تازہ ترین:

اتوار‘ 8 محرم الحرام 1433ھ‘4 دسمبر 2011

ـ 4 دسمبر ، 2011
وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے‘ شمسی بیس خالی کرانے کا وعدہ پورا کرینگے۔ امریکی اہلکاروں کی فہرستیں بنا رہے ہیں مگر امریکی عہدیدار فرماتے ہیں‘ مستقبل قریب میں انخلاءنہیں کر رہے۔
پریشان ملک کاش پریشان خٹک مرحوم ہی ہوتے تو ہم کم از کم فاتحہ خوانی کرکے شمسی ایئربیس تو خالی کرا لیتے۔ یہ جو وہ فہرستیں تیار کر رہے ہیں‘ اس کو کہتے ہیں Delaying Tactics اور یہ ترکیب نمبر11 ہے جو اونچے کنگروں والے محل سے ”چٹے مکان“ کے تھرو آئے ہیں کہ ”رولا رپا پائی رکھو‘ شمسی“ نوں ٹرخائی رکھو“ یہ محرم کا وہ مہینہ ہے جب شہادتوں کے انبار لگ گئے تھے۔ اس وقت ملک میں بھی ایک خود ساختہ کربلا ہے اور ملک صاحب باور کرلیں کہ یہاں اسلام زندہ ہو گا اور شیطان کبیر جو گاڈفادر ہے‘ رحمان ملک کا۔ بھلا وہ کیا شمسی ایئربیس کو خالی کرائے گا؟
ملک صاحب کی یہ یقین دہانی کہ خالی کرائیں گے‘ کو امریکی عہدیدار کا یہ جملہ کاٹ گیا ہے‘ کہ مستقبل قریب میں انخلاءنہیں کرینگے۔ یعنی ایک تو مستقبل اور وہ بھی بعید‘ لیکن رحمان ملک صاحب کے جو دل کے قریب ہیں‘ وہ شمسی ایئربیس کے انخلاءکو اتنا ہی دور لے جائیں گے جتنا کہ صورِ اسرافیل۔ ویسے بھی اب ”گوگو“ بجنے والا ہے‘ اسکے بعد امریکہ شمسی ایئربیس تو کجا‘ افغانستان بھی خالی کردیگا۔ حالات ایسا پلٹا کھا رہے ہیں کہ جو امریکہ کا کھا رہے ہیں‘ وہ حق نمک ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہےں گے۔ اگر بڑے صاحب‘ پھر بڑے صاحب اور کئی چھوٹے صاحبانِ اقتدار اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ ڈنگ ٹپائیں گے تو بہتر ہے کہ وہ چوڑیاں پہن کر رسہ ٹاپنا شروع کر دیں۔ پھر بھی یہ مورکھ یہی کہیں گے....
میں نے پاﺅں میں پائل تو باندھی نہیں
کیوں صدا آرہی ہے چھنانن چھنانن
٭....٭....٭....٭
چودھری نثار کہتے ہیں‘ روحانی فرزند زرداری بتائیں بھٹو کی پھانسی کے روز وہ کیا کر رہے تھے؟
زرداری صاحب جواب صدر محترم بھی ہیں اور بلاشبہ روحانی جسمانی بیٹا ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں‘ ہمیں بھی اپنی ولدیت بدلنے کی مٹھائی کھلا دیں کیونکہ ان کا روحانی والد عالم ارواح میں بھی انکے ہوتے ہوئے اپنی حقیقی بیٹی کا قتل نہ بھول سکے گا اور نہ ہی یہ فراموش کر سکے گا کہ انہوں نے اپنے روحانی باپ کی پھانسی پر چپ سادھ لی تھی اور کم از کم سندھ کے جیالوں کو بھی سڑکوں پر نہ لا سکے۔ اب بھی موقع ہے کہ وہ ایوان صدر میں شہید بھٹو سے روحانی اکتساب کرلیں۔ وہ صدر ”بکارِخاص“ ہیں اور ہر بات کا جواب چاہے ضرورت ہو نہ ہو‘ دینا پسند نہیں کرتے۔ ان کو غالب کا یہ شعر ضرور یاد ہوگا....
غالب وظیفہ خوار ہو دو اوباما کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں
انہوں نے اپنا نام خود تو نہیں رکھا ہو گا لیکن ان کا نام تقاضا کرتا ہے کہ وہ اسکی لاج رکھیں کیونکہ بابر نے ہندوستان فتح کرکے کہا تھا ’بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ زرداری نے وائٹ ہاﺅس کو فتح کرکے خوب عیش کوشی کرلی ہے اور ان کو کیا چاہیے۔ چودھری نثار جو زرداری پر انگلی اٹھا رہے ہیں‘ وہ بھی یہ نہ بھولیں کہ بحیثیت اپوزیشن لیڈر چار سال اپنے اردگرد ہر ناکردنی دیکھ کر انہوں نے ماسوا تقریروں کے کیا کیا؟ اگر اتنی زور دار اپوزیشن پاﺅں بھی زمین پر مارتی تو حالت اس نوبت تک نہ پہنچتی کہ حکمران آپس میں دولت تقسیم کرتے اور عوام پیٹ پر پتھر باندھتے یا زندگی سے خلاصی پانے کی کوشش کرتے۔
٭....٭....٭....٭
(ہم نے تصویر کا اوپر والا حصہ دیا ہے جبکہ یہ تصویر جہاں شائع ہوئی‘ مکمل برہنہ ہے)
ایک بھارتی میگزین نے ٹائٹل صفحہ پر پاکستانی اداکارہ وینا ملک کی ایک شرمناک تصویر شائع کی ہے اور اسکے برہنہ جسم کے اگلے حصے پر آئی ایس آئی لکھا ہوا ہے۔
ناطقہ سربگریبان ہے کہ اس تصویر کو حسن کا ایکسرے کہیں یا ایک باقاعدہ خاتون کی تصویر۔ یوں تو وینا ملک کا جینا اس طرح کی ”شریفانہ“ حرکتوں سے پٹا پڑاہے مگر اس تصویر نے تو اس لئے بھی ہر پاکستانی کو شرمندہ کر دیا کہ اسکے بازو پر آئی ایس آئی بھی لکھا ہوا ہے۔ وینا ملک رحمان ملک سے پوچھ لیں کہ ان کو یہ تصویر کیسی لگی کیونکہ وہ بھی ملک ہیں‘ بس وینا نہیں۔ وینا ملک جس روانی سے عریانی و بے حیائی کی شاہراہ پر محو خرام ہیں‘ اب انہیں زیب دیتا ہے کہ وہ اپنا نام مینا ملک رکھ لیں۔ کوئی ساغر بھی مل جائیگا۔
پاکستانی قوم کو اگرچہ فخر نہیں لیکن وہ شاید اب اس کو دیکھ کر خوش بھی نہ ہوں اور یہاں وہاں کے عیاش شاید فخر کریں کہ جو وہ چاہتے تھے‘ مینائے مُلک ویسی ہی بن گئی۔ شاید اسی دن کیلئے وہ بھارت کی شہریت کیلئے کوشاں ہے کہ وہاں سیکولر معاشرے میں کھل کر داد مل سکے گی۔ البتہ ہماری قابل فخر فوج کو بدنام کرنے کیلئے بھارت نے وینا کو خوب استعمال کیا ہے۔ آئی ایس آئی چاہے تو اپنی اس بدنامی کے اشتہار کو عدالت میں لے جا سکتی ہے۔ بلاشبہ وہ عریانی کو گلے سے لگائے رکھے مگر دشمن کے کہنے پر اپنی فوج کو تو رسوا نہ کرے۔ کیا آئی ایس آئی اس خوبصورت سائن بورڈ پر چپ رہے گی؟
٭....٭....٭....٭
بلاول ہاﺅس کے ترجمان کا کہنا ہے‘ نواز شریف کی پریس کانفرنس کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ بلاول ہاﺅس کے ترجمان یہ کہنا چاہتے ہوں‘ ”بپھرا شیر بلاول ہاﺅس کو نوچے“۔ میاں نواز شریف جب ایک سیدھی سڑک پر چل رہے ہیں تو انہیں کیوں کچی سڑک پر اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ نواز شریف‘ فی الواقع شریف سیاست دان ہیں اور قاعدے قانون کے مطابق حریف کو ناک آﺅٹ کرنے کے بڑے ماہر ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول ہاﺅس جو ایک عرصے سے خاموش تھا‘ جب بولا تو وہاں سے کھسیانی بلی ہی برآمد ہوئی۔ آخری دن ہیں‘ مے خوار سے گزارش ہے کہ تلچھٹ بھی چاٹ جائے کیونکہ مینا خالی ہونے کو ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter