تازہ ترین:

پیر‘ 9 محرم الحرام 1433ھ‘5 دسمبر 2011ئ

ـ 5 دسمبر ، 2011
افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے: پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کو نقصان پہنچارہا ہے،پاکستان کو امریکہ نے نظر انداز کرکے بھارت کو 30 ہزار افغان فوجیوں کو تربیت دینے کا ٹاسک دیدیا جامد قرضی¿ ضمیر کے حوالے سے جمود اور اپنے ملک سے غداری کے لحاظ سے متحرک ہونے کاشاہکار ہے، وہ ٹوپی سے ٹوپی ڈرامہ اور ہرے کوٹ سے ساون کے اندھے کا کام لے رہا ہے،پاکستان نے اس شخص کو پالا، تعلیم دی لیکن بے وفا نے پاکستان ہی کی چمڑی پر دانت گاڑ دئیے اور مسلمان افغان ہوتے اپنی غیرت ضمیر کو امریکہ کے ہاتھ ڈالروں اور عہدے کے بدلے بیچ ڈالا اب کٹھ پتلی بن کر تھا تھا تھیا کررہا ہے،طالبان تو مذاکرات کو خرافات سمجھتے ہیں اُن کے ملک پر امریکہ کا قبضہ ہے وہ غاصب کو باہر نکالناچاہتے ہیں، پاکستان تو ابھی تک خود کو نقصان پہنچانے سے فارغ نہیں وہ طالبان مذاکرات کو کیا نقصان پہنچائے گا،اُن کیلئے بہترین نیکی یہ ہوگی کہ وہ وینا ملک کو اپنا ہر ا کوٹ پہنادیں تاکہ اُس کا ننگا بدن سردی سے بچ جائے اسے بھارت کی شہریت بھی دلوادیں تاکہ اُن کو بھی حرارت پہنچے، یہ المیہ ہے کہ ہر دور میں دشمنانِ اسلام کو مسلمانوں میں غدار مل جاتے ہیں اور تاریخ اُن کے چہروں پر ایسی کالک مل دیتی ہے کہ جس کو کرزئی سات کنوﺅں کے پانی سے دھوئیں تو بھی صاف نہ ہوگی، یہ امریکی تو یہاں سے بصدِ سامانِ رسوائی رخصت ہوجائیں گے اور کرزئی کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ وہ امریکہ کے کسی کونے میںجاکر اپنا پرانا افغان ریستوران ازسر نو سنبھال لیںیا پھر امریکہ حسب معمول ٹشو پیپر کی مانند اُن کو بھی کئی اور غداروں کی طرح ڈسٹ بن میں پھینک دے گا۔
٭....٭....٭....٭....٭
منصور اعجاز قادیانی،20سال سے سی آئی اے کا ایجنٹ، اپنا پرائیویٹ جیٹ طیارہ سابق نائب امریکی صدر الگور،کیری، جیمز جونز سے قریبی تعلقات، والد ڈاکٹر عبدالسلام کا کزن، دادا مرزا غلام احمد کے ابتدائی 313 ساتھیوں میں شامل تھا۔ خبر کی پوری تفصیل طویل ہے جس کیلئے ہمارے پاس جگہ نہیں ،اسلئے قارئین اسے مکمل پڑھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قادیانی اگر ہمارے اندر اور باہر موجود ہیں تو یوں سمجھیں کہ آستین کا یہ سانپ یہاں وہاں ہر جگہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اپنے کفر کے بے پردہ ہونے کا ماتم بھی کر رہا ہے اور انتقام بھی لے رہا ہے،اسلئے حکومت اور عوام دونوں کو ملک کے اندر اور باہر اس کے زہر یلے اثرات کو روکنا اور ہر قادیانی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی ہوگی،تقسیم سے پہلے برطانیہ نے قادیانی پودے کو نہ صرف کاشت کیا بلکہ اُس کی آبیاری اس حد تک کی کہ امریکہ نے بھی پوست کے اس پودے سے استفادے کو اپنالیا اور آج منصور اعجاز جو میمو گیٹ سکینڈل کے باعث کپڑوں سے باہر ہوگیا ہے،اُس کا پورا شجرہ بے نقاب ہوگیا ہے اور امریکہ کو یہ جھوٹے نبی کے پیروکار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کے خلاف جو مدد فراہم کر رہے ہیں وہ کسی طرح سی آئی اے کی خدمات سے کم نہیں، لیکن خدا کی لاٹھی کہہ رہی ہے کہ ....
بہر رنگے کہ جامہ می پوش
من انداز قدت را می شناسم
(تو جس روپ میں جہاں بھی ہے، میں تیرے حدود اربعہ کو خوب جانتا ہوں) حیرانگی اور کس قدر افسوس اس بات پر ہے کہ 20 سال سے ایک شخص پاکستان دشمن کارروائیوں میں مصروف ہے، وہ دولت سے غسل کرتا اور اپنے جہاز میں پرواز کرتا ہے اور امریکی حکومت اسے گودلے چکی ہے پھر بھی پاکستانی قوم اور میڈیا کو اس سے بے خبر رکھا گیا۔ ہماری انٹیلی جنس کو اگر پتہ نہ تھا تو نا اہلی ہے اور اگر معلوم تھا تو ملکی مفاد کی پامالی ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کا مرکز ربوہ ہے کبھی کسی حکومت نے اسرائیلِ ثانی کو Exploreکرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ دشمن خود اپنے چہرے سے نقاب الٹ رہا ہے اور ہم پھر بھی اس کی پہچان رکھنے میں غفلت برت رہے ہیں، حکومت سے توقع نہیں البتہ پاکستانی جہاں کہیں بھی ہیں قادیانیوں پر نظر رکھیں اور خبر دیں۔ اہل پاکستان یہ جان رکھیں کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ نے قادیانی ہونے کے باعث قائداعظم کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی تھی کیا یہ واقعہ قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کیلئے کافی نہ تھا۔ ہم نے ان کی تکفیر میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
٭....٭....٭....٭....٭
وزیراعظم نے نئے قواعد کی منظوری دیتے ہوئے گریڈ20 سے 22 کے افسروں کیلئے نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگادی، یہ افسران محکمانہ پراجیکٹ آپریشن اور جنرل ڈیوٹی گاڑیاں بھی استعمال نہیں کرسکیں گے۔ اس پالیسی کے نافذ ہونے سے قومی خزانے کو ایک ارب36کروڑ 90لاکھ روپے کی بچت ہوگی، افسران بالا کیلئے اقبال کی نصیحت عرض ہے....
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
بلکہ اب تو یہ بھی چاہئے کہ نئے صبح وشام پیدا کر۔
ضرورت یہ ہے کہ تعیشات و مراعات و سہولیات کو اتنا سمیٹ لیاجائے کہ افسری کے شوقین پیچھے ہٹ جائیں اور قوم کے خادم سامنے آئیں۔وزیراعظم گیلانی بڑے اچھے آدمی ہیں وہ قومی خزانے کو چار سال مسلسل خالی کئے جانے کے بعد اب آخری برس بھرنے کی کوشش کررہے ہیں تو بھی ہم تحسین پیش کرتے ہیں، انہوں نے افسروں کی قبا کے بٹن تو بند کردئیے، ذرا اب حکومت یعنی حکمرانوں کو بھی اچھے بچے بن کر خود اپنا احتساب کرلیناچاہئے اور یہ اللے تللے بند کردیناچاہئے ،یہ بات کسی سے چھپی ڈھکی نہیں کہ قوم کے خون پسینے کی کمائی حکمران حسینوں کے پرسوں میں ڈالتے ہیں اور ہمارے غریب عوام اور نہیں تو اُن دلالوں اور سپلائرز کو بے نقاب کریں ۔ میڈیا کو اُن کی تصاویر اور ثبوت فراہم کریں تو افسروں کی شاہ خرچیوں سے بڑھ کر قومی دولت بچانے کے امکانات روشن ہیں۔ اگر کسی نے ضرور بالضرور عیاشی کرنی ہے تو وہ اپنی ذاتی دولت سے کرے،قوم نہیں پوچھے گی البتہ اللہ پوچھے گا تو اسی دنیا میں پونچھ نکل آئیگی،ایوان صدر سے لیکر تابہ ایوان وزیراعظم اور پھر وزراءمشیران ہیچمدان کے ساتھ اسمبلیوں کے ارکان کی خوش فعلیوںپر خرچ ہونے والی قومی دولت کا بھی حساب لیاجائے، آخر دو روٹیاں کھانے والے انسان کو ضرور تنور میں سردینا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
اعتزاز احسن فرماتے ہیں: دعویٰ سے کہتا ہوں مشرف23مارچ2040 تک وطن واپس نہیں آئیںگے۔
ہمیں توقع نہ تھی کہ اتنا بڑا ماہر قانون اور طرار وکیل یہاں آکر غچہ کھاجائیگا،انہوں نے اپنی طرف سے تو نجومی بننے کی کوشش کی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ مشرف کی عمر میں 2040 تک اضافہ کردیا، یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ اب وہ نہ آئے گالیکن اعتزاز احسن ایک ناپسندیدہ کو درازی عمر کی گویا دعا دے بیٹھے بے شک انجانے میں مگر اب تو وہ یہ کہہ گئے ہیں اگر وہ اب یوں پیش گوئیوں پر اُتر آئے ہیں تو طوطا بھی پال لیں،لفافے بھی جمع کرلیں شاید وہ روتی بسورتی قوم کو اور نہیں ہنسا تو سکیں۔ انسان جب بہت پڑھ لکھ جائے کہ ذہن چھوٹا پڑ جائے تو پھر اسی طرح کی باتیں کرنے لگتا ہے جیسا کہ اعتزاز نے لب کشائی کی ہے یہ تو طے ہے کہ پرویز مشرف اب واپس نہیں آئیگا لیکن یہ 23مارچ2040ءکی ڈیٹ کیا اُن کو عزازیل نے دی یا عزرائیل نے، ہمارا اندازہ ہے کہ موصوف بنیادی طورپر تصوف کے آدمی ہیں اگر تھوڑی سی ریاضت کرلیں اور ورد اوراد پر زوردیں تو اور بھی کئی غیب کی خبریں دے سکتے ہیں، مشرف کو لال پری اور جل پری سے فرصت نہیں، انہیں پاکستان آکر شوریدہ سری سے کیا غرض؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ....
شرافت نے شرارت سے دل جوڑ لیا
اور یوں ایک ہی جھٹکے میں حقیقت سے منہ موڑلیا
٭....٭....٭....٭....٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter