تازہ ترین:

بدھ ‘ 19 ؍ محرم الحرام ‘ 1431 ھ‘ 6 ؍ جنوری 2010ء

ـ 6 جنوری ، 2010
وفاقی وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے‘ بھارت نے رویہ نہ بدلا تو مفاہمتی پالیسی پر نظرثانی پر مجبور ہو جائیں گے جبکہ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا ہے‘ جنگ کی دھمکی نہیں دی‘ آرمی چیف کے بیان کا مقصد خطے کے ممالک کو فوجی صلاحیت سے متعارف کرانا ہے۔
احمد مختار صاحب نظرثانی پر مجبوری میں دیر نہ کریں‘ ورنہ بہت دیر ہو جائیگی‘ اگر من موہن سنگھ گونگلوئوں کو شلجم کہیں تو گونگلو ہی رہیں گے۔ جنگ کی دھمکی اور کیا ہوتی ہے کہ خطے کے ممالک بالخصوص پاکستان کو اپنی طاقت سے آگاہ کرنا مقصود ہے۔ بھارت کو یہ ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ پاکستان کے پاس اتنی طاقت اور جذبہ جہاد ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے کھیلے گا نہیں‘ انہیں استعمال کریگا۔ ہماری اور بھارت کی مفاہمت تو اس روز سے ٹوٹ چکی ہے جب سے وہ کشمیر کے وعدے سے پھر گیا ہے اور اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔
لبھورام کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے سترہ کروڑ عوام اور عساکر پاکستان اب مفاہمت کی جھوٹی کہانی جاری رکھنے کے بجائے عملی جہاد کرینگے کیونکہ بھارت نے پاکستان کے پانی پر قبضہ کرکے اعلان جنگ تو کر دیا ہے‘ جواب پاکستان کی طرف سے آئیگا۔ احمد مختار صاحب وزیر دفاع ہیں‘ وہ اب مفاہمت کی بات چھوڑیں‘ سیدھے سیدھے بیان دیں تاکہ ہندو بنیئے کو معلوم ہو کہ پاکستان نے ہاتھ میں چوڑیاں نہیں ایٹمی میزائل پہن رکھے ہیں اور اپنے وجود کی سلامتی کیلئے بھارتی فورسز کے دانٹ کھٹے کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ بھارت پاکستان میں لاکھ دہشت گردی کرائے‘ جذبہ جہاد سرد نہیں بلکہ اور گرم ہو گا اور بھارت کو اس وقت علم ہو گا جب اسے یہ گرما گرم لوہے کے چنے چبانے پڑینگے۔
٭…٭…٭…٭
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں بے ایمانی ہوئی‘ ایوب نے پختونوں کو جہاد کے نام پر کراچی بھجوایا۔
الطاف بھائی کا حافظہ بڑا تیز ہے کہ انہیں برسوں بیتی محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ الیکشن میں کی گئی بے ایمانی اب یاد آگئی۔
یہ تو ایسی بات ہے کہ دیر آید درست آید کہنے سے درست نہیں ہو سکتی۔ آج پاکستان جو سیاسی مار کھا رہا ہے‘ اسکی بڑی وجہ محترمہ فاطمہ جناح کو الیکشن میں ہروانے کیلئے ایک سابق آمر ایوب کا ہاتھ تھا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم آج بھی مسٹر عیوب خان کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں اور بابائے قوم کی ہمدرد و غمگسار بہن کا کہیں ذکر تک نہیں ہوتا۔
فاطمہ جناح کی جیتی ہوئی بازی کو اگر اس وقت الٹایا تو کئی محبان وطن بھی اس وقت موجود تھے‘ مگر کسی نے زور دار آواز بلند کی اور نہ اس سلسلے میں اس وقت کی عدلیہ نے کوئی کردار ادا کیا۔ ایوب خان ایک ظالم آمر تھا‘ اس نے ملک دشمنی کی بنیاد رکھی‘ ایک شخص مجید نظامی تھا‘ جس نے ایوب خان کو دوبدو کھری کھری سنائی تھیں‘ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز گم ہو کر رہ گئی اگر اس وقت کے سیاست دان اور بزرجمہر عوامی تحریک چلاتے تو پانسہ پلٹ سکتا تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ ایوب خان کی بے ایمانی کے برے اثرات آج بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ آج بھی اگر کچھ بچے کھچے ایوب خانیے موجود ہیں تو ان سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق اب کیا ہو سکتا ہے۔ مسٹر الطاف حسین نے ایک دکھتے زخم کو بڑی دیر سے چھیڑا ہے‘ چلو یہ بھی غنیمت ہے۔
محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن میں ایوب نے جس کھلم کھلا انداز سے بددیانتی اور پھر فتح کا جشن منانے کیلئے نام نہاد جہادی کراچی بھیجے‘ کیا وہ کشمیر فتح کرنا چاہتے تھے؟ ایوبی دور نے اس ملک میں جمہوریت کا ایسا گلا گھونٹا اور آمریت کی ایسی بنیاد رکھی کہ آج بھی وہ چال بے ڈھنگی جاری ہے۔ ہم آج اپنا کاشت کیا ہوا برا ماضی کاٹ رہے ہیں اور اسکی واحد وجہ ایک آمر کو ایک جمہوری منتخب لیڈر پر ترجیح دینا ہے۔
٭…٭…٭…٭
امریکہ آنے والے مسلمانوں کو برہنہ تلاشی کے مرحلے سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ روز بروز خود برہنہ ہوتا جا رہا ہے کہ وہ دیگر قوموں کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہم اداروں کی بات تو نہیں کرتے مگر پاکستان سے دھڑا دھڑ امریکہ جانے والے اپنے کلمہ گو بھائیوں کی فکر ضرور رکھتے ہیں کہ وہ کس طرح اس رسوائی کے پل سے گزریں گے۔ امریکہ اس قدر بے شرم اور بدلحاظ ہو چکا ہے کہ اپنے مفاد کیلئے وہ انسانیت کو ننگا بھی کر سکتا ہے۔ لوگوں کو یاد ہو گا کہ ہماری بڑی بڑی شخصیات کو اس نے ایک ٹنٹ میں کھڑا کرکے تلاشی کے دوران انکے صرف ’’کچھے‘‘ رہنے دیئے تھے اور انہوں نے یہ کڑوی گولی بھی امریکہ یاترا کرنے کیلئے نگل لی تھی‘ اب تو خیر سے دیدار عام ہو گا۔ مگر جانے والے جائیں گے‘ چاہے انہیں ننگا ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔
چاہئے تو یہ کہ باغیرت قوم کا ہر فرد امریکہ کا بائیکاٹ کرے تاکہ امریکی ایئر لائنز کو بھی مسافروں کو ننگا کرنے کا کچھ تو جواب مل سکے۔ ہمارے امراء وزراء وغیرہ بھی سوچ لیں کہ وہ اس مرحلے کو کیسے طے کرینگے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک نائجیرین باشندے کے امریکی طیارے کو بم سے اڑانے کی ناکام کوشش پر دنیا بھر کے مسافروں کو امریکہ میں داخل ہوتے وقت ننگا کیا جائیگا‘ اقوام عالم کو اس بے ہودہ فیصلے پر امریکہ سے احتجاج کرنا چاہئے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter