ہفتہ‘ 12 صفر المظفر 1433ھ‘7جنوری 2012
ـ 7 جنوری ، 2012
اعتزاز احسن نے کہا ہے: عدالت کو بھڑکا یا جارہا ہے۔ صحافی نے پوچھا کون ایسا کررہا ہے۔ اعتزاز کا جواب تھا: جس نے پریس کانفرنس کی جبکہ راجہ ریاض کہتے ہیں بابر اعوان کا عدالتی قتل ہوا تو وہ بھٹو کی طرح زندہ رہیں گے۔ زرداری کی سیاست کاری تو دیکھیں کہ جسے بابر اعوان کی جگہ ہوناچاہئے تھا اُس کے تدبر کی بے ڈھنگی نمائندگی بابر اعوان کررہا ہے جو فی الواقع صدر کیلئے حالات سنوارنے کے بجائے بگاڑنے یا اپنے دیرینہ سابقہ ممدوح کی روح کو ایصال ثواب کررہا ہے اور بابر سے بڑھ کر عقلمند صاحبِ سرِکلاں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ بابر اعوان کا عدالتی قتل ہوا تو وہ بھٹو کی طرح زندہ رہینگے گویا وہ چاہتے ہیں کہ بابر اعوان کو بھی خدانخواستہ پھانسی دیکر بھٹو کا مقام دیدیاجائے یہ ہے بھٹو کی سالگرہ منانے کا ”ریاضانہ“ انداز اور پھر وہ یہ کیسے کہتے ہیں کہ بابر کا عدالتی قتل ہوگا ،وہ شہید کا درجہ پائے گا اور بھٹو کو انصاف دلواتے دلواتے خود کو ” انصاف“ دلوادے گا،لگتا ہے پیپلز پارٹی سنگر پارٹی بن گئی ہے اور اُس میں جو دانے جمع کئے گئے ہیں وہ دانائی کے قاتل ہیں اگر بھٹو کے آدرشوں پر چلتے تو آج یہ ٹپے گانے والے تو پٹکے باندھ کر کرسیاں نہ توڑ رہے ہوتے۔اعتزاز احسن بھٹوکے صحیح نمائندہ ہیں لیکن اُن کو پیپلزپارٹی کے بجائے پیپل کے نیچے گیان پانے کیلئے بٹھا دیا گیا ہے اب اعتزاز کے اعزاز میں یہی کہاجاسکتا ہے ....
دمِ زندگی رم زندگی غم زندگی سم زندگی
غم دم نہ کر سمِ غم نہ کھا یہی ہے شانِ قلندری
بھٹو ایک فکر ایک سیاسی فراست کا نام ہے، ضروری نہیں کہ اسے اُس کا خاندان ہی چلا پائے،اس لئے اعتزاز اور اُن جیسے پیپلز پارٹی کو اور بھٹو کوزندہ رکھنے کےلئے پیپلزپارٹی کو دونمبر سے نکال لیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
تحریک انصاف کے نئے نویلے لیڈر جاوید ہاشمی اپنے سابقہ ممدوح کے بارے فرماتے ہیں نواز شریف نے میری مخالفت کے باوجود فوجی عدالتیں بنائیں۔ اللہ جانے ہاشمی صاحب نے کتنی سوچ بچارکی ہوگی تب جا کر اُن کو میاں صاحب کےخلاف یہ ایک بات مل گئی ہوگی اور اس بات کی کیا دلیل ہے کہ انہوں نے مخالفت کی تھی۔ماضی بعید کا سوہنا منڈا آخرمنڈوں میں ہی جا ملا اور اب عمران سے سرگوشیوں میں کہہ رہے ہیں ....
جانے کیا تو نے کہی
جانے کیا میں نے سنی
بات کچھ بن ہی گئی
یہ تو آگے پتہ چلے گا کہ وہ ہاشمی صاحب کوکس پوزیشن پر کھلاتے ہیں ، بہر حال ہمیں تو وہ ابھی سے بارہویں کھلاڑی کے روپ سروپ میں دکھائی دینے لگے ہیں وہ کہیں درپردہ پیپلزپارٹی کو تولقمہ نہیں دے رہے یا پھر اُن کو من و سلویٰ کھلانے کی فکر میں ہیں، اس حسین بزرگی میں انہو ں نے جوہجرت کی ہے وہ جگہ اُن کیلئے یثرب ثابت ہونہ ہو۔ عمران خاں تو پیروں کا استاد بننے والا سیاستدان ہے ،میاں صاحب نے اُن کے جانے پر یہ بھی نہ کہا....ع ترا جانا ارے جاناں دل کے ارمانوں کا لُٹ جانا۔ میاں صاحب بھی کچھ اپنی اداﺅں پہ ذرا غور کریں اور تنور میں لکڑیاں نہ ڈالیں۔ اگر چہ انہوں نے نیک نیتی سے بات کی لیکن حریفوں کے ہاتھ بات تو آگئی ہماری جمہوریت بھی تو دیکھیں ، خودمختاری بھی ملاحظہ فرمائیں کہ امریکہ سے طلاق رجعی حاصل کی ہے ویسے سب کچھ بند ہے لیکن امریکہ کی جنگ جاری ہے یہ سولہ شہید بھی اسی لئے طالبان نے تحفے میں دئیے، ہور چوپو۔ ہاشمی صاحب کو اس پر بھی تو کچھ سخت سست کہناچاہئے تھا۔
٭....٭....٭....٭....٭
وفاقی وزیرپٹرولیم ” ڈاکٹر“ عاصم نے کہا ہے: میری کوئی نہیں سنتا میں کیا کروں۔ آپ کی کوئی نہیں سنتا توآپ چلو بھرپانی میں ڈوب مریں۔ یہ جو مرض آپ کو لاحق ہے لاعلاج ہے۔ البتہ خود چاہیں تو علاج کرسکتے ہیں ویسے برا نہ منائیں تو آپ کے جملے میں اور استعفے میں کوئی فرق نہیں اور نا اہلی بھی اس کے سنگ سنگ ہے ، خدا جانے زرداری نے یہ نا اہلوںلا علاجوں اور ہیچمدانوں کی نابینا کابینہ کہاں سے لبَھی ہے؟ انہوں نے اوگرا پر ہی سارا ملبہ ڈال دیا اور خود پھر بھی وزیر ہیں اب تو اوگرا کے سربراہ ہی کو وزارت بھی سونپ دیں تاکہ وزیر بے تدبیر مکمل طورپر فارغ التحصیل ہوکر کہیں....
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھے
”کب کی ترک وزارت کی“
اوگرا تو پہلے ہی عاصم کے بارے کہہ رہی ہے ”اوگرا“ اور آخر وہ گر ہی گئے مگر مانتے نہیں اسلئے کہ باقی وزراءبھی گِر کر وزارت چلا رہے ہیں اور اُٹھ کر دولت سمیٹ رہے ہیں، روکنے والا ، روک نہیں سکتا کہ اُس کے ہاں خود بھی کوئی روک ٹوک نہیں۔ نالائق استاد نا لائق شاگرد ہی پیدا کرے گا اور اُسے درد زہ بھی نہ ہوگی....
تم نے لُوٹے بے نوا صحرا نشینوں کے خیام
تم نے لوٹی کشتِ دہقاں تم نے لوٹے تخت و تاج
ہمارا کام ہے حق پہنچانا جہاں تک پہنچے۔
٭....٭....٭....٭....٭
بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کہا جج ہوںیا جرنیل کسی کو سپر پاور نہیں سمجھتے۔ کھوسہ صاحب یہ بتائیں کہ افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں کیاوہ اُن کو بھی سپریم نہیں سمجھتے، ظاہر ہے سپریم کورٹ کاچیف جسٹس بھی سپریم ہی ہوتاہے، لگتا ہے بابر کے بعداب یہ دوسرا” پہارو“ ہے جسے توہین عدالت کانوٹس بھیج کر گورنرہاﺅس کو اُن پر تنگ کیاجاسکتا ہے اور جہاںتک جرنیل کاتعلق ہے تو انہوں نے تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال دیا ہے، آرمی چیف اگر چاہیں تو میمو کیس کی کسوٹی پر کسوا سکتے ہیں کیونکہ کسی بھی جرنیل کو تسلیم نہ کرنا توہین فوج ہے،لطیف کھوسہ کہیںاحساس برتری کاشکارتو نہیں ہوگئے اس سلسلے میں وہ ضرور کسی سائیکاٹ کی خدمات حاصل کریں کیونکہ کہیں وہ یہ نہ کہہ بیٹھیں نعوذباللہ میں خدا کو بھی سپریم نہیں سمجھتا۔اصل میں فرعونیت کی منازل ہوتی ہیں اور انسان کو جب اللہ کوئی بڑا مقام دیتا ہے تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ کہیں یہ فرعونیت کے درجات تو نہیں طے کر رہا،کھوسہ صاحب امریکہ کوتو سپر پاور سمجھتے ہیں اُس کی نفی کب کرینگے کیایہ ضروری ہے کہ....
خدا جب عہدہ دیتا ہے
تکبر آ ہی جاتا ہے
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں