تازہ ترین:

منگل‘ 8 صفر 1433ھ‘3 جنوری 2012ئ

ـ 2 جنوری ، 2012
مسلم لیگی دھڑوں میں اتحاد کی کوششیں‘ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
فیصلہ کن مرحلے میں جب گھسیں تو یہ یقین کرلینا چاہیے کہ اب اس میں سے باجماعت اپنے امام میاں صاحب سمیت نکلنا ہے وگرنہ یہ نہ ہو کہ گھس کر باہر نکل ہی نہ سکیں۔ مسلم لیگ ہم خیال کا تو نام ہی ظاہر کرتا ہے کہ سارے چھوٹے بڑے دھڑے ایک ہیں اور انکے خیالات میں کوئی فرق نہیں۔ حامد ناصر چٹھہ کا گھر مبارک رہے کہ وہاں قائد کے سارے ہم خیال یکجا ہونگے اور وہ ڈیرہ داری کے فرائض اس طرح ادا کرینگے کہ سارے مستجب‘ سنت واجب اور فرض یکجا ہو جائیں۔ یہ ایک ایسی فتح ہو گی جس سے بابائے قوم کی روح خوش ہو گی۔ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے مذاکرات کریں مگر انڈین ٹائپ کے نہیں‘ ان کو چٹھہ صاحب اور دیگر دھڑے بہرصورت اپنی اس بیٹھک میں شامل کریں۔ لیگوں میں نون بڑی لیگ ہے‘ اگر اسے محور بنا کر یہ اتحاد جادہ پیما ہو تو منزل تک رسائی یقینی ہے۔
یہاں اس اکٹھ میں ہر لیگی ذات کو بالائے طاق رکھے اور ملک کو یہ مژدہ سنا دے کہ آج سے پاکستان میں وہ مسلم لیگ لوٹ آئی ہے جو قائداعظم کے پرچم تلے صرف مسلم لیگ کے نام سے چلی تھی۔ آج رستہ صاف اور کوئی ف‘ ن‘ قاف نہیں‘ سبھی ایک ہو کر اٹوٹ ہو سکتے ہیں اور آئندہ انتخابات میں کلین سویپ کر سکتے ہیں۔
چٹھہ صاحب کا قد بلند اور لَٹ سلجھ جائےگی‘ وہ ایسا کچھ کریں کہ کوئی لیگی‘ پاکستان مسلم لیگ سے باہر نہ رہ جائے۔ یہی انکی مکمل کامیابی ہو گی کیونکہ وہ ایک نہایت بابرکت اتحاد کے میزبان ہیں۔ جب اتحاد ہو جائے تو شیخ رشید سے بھنگڑے کی فرمائش ضرور کی جائے کیونکہ وہ خوشی کے اظہار میں مہارت رکھتے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
حافظ حسین احمد کہتے ہیں: ٹیسٹ ٹیوب بے بی نہیں‘ ”بابے“ وزیراعظم کو اتاریں گے۔
وزیراعظم نے کہا تھا: ٹیسٹ ٹیوب بے بیز یا سیاسی یتیموں کے کہنے پر میری حکومت نہیں جائیگی۔ اس پر حافظ صاحب نے جو تبصرہ فرمایا ہے‘ اس پر یہ تبصرہ ہے کہ بابے تو ٹیسٹ ٹیوب بے بیز کو گود لے رہے ہیں‘ تو نتیجہ ظاہر ہے کہ اب نہیں تو آنیوالے انتخابات میں گیلانی صاحب کی پارٹی کا ٹانگہ کَلّی سواری لے کر بھاٹی لوہاری چل پڑے۔ حکمران جماعت سے لوگوں کی ”محبت“ جتنی بڑھتی جا رہی ہے‘ اسکے باعث پیپلز پارٹی آخری ہچکیاں لینے لگی ہے۔ اب تو ان کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ ڈالر بغل میں دبائے یہاں سے کوچ کریں اور اپنے اوپر پردہ ڈالنے کیلئے کہہ دیں کہ....
شاہ جی اٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
حافظ صاحب کی پگڑی اور من موہن کی پگڑی میں کفر و اسلام کا فرق ہے‘ وگرنہ پہناوا تو ایک ہی ہے۔ کیونکہ حافظ حسین احمد بھی اس پارٹی کے چشم بے نور چراغ بے ضیاءہیں‘ جس کے پُرکھوں نے کانگریس سے بھی نکاح کیا تھا مگر طلاق کے بغیر ہی علیحدگی ہو گئی۔ اب اس کانگریس کی سابقہ رشتہ دار پارٹی کی نئی نسل پاکستانی ہے‘ پاکستان سے محبت کرتی ہے‘ البتہ جہاد کشمیر پر مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ مذاکرات سے کم از کم ہندو نیتاﺅں سے رام رام تو ہو جاتا ہے۔ البتہ دعا سلام نہیں ہوتی۔
کافر کی موت سے لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے مسلماں کی موت مر
٭....٭....٭....٭
رانا ثناءنے کہا ہے: ہمارے کامیاب جلسوں سے بابر اعوان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
’باربراعوان‘ نے داڑھی قدرے چھوٹی اور بالوں کی کٹنگ بھی سمارٹ کرلی ہے۔ وہ چپ رہنے کی ڈیوٹی پر نہیں‘ بولنے پر تعینات ہیں لیکن آخر کوئی کہاں تک بولے اور جب زبان تھک جائے تو انتڑیاں بولتی ہیں۔ قل ھواللہ تو یہ کہہ نہیں سکتیں کہ اندر قومی خزانہ ہے۔ رانا ثناءاپنا پورا نام لکھا کریں اور اگر اخبار والے صرف ثناءلکھیں تو انہیں منع کر دیں کہ ثناءسے ذہن نسوانیت کی طرف چلا جاتا ہے اور کانوں میں آواز آتی ہے....
پائل کی جھنکار رستے رستے
ڈھونڈے تیرا پیار رستے رستے
مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی‘ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بھی محتاط رہیں کہ وہ بھرے میدان میں کسی بھی بڑے سیاسی کھلاڑی کو اسکی ٹیم سمیت اچک یا پچک سکتے ہیں۔ وہ بیک وقت سیاست دان اور مولانا ہیں‘ اس لئے انکو اب یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ حلوہ ضرور لانا ہے۔ کیونکہ جلوہ حلوے پر فوقیت رکھتا ہے۔ قلم مولانا کی جانب لپک گیا‘ وگرنہ بات تو بابر و ثناءکی ہو رہی تھی۔
رانا ثناءاللہ کی پارٹی نے ایک کامیاب جلسہ کرلیا ہے‘ اب مزید بھی کرینگے‘ بہتر ہو گا کہ وہ ایک جلسہ جاتی عمرہ میں لیگوں کا بھی کرلیں پھر دیکھیں کہ مروڑ کیسے جوڑوں سے اٹھتے ہیں۔ بابر اعوان صاحب اب بزرگ ہو چکے ہیں‘ ان کا لہجہ بھی مروڑ زدہ ہو گیا ہے۔ اس لئے کسی حاذق حکیم سے پھکی لےکر کھایا کریں اور ٹھنڈا پانی نہ پیا کریں۔
٭....٭....٭....٭
مولانا فضل الرحمان فرماتے ہیں: امریکہ کو ہماری نہیں‘ زرداری‘ نواز‘ عمران کی جمہوریت پسند ہے۔
مولانا بڑے اپدیشک ہیں‘ وہ شریعت کے سائے سائے ایسی سیاست کرتے ہیں کہ امریکہ کی مجال نہیں کہ وہ ان پر مہربان نہ ہو۔ انہوں نے نہایت باریشی مہارت کے ساتھ امریکہ کو احساس دلایا ہے کہ وہ ہی طالبان کو غیرطالبان‘ نام نہاد مسلم دہشت گردوں کو قابو اور مسئلہ کشمیر کو اس قدر لٹکا سکتے ہیں کہ اس میں سے جہاد یعنی روح محمد نکال دی جائے۔ وہ ایک دنیادار دیندار ہیں اور آج جتنے بھی سیاست دان ہیں‘ وہ تو انکے سامنے ہیچمدان ہیں۔ زرداری اور نواز کو تو امریکہ کئی بار آزما چکا ہے‘ دونوں نے بھرپور کوشش بھی کی مگر امریکہ شاید Polygamous ہے اس لئے ورلڈ کپ جیتنے والے پر شاید اسکی نظر ہو۔ اب عمران کو خدا امریکہ کی نظربد سے بچائے‘ باقی رہی جمہوریت تو خدارا! جمہوریت پر ترس کھائیں‘ اس کا نام نہ لیں کیونکہ بلاتے اس کو ہیں تو چھم چھم کرتی کرپشن آجاتی ہے۔ امریکہ نے اب تک مولانا کو گہری نظر سے نہیں دیکھا‘ وہ انکی داڑھی کے ساتھ جمہوریت کو بھی دیکھ لے۔ کیونکہ ہمارے ہاں جمہوریت وہی ہے‘ جو ”پیامن بھائے“ اور پیا سمیت انکی پاکستان کیلئے مجوزہ جمہوریت سے کون تماش بین ناواقف ہے؟
٭....٭....٭....٭
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter