تازہ ترین:

منگل ‘ 18 ؍ محرم الحرام ‘ 1431 ھ‘ 5 ؍ جنوری 2010ء

ـ 5 جنوری ، 2010
صدر زرداری نے کہا ہے دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکائوں گا‘ میدان جنگ تیار ہوا تو دمادم مست قلندر ہو گا۔ عوام ہوشیار رہیں‘ سازشوں کیخلاف متحد ہو جائیں۔
صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ سیاسی قوتیں فوج کے ساتھ مل کر سازشی طاقتوں کو مل کر شکست دیں گی‘ خدا کا شکر ہے کہ صدر اور فوج میں کوئی اختلاف یا کشمکش نہیں‘ اگر ہے تو ان لوگوں کے ساتھ جو یہ سازشیں کر رہے ہیں کہ کسی طرح اس ملک کو جمہوریت کے تسلسل سے محروم کیا جائے۔ دمادم مست قلندر صدر کا پرانا نعرہ ہے‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حالات کا مقابلہ کرینگے۔ ہر ملک میں اختلافات بھی ہوتے ہیں‘ مقدمات بھی ہوتے ہیں اور کرپشن کے کیسز بھی‘ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی پارلیمنٹ ہی توڑ دیں بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعے وہ حالات کو سدھارتے ہیں۔
پاکستان جو پہلے ہی گوناگوں مصیبتوں میں گرفتار ہے‘ اسے کسی نئے ’’یبھ‘‘ میں نہیں ڈالنا چاہئے‘ انہوں نے یہ بڑا اچھا کیا کہ پارلیمنٹ سے باہر سیاسی جماعتوں کو مفاہمت کی دعوت دی‘ سیاسی کشمکش کوئی جنگ نہیں ہوتی کہ جسے بَلا سمجھا جائے۔ امریکہ اس وقت پاکستان کے اندر موجود ہے اور اسکے حواری بھی اسکے ساتھ ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ صدر کے معاملے کو غلط رخ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
٭…٭…٭…٭
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جمہوریت اور بے عملی ایک ساتھ نہیں چل سکتے‘ فرد واحد کی بجائے مشاورت سے ملکی امور چلائیں جائیں۔
یہ بات درست ہے کہ جمہوریت اور بے عملی دو متضاد چیزیں ہیں اور مشاورت ایک انتہائی اہم عنصر ہے جو قوموں کو آگے لے جاتا ہے۔ وہ ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں‘ وہ چاہیں تو برسر اقتدار بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ مشاورت سے ملکی امور چلا سکتے ہیں اور جمہوریت کو بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔ سازشی لوگ کوشش میں ہیں کہ دونوں بڑی پارٹیوں میں فاصلے پیدا کئے جائیں۔ ملکی حالات کے پیش نظر میاں برادران کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے بیانات نہ دیں‘ جس سے ملک میں افراتفری مچانے والوں کو شہ ملے۔
مزہ تو جب ہے کہ کرپشن کیخلاف کارروائیاں بھی جاری رہیں۔ حکومت اپنی مدت بھی پوری کرے اور مڈٹرم الیکشن کی نوبت نہ آئے۔ ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ آئین شکنوں اور بگتی کے قاتلوں کا احتساب کیا جائے‘ ان کا کہنا ہے کہ حکومت سنجیدگی سے عوام اور ملک کو درپیش مسائل حل کرے اور درپیش چیلنجز کا جمہوری قوتوں کو ساتھ ملا کر مقابلہ کرے۔ میاں صاحب کی اس بات کی روشنی میں کہ صدر صاحب مسلم لیگ (ن) کو ساتھ لے کرچلیں کیونکہ دو جمہوری پارٹیوں کا تحاد ملک دشمن عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیگا۔
٭…٭…٭…٭
جدوجہد آزادی کشمیر کے رہنماء سید علی گیلانی نے کہا ہے‘ بھارت پاکستان پر حملے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ یہ ’’غلطی‘‘ اس کی اپنی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے گی۔
گیلانی صاحب کی بات اپنی جگہ مگر حقیقت احوال یہ ہے کہ بھارت اس وقت ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے اور اس کا امریکہ‘ اسرائیل سے گٹھ جوڑ بھی ہے۔ جبکہ پاکستان اور چین تنہا کھڑے ہیں‘ بہرحال ہندو بزدل ہے‘ شب خون مارنے کی کوشش کریگا مگر نقصان سے نہ بچ سکے گا۔ پاکستان مشرف کی غلطی کی وجہ سے بگلیہار ڈیم کا مقدمہ ہار چکا ہے اور اب اس بات کا اندیشہ زور پکڑ گیا ہے کہ پاکستان کو مجبور ہو کر پانی کی خاطر جنگ لڑنا پڑیگی جس کیلئے پہلے ہی مقبوضہ کشمیر میں آزادی کشمیرکی ایک عظیم تحریک موجود ہے۔ بھارت اگرچہ بظاہر متحد نظر آتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہے۔ علیحدگی کی کئی تحریکیں وہاں پہلے ہی چل رہی ہیں‘ جن سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ گیلانی صاحب کا بڑا حوصلہ ہے کہ جیلوں کی صعوبتیں سہ کر بھی وہ بھارت کے سامنے سیدھے کھڑے ہیں اور جہاد کشمیر کی آبیاری کر رہے ہیں۔ بھارت نے ہمارے دریائوں پر 62 ڈیم تعمیر کرکے پاکستان کو ریگستان بنانے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے‘ اس لئے پاکستان کی فوجیں تیار ہیں کہ وہ اپنے ملک کو بنجر بنانے سے بچائیں۔
٭…٭…٭…٭
وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا پاکستان توڑنے کے بیان پر قوم سے معافی مانگیں۔
ایک خان صاحب پشاور جانے کیلئے کراچی کی ٹرین میں بیٹھ گئے‘ جب ٹرین نے خاصا سفر طے کرلیا تو خان صاحب نے ایک مسافر سے پوچھا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ مسافر نے جواب دیا‘ کراچی۔ خان صاحب جو اوپر برتھ پر لیٹے ہوئے تھے‘ انہوں نے نیچے جھانک کر کہا‘ پاکستان نے بھی کیسی ٹرین بنائی ہے کہ اوپر والا حصہ پشاور جا رہا ہے اور نچلا حصہ کراچی۔ احمد مختار اور ذوالفقار مرزا دونوں پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزراء ہیں‘ اگر دونوں کے خیالات میں اتنا ہی فرق ہے تو دونوں پیپلز پارٹی کی ایک ہی ٹرین میں بیٹھے ایک دوسرے سے متضاد سمت میں سفر کیوں کر رہے ہیں؟
اگرچہ صدر صاحب نے ذوالفقار مرزا کے اس بیان کو ہرگز پسند نہیں کیا‘ تاہم وہ اپنے ایسے وزراء کی ہرزہ سرائیوں کا ضرور نوٹس لیں۔ یعنی صدر صاحب تو پاکستان کھپے کا نعرہ لگائیں‘ حب الوطنی کا مظاہرہ کریں اور انکے ایک صوبائی وزیر پاکستان کو توڑنے کی بات کریں‘ یہ واقعی پارٹی کے وجود کیلئے خطرناک بات ہے۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور ہمیں اس نے پناہ دی ہوئی ہے‘ ہر بات برداشت کی جا سکتی ہے‘ مگر اس کو توڑنے کی بات ناقابل برداشت ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور صدر پاکستان اس بیان کا سختی سے نوٹس لیں گے اور احمد مختار کی یہ بات پوری کر دکھائیں گے کہ ذوالفقار مرزا اپنے بیان پر پوری قوم سے معافی مانگیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter