تازہ ترین:

منگل 7 جولائی 2009 ء

ـ 7 جولائی ، 2009
ایک اخباری اطلاع کیمطابق وزیراعظم وزارت بجلی کے حکام پر برس پڑے‘ جنہوں نے سب اچھا کی تصویر اور غلط اعداد و شمار پیش کئے۔ صورتحال میں بہتری کیلئے چھ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی۔
وزیراعظم نے اگر بجلی کے بحران کا نوٹس لے ہی لیا ہے تو اب اس اہم ترین فریضے کو کماحقہ ادا بھی کریں۔ آج تک کسی حکمران نے واپڈا کے معاملات میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی‘ اگر اس طرف توجہ دی جاتی تو کالاباغ ڈیم بن گیا ہوتا‘ سب اچھا کی رپورٹ پر اکتفا کرنیوالے حکمرانوں نے دانستہ اس محکمہ کو تباہ کیا۔
اگر سب اچھا کی تصویر پر اکتفا نہ کیا گیا ہوتا تو آج اس ملک میں اتنی بدترین اور لمبی چوڑی لوڈشیڈنگ نہ ہوتی۔ وزیراعظم کام کر رہے ہیں اور مزید کام کرنا چاہتے ہیں مگر انکی راہ میں بھی کئی رکاوٹیں ہیں۔ وہ نعرہ مستانہ لگا کر ان روایتی بندھنوں کو توڑ سکتے ہیں۔ اس وقت بجلی کا بحران حکومت کی ساکھ کیلئے زہر ہلاہل بنتا جا رہا ہے اور عوام الناس کا حکومت کے بارے میں تصور مخدوش ہوتا جا رہا ہے۔ اگر وزیراعظم بجلی کے بحران پر ہی تین چار مہینوں میں قابو پالیں تو پورے ملک میں انکی بلے بلے ہو جائیگی۔ کالاباغ ڈیم آواز دے رہا ہے کہ کوئی حکمران مجھے شروع کرکے خود کو قوم کی آنکھوں کا تارا بنالے۔ کالاباغ ڈیم ہرگز سیاسی نہیں مگر اسے سیاست کی نذر کرکے ملک کو بجلی پانی سے محروم کیا جا رہا ہے۔
٭…٭…٭…٭
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں مشرف دور سے بھی بدتر حکومت قائم ہے۔
خان صاحب کی باتیں تو عوام کے دل کی آواز ہوتی ہیں مگر وہ ہنوز میدان سیاست میں اس طرح نہیں اترے جیسا کہ حق ہے اور جیسی توقعات لوگوں کی ان سے وابستہ ہیں‘ خان صاحب ہزار اختلاف کریں‘ یہ ان کا استحقاق ہے لیکن وہ اس حد تک تو مانیں گے کہ ملک میں جیسی بھی ہے‘ جمہوریت قائم ہے اور امریکہ کو سابقہ آمر یاد آنے لگا ہے کیونکہ اب اس طرح بھی نہیں کہ حکومت مکمل طور پر امریکہ کے نیچے لگ گئی ہے۔ کہیں نہ کہیں صدر صاحب اور وزیراعظم بول ہی پڑتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کو توڑنے کے چکر میں ہے اور اس کیلئے امریکہ نے جو منصوبہ بنایا ہے‘ وہ ہمارے سویلین اور عسکری دونوں قیادتوں نے سمجھ لیا ہے مگر وہی بات کہ…ع
مگر مجبوری پھر مجبوری ہے
قوم اپنے قائد کی تلاش میں ہے۔ عمران خان صاحب لوگوں کو پسند ہیں‘ مگر انکی بدقسمتی ہے کہ وہ خان صاحب کو برسر اقتدار نہیں لاتے۔
یہ جتنے حکمران سیاست دان ہیں‘ سارے کے سارے آزمائے ہوئے ہیں۔ امریکہ سے بہتر تعلقات اپنی جگہ مگر اسے پاکستان کو شارع عام سمجھنے کی اجازت دینا ناقابل برداشت ہے۔
٭…٭…٭…٭
رپورٹ ہے کہ اتوار بازاروں میں ریکارڈ توڑ مہنگائی ہے۔
اگر حکومت اتوار بازاروں اور یوٹیلٹی سٹورز کی حد تک بھی قیمتیں معقول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو اسکے باقی مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آلو کی قیمتوں میں 18 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے تو باقی اشیائے صرف کا کیا عالم ہو گا؟
حکومت جس چیز پر کنٹرول نہیں کر سکتی‘ اسے شروع کیوں کرتی ہے‘ یہ اتوار بازار ہیں یا بے کار بازار ہیں۔ انہوں نے تو مل کر لوٹ لیا خریداروں کو۔ اتوار بازاروں میں عام متوسط درجے کے لوگ اور دیگر خطہِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے ہی شاپنگ کرتے ہیں مگر یار لوگوں نے اس بازار کو بھی مہنگا کر دیا ہے۔ کئی چیزیں تو ایسی ہیں کہ اتوار بازار میں مہنگی ہیں اور عام بازار میں سستی ہیں۔
٭…٭…٭…٭
چین سے خبر آئی ہے کہ وہاں 300 بلیوں کی جان اس وقت بچ گئی‘ جب ان کا سوپ بنایا جانے والا تھا ۔اینمل رائٹس والوں نے چھاپہ مار کران 300 بلیوں کو قید سے آزاد کرالیا۔
چینیوں کو قریب سے دیکھیں تو ان میں چھوٹے موٹے سبھی جانوروں کی خصلتیں آپ کو ملیں گی کیونکہ وہ اکثر کیڑے مکوڑے اور ان سے بڑی سائز کے جانور کھا جاتے ہیں‘ مگر اسکے باوجود چین میں جانوروں کے تحفظ کا شعبہ کام کر رہا ہے اور یہ کارکردگی تو لائق ستائش ہے کہ 300 بلیوں کا سوپ اس نے روک لیا۔
بلی کا سوپ چین میں بڑی رغبت سے پیا جاتا ہے‘ اسی لئے تو ایک شخص نے ایک بڑے پنجرے میں 300 بلیاں جمع کررکھی تھیں۔ مسلمان بلیاں پالتے ہیں‘ انہیں کھاتے نہیں۔
٭…٭…٭…٭
گزشتہ روز لاہور شہر میں 18 ڈکیتیاں ہوئیں‘ شہری لاکھوں سے محروم‘ مجاہد سکواڈ کی موٹر سائیکل چوری ہو گئی۔
حکومت کی ناک تلے 18 ڈکیتیاں‘ کچھ معنی رکھتی ہیں اور حیرانی در حیرانی یہ ہے کہ مجاہد سکواڈ کی بھی موٹر سائیکل چوری ہو گئی۔ چوریوں‘ ڈکیتیوں کی تعداد جب بڑھنے لگے تو سمجھ لیں کہ مہنگائی میں اور اضافہ ہوا ہے کیونکہ جس رفتار سے ڈاکے پڑ رہے ہیں‘ وہ ایک پیمانہ ہے غربت کو جانچنے کا‘ اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ پھر کوئی تعلیم یافتہ بیروزگار ایکٹو ہوا ہے۔ یہ تمام بیروزگار پڑھے لکھے ڈاکو‘ جبری ڈاکو ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد مبارک میں ایک چور کے ہاتھ اس لئے نہیں کاٹے تھے کہ ریاست نے اس کو غلہ فراہم نہیں کیا تھا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter