تازہ ترین:

ہفتہ‘ 7 محرم الحرام 1433ھ‘3 دسمبر 2011

ـ 3 دسمبر ، 2011
پاکستان غربت کے لحاظ سے چوتھے‘ بدعنوانی میں 139ویں نمبر پر آچکا ہے۔ قوم کو نویدہو اور حکمرانوں کی عید ہو۔
180 ملکوں میں پاکستان کا غربت کے حوالے سے چوتھے نمبر پر آنے میں یہ خوشخبری پنہاں ہے کہ تمام خودکشیاں کرنیوالے یا ارادہ رکھنے والے اپنی خودکشیاں تھوڑے عرصے کیلئے ملتوی کر دیں۔ بس صرف تین نمبر کی کمی ہے اور اگر یہی حکمران رہے تو یہ فرق بھی مٹ جائیگا اور قوم بھی مٹ جائیگی کہ لگ بھگ ماسوا چند کمیوں کے سارے ہی شہادت کا کوئی نہ کوئی درجہ تو پا ہی لیں گے۔ امریکہ‘ نیٹو کے کمیوں کی کمی نہیں اس لئے اتنی بڑی معزز قوتوں کا غلام ہونے سے تو ہمارے دیہات کا کمی بہتر ہے کہ کم از کم عروس ہزار داماد تو نہیں۔ یہ غربت آئی کہاں سے‘ اس کیلئے لغت سے رجوع کرنا ہو گا۔ اکثر ہمارے ملک میں مفلس‘ قلاش اور نادار کو غریب کہا جاتا ہے حالانکہ غریب کا معنی مسافر ہے اور غربت مسافری کو کہتے ہیں اس کیلئے ہم اقبال کا یہ شعر پیش کر سکتے ہیں‘ ویسے بھی محرم کا مہینہ ہے اور اقبال یوں گویا ہوتے ہیں....
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین‘ ابتدا ہے اسماعیل
یہاں غریب سے مفلس مراد نہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں میں اگر یہ وصف ہوتا کہ ”ونڈ“ کے کھانا ہے تو امیر ترین عرب ممالک کی طرح یہ بھی امیر ہوتے مگر کیا کیجئے کہ ہم جسے غریب کہتے ہیں‘ وہ بھی مفلس ہے۔
٭....٭....٭....٭
اترپردیش میں رشوت مانگنے پر سپیرے نے ریونیو آفس میں سانپ چھوڑ دیئے۔
گناہ ایک ایسی چیز ہے کہ پوری دنیا میں موجود ہے اور لوگ بھی سارے عالم کے اس سے تنگ ہیں۔ بہرحال اسکے علاج تو بہتیرے کئے گئے لیکن جو علاج اس کا اترپردیش کے سپیرے نے کیا‘ وہ اپنی مثال آپ ہے کہ اس نے سانپوں پر سانپ چھوڑ دیئے اور یوں رشوت سے جان چھڑالی اور رشوت ستانوں کو جان بچانی مشکل ہو گئی۔ حالانکہ اگر وہ ان سانپوں کو کاٹ لیتے تو سانپ مر جاتے اور رشوت خوری کیخلاف یہ نادر علاج بھی ناکام رہتا۔ پاکستان کے ہر شہر کے ہر دفتر میں رشوت ستانی کا بازار تو کجا میلہ لگا ہوا ہے۔ ذرا پاسپورٹ آفس کا رخ کیجئے‘ آپ کو اژدھا باہر اور سانپ بچھو اندر کرسیوں پر بیٹھے جہنم کی آگ کا انتظار کرتے نظر آئینگے جسے وہ ہیرے موتی جان کر جیبوں میں ڈال لیتے ہیں اور جب گھر جاتے ہیں تو آتے میں قدم اور جاتے میں قدم اور ہوتے ہیں۔ خدا جانے پاسپورٹ آفس کو دلالوں ایجنٹوں سے پاک کرکے پاسپورٹ عملے کو کب سوئے جنت روانہ کیا جائیگا؟
چار سال ہو گئے‘ ہماری پارلیمنٹ جو ملک کا سب سے بڑا ادارہ ہے اور ایک مقام ایسا بھی ہے کہ وہاں کوئی مرد ”صالح“ چلہ کش ہے‘ وہاں بھی سانپ چھوڑ دینے چاہئیں کہ ہر دو مقامات سے قوم و ملک کو نقصان تو پہنچا ہے‘ فائدہ نہیں ہوا۔ بہرحال اب ہر وہ شخص جس نے اپنا کوئی کام کرانا ہو‘ وہ اپنے پاس ایک عدد سانپ رکھے اگر کوئی رشوت مانگے تو اسکی ٹیبل پر سانپ چھوڑ دے بلکہ اسکے گلے میں ڈال دے تو بھی رشوت خوری ختم کی جا سکتی ہے۔ کیوں ضرور باشد روا باشد۔
شرجیل (شرحبیل) نے کہا ہے‘ ذوالفقار مرزا ہمارے ساتھ ہیں‘ پارٹی سے نہیں نکالا جا سکتا۔
کیا ذوالفقار مرزا کا پارٹی کے مرتبان میں سر پھنس گیا ہے کہ انہیں بقول شرجیل نکالا ہی نہیں جا سکتا۔ ہم کب کہتے ہیں کہ ذوالفقار مرزا پیپلز پارٹی سے الگ ہو چکے ہیں بلکہ انہیں اتنا اندر گھسیڑ دیا گیا ہے کہ وہ باہر بھی ہو تو اندر نظر آتا ہے۔ شرجیل جسے یہ معلوم نہیں کہ اس کا اصل نام شرحبیل ہے‘ عربی میں سرجیل موجود ہی نہیں‘ وہ کیا جانے کہ مرزا کون ہے اور صاحبا کون؟ چلو ہمیں کیا‘ وہ اپنی پارٹی کیلئے عوام کے غبارے پھاڑ رہا ہے‘ آصف زرداری ایسے کہنہ مشق مداری ہیں کہ بچہ جمورا جمہوریت باور کرانے کیلئے اپنے مالک کےخلاف اسکے حق میں وہ وہ حرکتیں کرتا ہے کہ عزازیل بھی اپنے فن کو بھول جاتا ہے۔ بہرصورت ذوالفقار مرزا نے جو حرکتیں ایک کرتب کے طور پر کیں‘ وہ کہیں بھانبڑ نہ مچا دیں۔ ہم دو انداز سے اسلئے سوچ رہے ہیں کہ دونوں دوست ہیں‘ اور شوگر ملیں بھی دو ہیں۔ یہیں سے ہمیں ذوبیانی کی سوجھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اگر ہے تو اسکے ارکان کی تعداد اتحادیوں کے بغیر اتنی نہیں کہ حکومت برقرار رہ سکے‘ اسلئے ہماری انکے اتحادیوں سے درخواست ہے کہ وہ ان کا ساتھ آخری تک دم تک دیں‘ بھلے ریلوے جائے‘ پی آئی اے جائے یا کچھ اور لیکن جمہوریت نہ جائے اور ہماری یہ بھی دعا ہے کہ نیٹو اور میمو کے بارے میں حکومت کا جو انداز ہے‘ وہ سچ ہو اور کیانی صاحب کا غصہ بھی رنگ لائے‘ اسکا رنگ نہ اڑ جائے اور ذوالفقار مرزا جو کچھ کر رہے ہیں‘ کرتے رہیں‘ کیا پتہ وہ کسی روز رسی واقعتاً تڑوا کر بھاگ جائے اور کچھ کر دکھائے۔
٭....٭....٭....٭
ایران پر امریکہ نے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی سینٹ نے 100 فیصد ووٹوں سے بھرپور منظوری دیدی۔ یورپی یونین نے بھی 180 ایرانی فرمیں بلیک لسٹ کر دیں جبکہ اسرائیل نے کہا ہے‘ حملے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ ایک ایسی خبر ہے کہ اگر جمع تفریق کریں تو اس میں پاکستان بھی اجزائے ضربی میں شامل ہے تاہم یہ تو ثابت ہو گیا کہ مسلم امہ کے ایک تنکے کو بھی شیطان کبیر اور اسکے حواری مع اسکے ولد الحرام‘ شہتیر سمجھتے ہیں۔ خدا کسی کو اتنا بھی خوفزدہ نہ کرے کہ مکھی مارنے کیلئے توپ لے آئے۔ ایران پر حملہ کی اسرائیل نے دھمکی دی ہے یا امکان ظاہر کیا ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج پاکستان بھی ایران ہی کی طرح امریکہ و اسرائیل کو بہت ”عزیز“ ہے۔ اسکے ”پیار“ کا رخ دونوں جانب ہو سکتا ہے یا ایران کا نام لےکر ہمیں بے خبری میں مارنے کا عزم ہے اسلئے ایران پاکستان اپنا دفاعی پروگرام ایک کرلیں کہ ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائیگا۔
اسرائیل کی اس حور صفتی پر نہ جائیے
دیکھو جو غور سے تو اسکے پاﺅں الٹے ہیں
ایک چڑیل ہوتی ہے‘ ایک چنڈال‘ یہاں دونوں کا ملن ہو چکا ہے اسلئے اب مسلم امہ ہوش کے ناخن لے اور خود پاکستان ایران بھی اس آیت کا ورد روک کر اس پر عمل شروع کر دیں۔ (اور ان (باطل قوتوں) کیلےءجو تم سے بن پڑے تیاری کرلو اور اپنی قوت مجتمع کرلو‘ انکے مقابلے کیلئے گھوڑے (ایٹم بم) باندھ لو تاکہ تم انکے ذریعے اللہ اور اپنے دشمنوں کو یرکا دو)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter