اتوار ‘ 22؍ صفر المظفر1431ھ‘ 7 ؍ فروری 2010ء
ـ 7 فروری ، 2010
گلبدین حکمت یار نے کہا ہے غیر ملکی اثر سے آزاد افغان حکومت سے ہی مذاکرات کریں گے۔ امریکا افغانستان میں مزید فوج بھیج کر غلطی کر رہا ہے۔
نیٹو نے تو کانوں کو ہاتھ لگا لئے ہیں امریکہ نے بھی تابوتوں کے ڈھیر لگا لئے ہیں مگر ایک یہودی کی ضد ہے جو اسے وہ کرنے پر مجبور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ دنیا تباہ ہو سکتی ہے گلبدین حکمت یار حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ ہیں اور بجا طور کہہ رہے ہیں کہ جب تک افغانستان غیر ملکی تسلط سے آزاد ہو کر ایک اپنی حکومت قائم نہیں کر لیتا وہ کسی سے مذاکرات نہیں کرینگے۔ گلبدین ایک نہایت ذہین افغان لیڈر ہیں اور انہوں نے افغان سیاست کے سارے نشیب و فراز دیکھ رکھے ہیں اُن کو معلوم ہے کہ افغانستان میں امریکی مزید فوج بھیجنے کے سلسلے میں یہودی لابی کے ہاتھوں مجبور ہے اور یہ مجبوری دراصل افغانستان پر امریکی قبضے کی کمزوری ہے جلد یا بدیر افغانستان غیر ملکی تسلط سے آزاد ہوگا اس لئے طالبان تو کجا افغان کہساروں کے چٹان بھی غیر ملکی تسلط کو برداشت نہیں کرتے۔ جتنے ظلم مغرب نے افغانستان پر ڈھائے ہیں اسکی مثال کہیں نہیں ملتی مگر افغان طالبان اور مجاہدین مزاحمت کرتے چلے جا رہے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے پارٹی رہنمائوں اور صوبائی وزراء کو متحدہ کیخلاف بیان بازی سے روک دیا۔
زرداری صاحب کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں ڈھیروں اچھائی اور محبت موجود ہے‘ ہمارے ایک سابق ایم پی اے دوست کے ڈرائیور نے ایک مرتبہ ہوٹل کی پارکنگ میں انکی گاڑی کو ٹکر مار دی‘ جس سے انکی مرسیڈیز خاصی زخمی ہو گئی‘ ایم پی اے صاحب بڑے پریشانی کے عالم میں انکے پاس گئے تاکہ معذرت کر سکیں‘مگر صدر صاحب نے اس واقعہ کا نوٹس ہی نہیں لیا اور کہا چھوڑیئے جی‘ اس بات کو آپ یہ بتائیں کہ آپ کیا کھائیں گے کیا پئیں گے اور گلے لگا کر رخصت کیا۔
برائیاں ہر آدمی میں ہوتی ہیں‘ ان میں بھی ہونگی اور جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو ہمارے ہاں تقریباً حکومتیں ایک جیسی ہی رہی ہیں۔ اگر وہ چلتی رہیں تو یہ بھی پانچ سال گزار ہی لے گی۔ متحدہ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف بڑا مہنگا سودا ہے‘ اس سے کراچی کی روشنیاں مدھم اور دن تاریک ہو جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں دونوں پارٹیوں کی کشیدگی نے خطرناک صورتحال اختیار کی مگر زرداری صاحب نے ایسے موقع پر بڑی حوصلہ مندی سے کام لیا اور اپنے پارٹی کے لیڈروں اور وزیروں کو سختی سے منع کر دیا کہ وہ آئندہ متحدہ کیخلاف کوئی بیان نہ دیں۔ انہوں نے گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ میں مفاہمت کرادی ہم بھائی الطاف حسین کے اس علم کو بھی پسندیدہ کہیں گے کہ انہوں نے کہا کہ مفاہمت کو فروغ دینا وقت کا تقاضہ ہے۔ ہمارے ارکان اعتدال پسند رویہ اختیار کریں۔
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف وکلاء اور کلرک سڑکوں پر آگئے جبکہ واپڈا ملازمین نے سینہ کوبی کی۔
محرم الحرام کب کا گزر چکا ہے‘ مگر حکومت نے صفر کے مہینے کو بھی قوم کیلئے محرم بنا دیا اور سڑکیں کربلا کا سا سماں پیش کرنے لگیں۔ نہ ہم کشمیر واپس لے سکے‘ نہ کبھی پٹرول کی قیمتیں‘ شاید دونوں کیلئے جنگ کرنا پڑیگی۔ ایک جنگ اس پار والوں کے ساتھ اور ایک اس پار والوں کے ساتھ۔ 62 سال سے ہم نے عالمی مالیاتی اداروں سے اس طرح قرضے حاصل کئے جیسے کوئی کسی کے باغ میں گھس کر پکے ہوئے سیب توڑتا ہے اور یہ پتہ نہیں کہ مالی ایک ایک سیب کے بدلے سو سو سیب وصول کریگا۔ قرضوں پر چلنے والی حکومتوں کے یہی مزے ہوتے ہیں اور انکی رعایا کا یہی حال ہوتا ہے کہ سڑکوں پر لیٹ کر سینہ کوبیاں کرتے ہیں۔ اپنے سینے پیٹنے سے اچھا نہیں کہ حکمرانوں کے سینے پیٹے جائیں۔ حق تو یہ ہے کہ قوم کا ہر فرد پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف سڑکوں پر آجائے‘ جن سے قرضے لئے ہیں‘ انہوں نے قرضے دیئے ہی اسی لئے ہیں کہ ہم ان سے کہیں گے قیمتیں بڑھائو تاکہ ہمارے قرضے واپس کرنے کے قابل بنو اور حکومت کو طوہاً و کرہاً پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ حکمرانوں کی عیاشیوں کی قیمت عوام کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے پاکستان کو روابط بحال کرنے کی باضابطہ پیشکش کر دی۔
ایٹم بم کا نام سنتے ہی بزدل بنیئے باضابطہ مذاکرات پر اتر آئے ہیں‘ حالانکہ باضاطہ مذاکرات کی جگہ بامقصد مذاکرات کی ضرورت ہے‘ ایسے مذاکرات کے جن کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر آزاد ہو اور پانی واگزار پھر ’’ستے ہی خیراں‘‘۔
ایک نجی ٹی وی نے کہا ہے کہ بھارت نے یہ فیصلہ عالمی سطح پر تنہائی کے باعث کیا حالانکہ عالمی سطح پر تو کبھی کشمیر کے حق میں کسی چیونٹی نے بھی کچھ نہیں کیا۔ ہمارے وزیر خارجہ نے جواب دیا ہے‘ خبر حقیقت ہے تو خیرمقدم کرتے ہیں۔ مسائل کا واحد حل مذاکرات ہیں‘ کیا شاہ محمود قریشی اتنے نادان ہیں کہ 62 سالہ ناکام مذاکرات کے بعد بھی مسائل کا حل مذاکرات میں ڈھونڈتے ہیں۔
ہندو کی سرشت ہے کہ وہ مار کھا کر ہی سیدھا ہوتا ہے اور لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے قابو نہیں آتے۔ بھارتی منافقانہ مذاکرات کا جال بڑا وسیع ہے اور وہ دنیا پر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھیں جی ہم مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں اور یہ کشمیر مانگتے ہیں۔ بہت باریک ہیں ہندو بنیے کی چالیں۔ مزا تو جب تھا کہ ہندو نہ مکرے‘ کشمیر آزاد ہو جاتا۔ ہمارے دریا واگزار ہوجاتے اور دونوں ملک خوشحال زندگی بسر کرتے۔ ہماری طرف سے یہ جو امن آشا مہم چلا رہے ہیں‘ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ بھی میرانِ کرام کے سچے وارث ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں