بدھ ‘22 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘4؍ اگست 2010ء

ـ 4 اگست ، 2010
ایل ڈی اے کے افسران کے کام کو کتابی شکل دینے کیلئے ایک کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی، اعلیٰ شخصیات کی من پسند فرم کو رقم ادا کی گئی۔
ناطقہ سر بگریباں ہے کہ ایل ڈی اے کی اس حرکت کو کیا کہیں، بہرصورت اتنا تو کہہ سکتے ہیں…؎
آپ ہی اپنی ادائوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کرینگے تو شکایت ہوگی
ایل ڈی اے جو تیر مارتا ہے اس کی اُسے پوری پوری تنخواہ ملتی ہے جبکہ اور بھی کافی کچھ ملتا ہے پھر یہ نئی بدعت خبیثہ شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی، ایل ڈی اے کی کارکردگی کا جو ریکارڈ عوام کے حافظے میں محفوظ ہے کیا نام نہاد حُسنِ کارکردگی کی اس کتاب سے وہ محو ہوجائے گا، قومی خزانے کا ایک کروڑ روپیہ اس لہو و لعب پر ضائع کرنا چہ معنی وارد؟ اگر کوئی ناکردینوں کو پوچھنے والا ہے تو اس زیاں کاری کا نوٹس لے، وزیراعلیٰ پنجاب پہلے تو ان افسران کو الٹا لٹکائیں جو اپنے کاموں پر مشتمل ایک کروڑ کے سرکاری خرچ پر کتاب چھپوا رہے ہیں، ایل ڈی اے کی نذر ایک شعر ہے…؎
جانے کیا چیز ہے تیرا پیکر
تجھ کو دیکھوں تو دل ’’ دہلتا‘‘ ہے
٭…٭…٭…٭
کینیڈا میں دو برقعہ پوش خواتین کے طیارے میں سفر کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔
خدا جانے کینیڈا سے کیسے یہ غلطی ہوگئی کہ اُس نے اسلام کے پردہ سسٹم پر عمل پیرا دو مسلم خواتین کو طیارے میں بیٹھنے دیا اس کا جواب آں غزل تو یہ ہے کہ جن مغربی ملکوں کی خواتین پاکستان میں داخل ہوں تو برقعہ پہن کر آئیںاور سکرٹ وغیرہ پہننے کی ممانعت کردی جائے اور کہہ دیاجائے کہ آپ کا ماحول اگر برقعے سے ڈسٹرب ہوتا ہے تو ہمارا ماحول آپ کے انداز لباس سے خراب ہوتا ہے اور ہماری برقعہ نہ پہننے والی مسلم خواتین سے بھی درخواست ہے کہ وہ برقعہ پہننا شروع کردیں، غیرت اسلامی کا تقاضا تو یہی ہے برقعہ نہیں تو کم سے کم حجاب پہننا اسلام میں تقویٰ کی نشانی ہے کیا مغرب کوئی ایسی ایک مثال پیش کرسکتا ہے کہ برقعہ پہننے والی کسی خاتون نے کسی طیارے میں بم رکھا ہو، یا اُس سے اسلحہ برآمد ہوا ہو۔ مغرب کے حکمران تو اس طرح برقعہ پوش خواتین کے پیچھے پڑ گئے ہیں جیسے ہمارے ہاں بینکوں والے چھوٹے قرض داروں کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور بے پردہ مسلم خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بے پردہ مسلمان خواتین اور اُن کے مردوں کو اکبر الٰہ آبادی کا یہ شعر یاد رکھناچاہئے…؎
بے پردہ نظرآئیں جو کل چند بیبیاں
اکبرزمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو اُن سے آپ کے پردے کو کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
٭…٭…٭…٭
سابق کینیڈین سفیر نے ہرزہ سرائی کی ہے کہ پاک فوج افغانستان میں گوریلا جنگ کرارہی ہے۔
اللہ جانے پاکستان نے کینیڈا کا کیا بگاڑا ہے کہ وہ برقعہ پوش خواتین اور پاکستان کے پیچھے پڑ گیا ہے، کل کو کینیڈا سے یہ آواز اُٹھ سکتی ہے کہ کینیڈا میں اتنے پاکستانی آگئے ہیں کہ وہ وہاں منی پاکستان بنانا چاہتے ہیں، پاک فوج مغرب کی خاطر افغانستان میں جنگ لڑ رہی ہے اور پاکستان میں بھی برسر پیکار ہے اور جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے،اس کا صلہ یہ ہے کہ سابق ہونق کینیڈین سفیر نے یہ ہانک دی کہ پاکستان کی فوج افغانستان میں گوریلا جنگ کرا رہی ہے، حالانکہ پاکستان کے خلاف خود کش حملے ہورہے ہیں کہ پاکستان مغربی طاقتوں کا پٹھو ہے کینیڈین حکومت کو اپنے سابق سفیر کو لگام دینی چاہئے کہ وہ پاک فوج کے خلاف الزام تراشی بندکرے اور جو اُس نے کہا ہے اس پر اُسے سزا دینی چاہئے، حکومت پاکستان بھی اب ان ’’انعامات و اکرامات ‘‘کو دیکھتے ہوئے ہاتھ کھینچ لے کیونکہ یہ بیکار کی بیگار بہت ہوچکی اور جواب میں ہرزہ سرائیاں ملنے لگی ہیں۔
٭…٭…٭…٭
وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے، رگڑا بھی مجھے ہی ملتا ہے۔
رگڑا ہمیشہ زنگ آلود چیز کو لگایا جاتا ہے، ملک صاحب بظاہر تو بہت اجلے اجلے سے ہیں لیکن کہیں کہیں سے اُن کو زنگ لگ گیا ہے ، اگر اسی طرح رگڑا جاری رہا تو ایک دن وہ کندن بن جائیں گے اور اُن کی چمک آنکھوں کو خیرہ کردے گی، اس لئے وہ رگڑے کو یوں سمجھیں…ع
کہ یہ تو لگتا ہے تجھے اور چمکانے کے لئے
زرداری صاحب کو دو وزیر بے نظیر ملے ہیں، ایک رحمان ملک دوسرے بابر اعوان، ان دونوں میں یہ وصف بھی ہے کہ آپ چاہیں رحمان ملک کو بابر اعوان منی داڑھی کے باوجود سمجھ لیں اور بابر اعوان کو رحمان ملک آج تک کسی کابینہ میں ایسی جوڑی دیکھنے کو نہیں ملی، اُن سے جب پوچھا گیا کہ طیارہ حادثہ کیس کی ابتدائی تحقیقات کب قوم کے سامنے لائی جائے گی اس پر رحمان ملک نے کہا ہم نے اپنا کام کردیااب ایوی ایشن والوں سے پوچھیں، ظاہر ہے انہوں نے جو کرنا تھا کردیا اب ایوی ایشن والے شواہد جمع کرکے رحمان ملک کو بتادیں گے اور وہ قوم سے چھپالیں گے،اس طرح وہ اپنا کام مکمل کرلیں گے جیسا کہ پہلے ہوتا آیا ہے!۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter