تازہ ترین:

منگل‘ 10 محرم الحرام 1433ھ‘6 دسمبر 2011ئ

ـ 6 دسمبر ، 2011
ہمارے بڑے باخبر وزیر داخلہ نے ایک اور نہایت بامعنی بیان داغا ہے کہ ہم منصور اعجاز پر مقدمہ چلا رہے ہیں‘ امریکہ بھی چلائے۔
نادان ملک کی دانائی کے کیا کہنے کہ انہوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ارسطو کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ منصور اعجاز امریکہ میں پیدا ہونیوالے امریکی ہیں اور امریکہ کے شہری اور بلاشبہ وہ سی آئی اے کے عرصہ دراز سے مانے ہوئے ایجنٹ ہیں۔ پینٹاگون کے ارباب بست و کشاد کے دامن سے بندھے ہوئے ہیں۔ ملک صاحب جہاں اتنا بڑا ویژن پیش کر چکے ہیں‘ یہ بھی بتا دیں کہ ہم منصور اعجاز پر کس عدالت میں مقدمہ چلائیں گے جبکہ امریکہ تو اپنے ایجنٹ پر مقدمہ چلانے سے رہا۔ ہم رحمان ملک کی بوالعجبی پر انہیں خراج تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ وہ یہ تو نہ سمجھیں کہ اس ملک میں کوئی انکی دانشوری کا قائل ہی نہیں اس لئے ان سے یہ عرض کرنا لازم ہے کہ....
ذرا پچھے پچھے ہٹ سجناں
کیوں ماری گئی تیری مَت سجناں
٭....٭....٭....٭
ایران نے ایٹمی پلانٹ کی جاسوسی کرنیوالا امریکی ڈرون مار گرایا۔ طیارہ سی آئی اے کیلئے یورینیم افزودگی پلانٹ کے مقام کا پتہ لگانے کے مشن پر تھا۔
آج پتہ چلا کہ ڈرون جہاز گرائے بھی جا سکتے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں جو سینکڑوں ڈرون حملے ہوئے‘ ان میں سے کسی ایک کو بھی گرایا نہ جا سکا۔ ایران کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو یہ باور کرا دیا کہ ڈرون زمین کو چھو سکتا ہے اور پاکستان کے عوام بھی اب یقین کر بیٹھے ہیں کہ واقعی ڈرون گرایا جا سکتا ہے۔ انشاءاللہ اب ہمارے حکمران بھی ڈرون گراکے چھوڑیں گے اور تاریخ پر اپنا نقش ثبت کر دینگے۔ چاہیے تو یہ تھا ....ع
”بریلی کے بازار میں جھمکا گرا رے“ کے بجائے ”قبائلی علاقے میں ڈرون گرا رے“ کا ترانہ گونجتا۔ مگر افسوس کہ یہاں اب بھی انٹرنیٹ پر ایسی ویب سائٹس جلوہ سامانیاں دکھاتی ہیں کہ جن کو دیکھ کر بوڑھے جوان اور جوان شیطان کا روپ دھار سکتے ہیں۔ یہ تو اسلام کا معجزہ ہے کہ ہماری نئی نسل ابھی تک اس فتنہ سامانی سے زیادہ متاثر نہیں ہوئی لیکن کبھی کاش کوئی ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملتا کہ پاکستان ایئرفورس نے امریکی ”چڑیا“ کو کسی طرح شہباز کی طرح پنجوں میں دیکر زمین پر پھینک دیا۔
ایران کے ایٹمی پلانٹ کی جاسوسی کا مطلب ایران نے تو جو لیا سو لیا‘ لیکن اس میں ایک مفہوم ہمارے لئے بھی موجود ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ چونکہ ہماری حکومت چھٹی پر ہے اس لئے وہ یہ سبق یاد کریگی تو اسکی چھٹی ماری جائیگی۔
لگتا ہے کہ روس‘ ایران‘ پاکستان اور طالبان والا افغانستان اگر امریکہ کی شیطنت کو ختم کرنا چاہے تو نہ صرف امریکہ اس خطے کی فضائیں چھوڑ دیگا بلکہ زمین پر قدم رکھنے کی جرا¿ت بھی نہیں کریگا اور یہ جو دھچکا اس کو اس خطے میں پہنچے گا‘ یہ اسے سپرپاور بھی نہیں رہنے دیگا۔ بہرصورت خدا کرے کہ....
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدرؓ بھی عطا کر
50 ارکان اسمبلی نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کیا جبکہ عباس راں نے کہا‘ زرداری پارٹی بچانا چاہتے ہیں تو گیلانی کو فارغ کریں۔
ہمیں تو پیپلز پارٹی سے زیادہ فکر ان پارٹیوں کی ہے جو ٹوٹے ہوئے جہاز پر سوار ہوئی ہیں۔ 50 ارکان کا وزیراعظم پر عدم اعتماد ایک طرح سے بالواسطہ صدر زرداری پر عدم اعتماد ہے۔ گیلانی صاحب اگر واقعتاً کوئی متنازعہ شخصیت بن چکے ہیں تو نادان ملک موجود ہیں‘ انہیں دوہرا چارج دیکر گیلانی کو ڈسچارج کر دیں کیونکہ اگر 50 ارکان ایک پلڑے میں اور ایک وزیراعظم دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں تو ترازو فریاد کریگا اور اسکی وہ ڈنڈی ہی ٹوٹ جائیگی جو چار سال سے ماری جاتی رہی ہے لیکن زرداری یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ گیلانی بڑے رقیق القلب ہیں‘ یہ نہ ہو کہ وہ بھی یہ کہتے ہوئے تحریک انصاف میں چلے جائیں کہ....
جب دل ہی ٹوٹ گیا
ہم ”پیپلی“ بن کر کیا کرینگے
عباس راں جو سوئے زرداری رواں ہیں‘ وہ آخر اندر کھاتے کچھ تو جانتے ہیں کہ گیلانی کے دل میں کیا ہے اور یہ 50 ارکان اسمبلی ان سے دامن چھڑا گئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کو وہی گولی لگی تھی‘ جو بینظیر کو لگی اور وہ شہید ہو گئیں۔ اب یہ نہ ہو کہ پیپلز پارٹی کا بھی وقت شہادت آجائے کیونکہ شدید زخمی ہنوز ICCU میں ہے۔ چودھری صاحبان‘ اے این پی اور ایم کیو ایم کی پارٹیوں کو مومن کا یہ شعر دیپک میں الاپنا چاہیے....
تو کہاں جائیگی کچھ اپنا ٹھکانا کر لے
ہم تو کل خوابِ عدم میں شب ہجراں ہونگے
٭....٭....٭....٭
اعتزاز احسن فرماتے ہیں: دعویٰ سے کہتا ہوں مشرف23مارچ2040 تک وطن واپس نہیں آئینگے۔
ہمیں توقع نہ تھی کہ اتنا بڑا ماہر قانون اور طرار وکیل یہاں آکر غچہ کھاجائیگا،انہوں نے اپنی طرف سے تو نجومی بننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ مشرف کی عمر میں 2040 تک اضافہ کردیا۔
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ اب وہ نہ آئےگالیکن اعتزاز احسن ایک ناپسندیدہ کو درازی عمر کی گویا دعا دے بیٹھے بے شک انجانے میں مگر اب تو وہ یہ کہہ گئے ہیں اگر وہ اب یوں پیش گوئیوں پر اُتر آئے ہیں تو طوطا بھی پال لیں،لفافے بھی جمع کرلیں شاید وہ روتی بسورتی قوم کو اور نہیں ہنسا تو سکیں۔
انسان جب بہت پڑھ لکھ جائے کہ ذہن چھوٹا پڑ جائے تو پھر اسی طرح کی باتیں کرنے لگتا ہے جیسا کہ اعتزاز نے لب کشائی کی ہے یہ تو طے ہے کہ پرویز مشرف اب واپس نہیں آئیگا لیکن یہ 23 مارچ 2040ءکی ڈیٹ کیا اُن کو عزازیل نے دی یا عزرائیل نے، ہمارا اندازہ ہے کہ موصوف بنیادی طورپر تصوف کے آدمی ہیں اگر تھوڑی سی ریاضت کرلیں اور ورد اوراد پر زوردیں تو اور بھی کئی غیب کی خبریں دے سکتے ہیں۔
مشرف کو لال پری اور جل پری سے فرصت نہیں، انہیں پاکستان آکر شوریدہ سری سے کیا غرض؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ....
شرافت نے شرارت سے دل جوڑ لیا
اور یوں ایک ہی جھٹکے میں حقیقت سے منہ موڑلیا
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter