تازہ ترین:

جمعرات ‘ 19 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ 4؍ فروری 2010ء

ـ 4 فروری ، 2010
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے۔
ملتان میں گدھا گاڑیوں پر بیٹھ کر لوگوں نے احتجاج کیا‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب اس ملک میں گدھا گاڑیاں چلیں گی کیونکہ ان کو پٹرول کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاجروں اور سیاسی رہنمائوں نے اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے‘ جبکہ سپریم کورٹ بار نے بھی احتجاج کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع پر کہا کہ حکومت غریب ختم کرنا چاہتی ہے‘ حالانکہ غریب تو کب کے ختم ہو چکے ہیں۔ بس فرق اتنا رہ گیا ہے کہ قبروں سے اپنی لاشیں اٹھائے پھرتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے سربراہ نے کہا‘ عوام پہلے ہی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں‘ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سراسر ظلم ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ اضافہ غیرملکی آقائوں کے اشارے پر کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کیوں اپنے پائوں پر کلہاڑا چلا رہی ہے‘ اسے تو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو اسکی حکومت کو استحکام بخشے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور ہمارے ہاں ایک ماہ میں دو مرتبہ اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے بچی کھچی صنعت ٹھپ ہو کر رہ جائیگی۔ کیا روٹی کپڑا مکان اس طرح سے دیا جاتا ہے کہ غریبوں کی چمڑی بھی اتارلی جائے۔ اس اضافے سے مہنگائی کا جو نیا طوفان آئیگا‘ اس کو عوام ہی روک سکتے ہیں‘ بشرطیکہ وہ متحد ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں کیونکہ احتجاج ان کا بنیادی حق ہے‘ آئل ٹینکرز نے مردانہ وار بیان دیا ہے کہ اضافہ واپس نہ لیا گیا تو نیٹو کو سپلائی بند کردیں گے۔
٭…٭…٭…٭
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کو پانچ سال کی مہلت دی گئی تو پاکستان نہیں بچے گا۔
جو ملک 62 سال سے بچا چلا آرہا ہے‘ اس کو پانچ سال میں بھی کچھ نہیں ہو گا البتہ خان صاحب کو مشورہ ہے کہ وہ ان پانچ سالوں میں اس قابل بن جائیں کہ وزیراعظم بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں‘ انکی مثال نئے برتن کی سی ہے‘ جسے ابھی استعمال نہیں کیا گیا۔ قوم کو بھی موقع مل جائیگا کہ وہ انہیں آزمالیں‘ ویسے خان صاحب انقلابی ذہن رکھتے ہیں اور پاکستان کے ہیرو ہیں۔ تحریک انصاف بھی قدم در قدم ترقی کر رہی ہے‘ اگر وہ ذرا سا عوام میں گھل مل جائیں اور اپنی تحریک کا ٹمپو تیز کر دیں تو بات بن سکتی ہے۔ موجودہ سٹاک میں یہی چار پانچ افراد ہیں جو باری باری آتے ہیں اور قوم انہیں آزما آزما کر اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ آج غربت کا خاتمہ تو کیا‘ غریب ہی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
عمران خان ابھی جواں سال ہیں‘ وہ جواں سالوں کے امام بن سکتے ہیں۔ بات صرف یہ ہے کہ ان کو ایسے ورکرز میسر نہیں جو ان کا جھنڈا لیکر چلیں اور انکی تحریک کو عوام میں عام کر دیں۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرپٹ افراد عدلیہ کیخلاف سازش کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قوم کو عمران خان کو ایک موقع دینا چاہئے کیونکہ اب اس ملک کو پرانی نہیں نئی قیادت کی ضرورت ہے‘ ان کو چاہئے کہ پوش علاقوں میں جلسے کرنے کے بجائے کچی بستیوں کا رخ کریں۔
٭…٭…٭…٭
صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے جب انکے پلازے کے متعلق بنائی جانے والی کمیٹی کے اراکین اور اسکے چیئرمین کے بارے میں پوچھا گیا تو اس پر وزیر قانون نے کہا کہ جو لوگ اپنی صحافت بچانے کیلئے سیاست کر رہے ہیں‘ انہیں صحافی نہیں مانتا۔
وزیر موصوف سے کوئی یہ پوچھے کہ غریب صحافی اپنا مکان تو بنا نہیں سکتا‘ سیاست کیا کریگا۔ سیاست کرنیوالے تو پلازے بناتے ہیں‘ بہرحال وزیر قانون کی یہ بات خوش آئند ہے کہ اگر ان کا پلازہ غیرقانونی ثابت ہو گیا تو وہ مستعفی ہو جائینگے۔ انہوں نے یہ بھی گلا کیا ہے کہ سیاست دانوں نے کیا کیا نہیں بنالیا‘ جبکہ میں نے تو صرف ایک پلازہ کھڑا کیا ہے۔ ہماری تو خواہش ہے کہ وہ بھی اسی صف میں شامل ہو جائیں جنہوں نے اینٹوں کی جگہ دولت کے پلازے کھڑے کر رکھے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ میں سیاسی کارکن ہوں اور کبھی بھی خوف کا شکار نہیں ہوا‘ میں تو ان صحافیوں کے ساتھ ہوں جو خبر کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ صحافی اگر خبر کے پیچھے نہ بھاگتے تو انکے پلازے کا انکشاف کیسے ہوتا؟ بہرحال وہ وزیر قانون ہیں‘ غیر قانونی پلازے کو اپنے ہاتھوں سے مسمار کرکے ایسی مثال قائم کرینگے جو آئندہ کیلئے نمونہ بن جائیگی۔ خدا کرے کہ ان کا پلازہ قانونی نکلے‘ مگر تاحال یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا‘ وہ نڈر لیڈر ہیں‘ ایک پلازہ تو کیا‘ ایسے ہزار پلازے بھی گرا دیئے جائیں تو ان کو فرق نہیں پڑیگا‘ اس لئے کہ وہ کبھی خوف کا شکار نہیں ہوئے۔
٭…٭…٭…٭
آرمی چیف نے کہا ہے کہ بھاری نقصان کے باوجود عزم متاثر نہیں ہوا‘ دہشت گردی ختم کرکے رہیں گے‘ عالمی برادری اعتبار کرلے۔
آرمی چیف سے بصد ادب عرض ہے کہ عالمی برادری نے کبھی ہمارا اعتماد کیا ہے‘ جو اب کریگی؟ اور یہ جو دہشت گردی ہے‘ اسے آپ ضرور ختم کریں مگر یہ بھی تحقیق کرلیں کہ یہ کن کن کے ہمراہ آئی ہے۔ غیروں کیلئے بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود اگر ان کا عزم متاثر نہیں ہوا تو ہم انکے عزم کو سلام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان پر کنٹرول حاصل نہیںکرنا چاہتا‘ جس ملک پر امریکہ نیٹو سمیت کنٹرول حاصل نہیں کر سکا‘ اس پر کیا کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔ اگر یہ جنگ امریکہ کی نہیں ہماری ہے تو یہ امریکہ کی آمد سے پہلے کہاں تھی۔ بہرحال وہ کمانڈر انچیف ہیں‘ وہ سب وجوہات جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکہ کی نہ مانیںگے تو کہاں جائینگے۔ مشرقی سرحدوں پر جو کچھ ہو رہا ہے‘ وہ اس سے بھی باخبر ہونگے ‘ بھارت نے کشمیر کے بعد ہمارے پانی پر قبضہ کرلیا ہے‘ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ایسے حالات میں امن آشا مہم میں شامل ہو جائیں‘ یہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ڈرون طیاروں کی دہشتگردی کا نوٹس کیوں نہیں لیتی‘ جبکہ دعویٰ یہ ہے کہ ہم ڈرون گرا سکتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter