چیف جسٹس پاکستان افتخار محمدچودھری نے کہا ہے‘ دریائے فرات کے کنارے کتا مرنے کا ذمہ دار خلیفہ‘ یہاں قیدی ہلاک ہو تو کون ذمہ دار ہے؟
ساٹھ برس تک غیر ذمہ دار رہے‘ اب اگر عدلیہ اپنی آزادی کے ذریعے حکمرانوں کو ذمہ داری کے راستے پر لے آئے تو یہ اس قوم و ملک پر بہت بڑا احسان ہو گا۔ ہمارے ہاں تو یہ حال ہو چلا ہے کہ ہمارے فرات کے اپنے ہونٹ خشک ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ پیاسے لوگوں اور جانوروں کی پیاس بجھا سکے۔ چیف جسٹس نے ملکوال کے بخشی خانے میں قیدیوں کی مشکلات کے حوالے سے ازخود نوٹس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عمرؓ کی طرح گلیوں میں گھوم کر لوگوں کا درد جاننا گڈگورننس ہے‘ جسے حکومت نے قائم کرنا ہے۔
ساٹھ برس کا گند یوں دو چار نوٹسوں سے تو جائے گا نہیں‘ اس کیلئے ایک مسلسل عمل کی ضرورت ہے۔ یہ اب عدلیہ نے خود سوچنا ہے کہ وہ چیف جسٹس کی رکھی ہوئی بنیاد پر کچھ تعمیر کرتی ہے اور تحریک جاری رہے گی اور انصاف کے ساتھ انصاف کیا جائیگا۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی آٹا‘ دالیں اور دیگر اشیاء بھی مہنگی ہو گئیں۔
حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ قوم پر اتنا ہی بوجھ ڈالیں جس سے اسکی کمر نہ ٹوٹنے پائے‘ اس لئے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے خوردو نوش اور دیگر تمام مصنوعات مہنگی ہو چکی ہیں۔ ہر ماہ بلکہ پندرھواڑے قیمتوں میں اضافے سے تاجروں‘ دکانداروں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ درمیان میں اگر کبھی بین الاقوامی منڈی میں تیل کے نرخوں میں کمی کی جائے تو اس کا فائدہ عوام کو نہیں دیا جاتا اور نرخ ایک اور بلندی پر فائز ہو جاتے ہیں۔
کبھی یوں نہیں ہوتا کہ اگر بعد میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہو جائے تو مصنوعات کی گرانی بھی کم کی جائے۔ میڈیا کو چاہئے کہ وہ اس بات کو بے نقاب کرے کہ کس طرح عام صارف متاثر ہوتا ہے اور کس طرح بڑھے ہوئے نرخ تیل کی ارزانی کے ساتھ سابقہ پوزیشن پہ نہیں لائے جاتے۔ سفید پوش افراد اپنی دہری کمر کے ساتھ چلتے نہیں‘ رینگتے ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے سفید پوشی بھی نبھانی ہے اور بھوکے بھی نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد لانے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
جماعت اسلامی تو مہنگائی کیخلاف آج سے تحریک چلائے گی اور ٹرانسپورٹروں نے بھی پہیہ جام ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔ اس ملک کو اللہ نے زیر زمین اتنے وسائل دے دیئے ہیں کہ جن کو زمین سے باہر لانے کیلئے بس ایک خبر چھپتی ہے اور پھر وہی خاموشی اور تاریکی چھا جاتی ہے۔ جو پہلے بھی تھی اور آج بھی قائم دائم ہے۔ حکومت نے امریکہ کی خوشنودی کیلئے فوج کو آپریشنز پر لگا دیا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ ان مسلمانوں کو ایک دوسرے کا قاتل بنائو اور انکی مدد صرف جنگ کیلئے کی جائے تاکہ مہنگائی کا طوفان بھی حکومت کو ناکام کرنے کیلئے کافی شافی ہو۔ ہمارے حکمران مل کر اس شاخ کو کاٹ رہے ہیں‘ جس پر وہ عوام سمیت بیٹھی ہوئے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
جامعہ بنوریہ کے شیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے فتویٰ دیدیا ہے کہ زیادہ بچے پیدا کرنے پر ٹیکس خلاف شریعت ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ ہر معاملے کو حکومت طاقت کے ساتھ درست کرنے کی پالیسی وضع کی جائے‘ بچے کم پیدا کرنا یا زیادہ پیدا کرنا ایک خالصتاً ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ٹیکس کو جبری ٹیکس نہ بنایا جائے۔ آبادی کو کنٹرول میں لانا کوئی غیرشرعی فعل نہیں لیکن جن طریقوں سے ہم اسے قابو کرتے ہیں‘ وہ غیرشرعی ہوتے ہیں۔ جیسے اسقاط حمل اور آپریشن وغیرہ کے ذریعے آبادی میں کمی لانا درست نہیں۔
قرآن نے کھل کر کہا ہے کہ ’’لاتقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق‘‘ (غربت و تنگدستی کے نتیجے میں اپنی اولاد کو قتل نہ کرو) شریعت مطہرہ نے آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے ضبط نفس کے طریقے بھی بتائے ہیں۔ جدید دور نے بھی بعض طریقے بتائے ہیں‘ ان پر بھی غور کرکے فتویٰ دے دینا چاہئے۔
٭…٭…٭…٭
پنجاب اسمبلی میں ہنگامے پر چودھری غفور کی آٹھ اور بشریٰ گردیزی کی ایک روز کیلئے رکنیت معطل کی گئی اور ان کا ایوان میں داخلہ بند کر دیا گیا۔
اچھا ہوا کہ پنجاب اسمبلی مچھلی منڈی بننے سے بچ گئی اور سپیکر نے فوری ایکشن لے لیا۔ مرد‘ مرد سے ٹکرا جائے تو ہمارے معاشرے میں اس کی پرواہ نہیں کی جاتی مگر مرد عورت سے ٹکرا جائے تو طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے اسی لئے بشریٰ گردیزی کو صرف ایک دن معطل رہنے کی سزا دی گئی جبکہ چودھری صاحب کو آٹھ دن کیلئے رکنیت سے محروم کردیا گیا۔
یہ مثال بڑی دلکش ہے کہ اسمبلی کے ممبران نے جمہوری انداز اختیار کیا۔ غیر پارلیمانی گفتگو اور برے سلوک کو قبول نہیں کیا۔ الغرض صلح کی تمام رسومات ادا کی گئیں اور اب جملہ ارکان اسمبلی اپنی اپنی نشستوں میں آسودہ رہیں گے۔
اسمبلی قومی ہو یا صوبائی‘ اگر کہیں سے اس کی اسمبلنگ میں کوئی چول ڈھیلی پڑ جائے تو پورا ملک لرز اٹھتا ہے۔ اس لئے اراکین اس کا لحاظ رکھیں۔