وفاقی وزیر دفاع چودھری احمد مختار نے کہا ہے‘ ضرورت ہوئی تو الیکشن میں دوبارہ بندوقیں اٹھالیں گے۔
صدر زرداری کو اپنے وزیروں کو ایک ریفریشر کورس کروانا چاہئے‘ ورنہ حکومت نہ بھی گرنی ہوئی تو گر جائیگی۔ وزیر دفاع کا یہ بیان کتنا اچھا ہوتا اگر وہ کہتے کہ کشمیر فتح کرنے کا وقت آیا تو بندوقیں اٹھا لیں گے۔ کیا جمہوریت وہی ہے جو بندوقوں کے زور پر آئے؟
ابھی کل کی بات ہے کہ وہ چودھری برادران سے تعاون کی بھیک مانگ رہے تھے اور آج انہوں نے کہا ہے چودھری برادران نے اربوں کا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر دیا ہے۔ صدر زرداری یہ بات نوٹ کرلیں کہ انکی حکومت کو انکے وزراء گرا رہے ہیں‘ الیکشن میں وزیر دفاع بندوقوں سے کس کو نشانہ بنائیں گے‘ یہاں تو سب پاکستانی رہتے ہیں۔ کیا بندوقوں سے لائی ہوئی جمہوریت کو جمہوریت کہنا گناہِ کبیرہ نہ ہو گا؟
وزیر دفاع سے پوچھنا چاہئے کہ آپ کا فرض تو پاکستان کا دفاع کرنا ہے‘ کنٹرول لائن پر فائرنگ ہو رہی ہے‘ کشمیری ظلم و ستم سہ رہے ہیں‘ پانی چھن چکا ہے‘ ملک میں بلیک واٹر جیسی کتنی ہی کالی ایجنسیاں کالی بھیڑوں کی طرح گھوم رہی ہیں اور وہ الیکشن میں دوبارہ بندوقیں اٹھانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہی حال دوسرے وزیروں کا بھی ہے کہ کبھی لاشیں گرانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی ملک کو توڑنے کی ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ صدر زرداری تو پیار کی بات کرتے ہیں‘ بندوق کی بات نہیں کرتے‘ انکے وزیروں کو بھی چاہئے کہ انکی پیروی کریں۔
٭…٭…٭…٭
اخبارات میں دو دلچسپ تصویریں شائع ہوئی ہیں‘ ایک بندر کوک پی رہا ہے اور دوسری میں آفریدی نے منہ میں بال لے رکھا ہے۔
اگر یہ درست ہے کہ بندر پہلے انسان تھا یا انسان بننے والا ہے تو پھر سارے ہی بندر کوک پی رہے ہیں اور عوام بے چارے خون جگر سے پیاس بجھا رہے ہیں۔ بندر کے کوک پینے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن آفریدی کا بال منہ میں لینے کی سمجھ نہیں آرہی۔ آیا وہ نئی بال کی آمد کیلئے ایسا کر رہے تھے یا کسی خیال میں انہیں بال سیب لگا اور اسکی ’’چکی وڈ لی‘‘ بہرحال صورتحال کچھ بھی ہو‘ ہم سمجھتے ہیں کہ جیوری کو فلم دیکھ کر بھی غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہمارے ہیرو آفریدی پر دو ٹونٹی ٹونٹی میچوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بال کو کسی خوبرو کا سبب زنخدان سمجھ بیٹھے ہوں‘ جیوری تو پھر جیوری ہے‘ ایک دفعہ تیوری چڑھا لے تو اترتی نہیں۔ آفریدی ایسے نادان تو نہیں اور وہ غیرت مند بھی کافی ہیں کہ بھرے پنڈال میں کیمروں کی موجودگی میں بال کو ٹمپر کریں۔ بے شک انہوں نے اس کا اعتراف بھی کرلیا ہے اور قوم سے معافی بھی مانگ لی ہے مگر ہم نہیں مانتے کہ ہماری کرکٹ نے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے اور یہ لوہا مغرب کے حلق سے اترتا نہیں۔ عمران خان جیسے ہیرو پر بھی بال ٹیمپرنگ کے الزامات لگتے رہے تھے‘ مگر آفریدی نے تو آبیل مجھے مار والی ادا دکھائی ہے‘ اس لئے اب اسکی کوئی توجیہہ نہیں ہو سکتی‘ وہ پٹھان ہیں‘ شاید بال پر اپنا غصہ اتار رہے ہوں۔
بہرصورت بندر کا کوک پینا اور آفریدی کا بال کھانے کی کوشش کرنا‘ دلچسپ و عجیب ضرور ہے۔ ایک مغربی سائنس دان ڈارون نے کہا تھا کہ انسان درحقیقت بندر ہے‘ ہمارے کسی سائنس دان نے تو ایسا دعویٰ نہیں کیا‘ اس لئے مغربی بندر کوک شوق سے پیتے ہیں اور انکی دیکھا دیکھی حقیقی بندر نے بھی کوک منہ سے لگا کر چڑھالی۔
٭…٭…٭…٭
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ 24 فروری کو کامیاب ہونے کے بعد بے نظیر بھٹو کی یادگار پر جدید ہسپتال بنائوں گا۔
شاید شیخ صاحب کو اپنی شکست کا یقین ہو چکا ہے‘ اس لئے بے نظیر یادگار ہسپتال بنانے کا دعویٰ کر دیا ہے یا وہ آصف علی زرداری کو غیرت دلانا چاہتے ہیں اور انکی پارٹی کی آشیرباد حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔ بات کچھ بھی ہو‘ شیخ صاحب سے کوئی پوچھے کہ آپ تو خود کو فقیر کہتے ہیں‘ آپ کے پاس ہسپتال بنانے کیلئے اتنی بڑی رقم کہاں سے آئیگی۔ صدر صاحب تو آصف علی زرداری ہیں‘ رشید احمد صاحب تو بس مداری ہیں‘ دیکھتے ہیں ان کا کرتب کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
بہرحال شہید بے نظیر سے انکی عقیدت میں سیاست کی ملاوٹ ضرور ہے جیسا کہ انکے جہاد کشمیر میں تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے انکے جہاد خانے مہمان خانے بن گئے تھے۔
کوئی کچھ بھی کہے‘ وہ ایک دلچسپ سیاست دان ہیں‘ مگر اب کچھ عرصے سے وہ سیاسی نادان بن چکے ہیں۔ صورت کوئی بھی ہو وہ شیدا بن کر اپنی ٹلی بجاتے رہتے ہیں۔
شیخ صاحب کو سیاست سے عشق ہے‘ اس لئے وہ کنوارے رہ گئے ہیں یا سیاست دانیوں سے عشق ہے اس لئے ایک پر گزارہ کرنے کو اپنی فقیری کے منافی سمجھتے ہیں۔
شیخ صاحب جس جگہ بے نظیر شہید کی یاد میں ہسپتال بنانے کا کہہ رہے ہیں‘ وہ تو سرکاری زمین ہے‘ اگر ایسا کرنا ہی ہے تو کہیں زمین کا ٹکڑا خریدیں‘ اس پر ہسپتال تعمیر کریں اور اگر 24 تاریخ کو ہار گئے تو ہسپتال بنانے کی حد تک تو انکی جیت ہو جائیگی۔