جمعۃ المبارک ‘ 20؍ صفر المظفر1431ھ‘ 5؍ فروری 2010ء

ـ 5 فروری ، 2010
خبر ہے کہ لاہور شہر میں جگہ جگہ جعلی منرل واٹر بکتا اور گھروں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس پانی کے بارے میں الیکٹرانک میڈیا نے کہا ہے کہ ان میں سے اکثر کے پاس لائسنس نہیں اور یہ مضر صحت پانی فروخت کر رہے ہیں۔
ہم تو کہتے ہیں کہ یہ منرل واٹر کا سلسلہ ہی ختم کردیا جائے تاکہ امیر غریب کم از کم پانی کی حد تک تو برابر ہو جائیں۔ سرکاری میٹنگوں میں منرل واٹر کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ حکومت گہرے ٹیوب ویل نصب کرے اور انہی کا پانی سب پئیں۔ اس سے پانی فروشی کا دھندا ختم ہو جائیگا۔ اکثر بیشتر واسا کا پانی بوتلوں میں بھرکر بیچا جاتا ہے۔ اب تو بڑی بڑی فیکٹریوں نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے کہ وہ بڑی بڑی بوتلوں میں گھر کی دہلیز پر پانی دے جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے کئی کمپنیوں پر چھاپے مار کر معلوم کیا ہے کہ انکے پاس لائسنس ہی نہیں اور ٹیسٹ کرنے پر وہ ناقص پانی ثابت ہوا۔
خبر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ اسکا ازخود نوٹس لے کیونکہ اس جرم کی سزا تین سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ ہے۔ اس پانی میں منرل کی جگہ صرف بوتل اور لیبل شامل ہوتا ہے‘ آپ واسا کا پانی اور نام نہاد منرل واٹر کا تجزیہ کرلیں دونوں ایک جیسے ثابت ہونگے۔ اگر یقین نہیں آتا تو کسی بھی خالی بوتل میں اپنے نلکے کا پانی بھر کر پیئیں شاید آپ کو منرل واٹر سے زیادہ منرل پینے کو مل جائے۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ نجومیوں اور عاملوں کیخلاف پولیس نے کریک ڈائون شروع کر دیا ہے۔
اس وقت صوبائی دارالحکومت میں نجومیوں اور عاملوں کا بازار گرم ہے‘ پولیس نے متعدد جعلی عاملوں کو گرفتار کرلیا ہے‘ گلشن راوی قبرستان سے بچے کی لاش نکالنے کے واقعہ کے بعد ایس ایس پی اپریشن شفیق گجر کے حکم پر شہر بھر میں جعلی عاملوں اور نوسر باز نجومیوں کیخلاف اپریشن کرتے ہوئے کئی جعلی عاملوں کو گرفتار کرکے تھانوں میں بند کر دیا جبکہ کریک ڈائون کی اطلاع ملنے پر کئی عامل غائب ہو گئے اور اکثر نے اپنے اڈوں کو بند کر دیا۔
عامل سچے ہوں یا جھوٹے‘ انکے قریب جانے سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ کسی کے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا ہے۔ اسلام نے بھی اس علم کو ناجائز قرار دیا ہے‘ یہ لوگ اکثر موّکلات سے کام لیتے ہیں اور مریضوں کو وہم و شک کی بے یقینی کی صورت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ بیماری کا علاج مستند طبیبوں سے کرانا چاہئے‘ اس وقت لاہور میں کالا علم کرنے والے بے شمار ہیں اور ان کیخلاف ایک کریک ڈائون سے کام نہیں چلے گا‘ بلکہ حکومت کو چاہئے کہ اس ناجائز پیشے کو ختم کرنے کیلئے کوئی مستقل لائحہ عمل طے کرے۔ کالے علم والے طرح طرح کے الٹے کام کرتے ہیں اور اکثر لوگوں کی جان سے کھیلتے ہیں۔ جادو نجوم ظنی علوم ہیں‘ جن پر یقین کرنا خلاف شرع ہے۔ ایس ایس پی شفیق گجر ستائش کے مستحق ہیں جنہوں نے یہ کریک ڈائون شروع کرایا۔
٭…٭…٭…٭
ڈگری جعلی ثابت ہونے پر (ن) لیگ کے ایم پی اے ناصر محمود کو نااہل قرار دے دیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کو اپنے باقی سٹاک کو بھی چیک کرلینا چاہئے کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ ایک بڑی سیاسی پارٹی کیلئے بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ملک میں جعلی پیر‘ جعلی ڈگری‘ جعلی چیزیں سب بڑی عام ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں پر بھی ہاتھ ڈالے جو یہ جعلی ڈگریاں جاری کرتے ہیں اور ان کو عبرت ناک سزا دے۔
ایم پی اے حاجی ناصر محمود کیخلاف سابق صوبائی وزیر تعلیم نے لاہور ہائیکورٹ میں انکی بی اے کی جعلی ڈگری کی رٹ دائر کر رکھی تھی جس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مسٹر اعجاز محمد چودھری نے حاجی ناصر کی بی اے کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حاجی ناصر محمود پاجی ناصر محمود نکلے۔ اس طرح کے اور بھی کئی پاجی ہونگے‘ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اپنے ارکان کی ڈگریاں چیک کروا لینی چاہئیں اور یہی پریکٹس پیپلز پارٹی کو بھی اختیار کرنی چاہئے کہ انکے ہاں تو کوئی ایسا پاجی موجود نہیں۔ چونکہ ہماری سیاست میں کوئی غریب آدمی تو ہوتا نہیں‘ اس لئے یہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر حکومت میں پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان میں جعلی ڈگریوں اور سندوں کا کاروبار بھی عروج پر ہے‘ اس کیلئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہئے جو تمام ارکان اسمبلی کی ڈگریوں کو اصل ریکارڈ کے مطابق چیک کرے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر جیل خانہ جات نے کہا ہے‘ موبائل فونز صرف مخصوص لوگوں کے پاس ہونا چاہئے‘ جہاں آٹے چینی کا مسئلہ ہو‘ وہاں پر خرافات ہے‘ روزانہ اربوں یہودیوں کے پاس جا رہے ہیں۔
یوں لگتا ہے کہ وزیر جیل خانہ جات کی عقل بھی جیل میں ہے‘ یعنی غریب لوگوں کے پاس ایک سہولت رابطہ قائم کرنے کی ہے‘ وہ بھی ان سے چھین لی جائے تاکہ امیر لوگوں کے ساتھ انکی کوئی مشابہت باقی نہ رہے۔ پورے ملک میں صبح سے شام تک یہودیوں کی مصنوعات خصوصاً طبقہ امراء استعمال کرتا ہے‘ کیا یہ خرافات نہیں؟ وزیر موصوف نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایک بندہ سائیکل پر جا رہا ہے‘ اسکے ہاتھ میں موبائل ہے‘ ایک آدمی اٹھارہ لاکھ کی گاڑی میں جا رہا ہے‘ وہ بھی موبائل استعمال کر رہا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں‘ کیا غریبوں کے پاس موبائل نہ رکھنے سے وہ امیر ہو جائیں گے اور آٹا چینی اور دوسری ضروریات صرف آسانی سے خرید سکیں گے۔
وزیر جیل خانہ جات چودھری عبدالغفور صاحب آٹے چینی کے بعد غریبوں سے ایک عام سا موبائل بھی چھیننا چاہتے ہیں‘ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مزدور لوگ ایک سستا سا موبائل خرید کر اپنی مزدوری کیلئے ٹھیکے داروں سے رابطے کرتے ہیں اور اسی طرح وہ آٹا چینی خریدنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ان کو شاید معلوم نہیں کہ بیرونی دنیا میں تو موبائل فون ہوتا ہی مزدوروں کے پاس ہے‘ صرف مخصوص لوگوں سے انکی مراد طبقہ امراء ہے‘ ظاہر ہے کہ ایک امیر غریب آدمی کے ہاتھ میں موبائل کیونکر برداشت کریگا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter