حکومت اور بالخصوص آصف علی زرداری اپنی ادائوں پر کچھ غور کریں‘ اس لئے کہ اہل وطن جان سے جاتے ہیں اور یہ انکی ادا ٹھہرتی ہے۔ امریکہ کی غلامی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا قائم رہنا پوشیدہ ہے‘ یہی وہ مجبوری ہے جس نے پیپلز پارٹی کو امریکہ کا غلام بنا کر کھ دیا ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اور جنوبی وزیرستان اور سوات میں دوبارہ کارروائی کیلئے ہماری فوجی قیادت انکار کر دیگی‘ اگرچہ فوج حکومت کے تابع ہوتی ہے مگر تابعداری جب قوم کی بربادی بن جائے تو اس کو چھوڑنا اچھا۔
امریکہ ہم پر دبائو بڑھا رہا ہے اور افغانستان میں بھارت کا پھیلائو بڑھا رہا ہے‘ اور اب تو وہ چاہتا ہے کہ وہ افغانستان چھوڑ کر جائے تو افغانستان میں اپنی جانشینی کا منصب بھارت کو سونپ جائے۔
٭…٭…٭…٭
ہائیکورٹ نے ماں بیٹی کو برہنہ کرکے تشدد کرنے کے واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا۔
پنجاب پولیس کی ذہانت کے کیا کہنے کہ انہوں نے کیسی دلچسپ دلیل دی ہے کہ جن پر و ہ تشدد کرتے ہیں‘ وہ تشدد کا ڈھونگ رچاتے ہیں جبکہ پولیس معصوم ہے‘ پولیس کی تو اب یہ حالت ہو چکی ہے کہ اگر وہ قرآن کی تلاوت بھی کرے تو لوگ یہی سمجھیں کے گیتا پڑھ رہے ہیں۔ پولیس اب بدنام نہیں رہی‘ بدکام ہو گئی ہے اسی لئے اسکی دلیلیں کچھ کام نہ آئیں۔ اگر پولیس تشدد کے نئے نئے طریقے ایجاد نہ کرتی تو اس طرح کے تشدد کا موقعہ نہ ملتا کہ ماں بیٹی کو برہنہ پیٹا جائے‘ جب ماں بیٹی میڈیا پر بار بار اپنے پھٹے ہوئے کپڑے دکھا رہی تھیں‘ یوں لگتا تھا کہ ساری قوم کی بیٹیاں برہنہ کر دی گئی ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد کو برسر عام عبرتناک سزا نہیں دی جاتی وگرنہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ ظاہر ہے ایسا مکروہ کام وہی کر سکتے ہیں‘ جو علاقہ کے بااثر اور زیر احسان ہوتے ہیں۔ ہائیکورٹ لاہور نے اگر ازخود نوٹس لے ہی لیا ہے تو اس کو نشانِ عبرت فیصلہ بنا دے تاکہ آئندہ بااثر لوگ بے اثر غریبوں پر مظالم نہ ڈھا سکیں‘ اگر پولیس واقعی پولیس ہوتی تو یہ واقعہ پیش ہی نہ آتا‘ ازخود نوٹس کا مطلب تو یہ ہے کہ پولیس کا کام بھی عدلیہ کو کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter