پچھلے دنوں ایک معاصر اخبار میں مولانا حسین احمد مدنی کے پوتے محمود احمد مدنی کا ایک انٹرویو شائع ہوا‘ جس میں انہوں نے کہا‘ دو قومی نظریہ غلط تھا‘ بھارتی مسلمانوں کی حالت پاکستانی مسلمانوں سے بہتر ہے۔
مولانا محمود احمد انہی حسین احمد مدنی کے پوتے ہیں‘ جنہوں نے گاندھی کو فتح پور سیکری کی مسجد میں منبر رسول ؐپر بٹھا کر کہا تھا کہ یااللہ! اس مجاہدِ آزادی کے طفیل ہمیں آزادی عطا فرما‘ لالہ لاجپت رائے نے اپنی نہیں‘ تاریخ ہندوستان کے حوالے سے کہا تھا کہ ’’ہندو مسلم ایکا ہونا ممکن نہیں ہے‘ میں سمجھتا ہوں کہ ان کا مذہب اس اتحاد میں مطلقاً حارج ہے‘‘۔ بعض شپر چشم دانشور یہ ثابت کرنے کی بتکلف کوشش کرتے ہیں کہ قائدؒ و اقبالؒ بھی ہندو مسلم اتحاد کو برصغیر کی ترقی‘ سیاسی اعلان اور آزادی کی بنیادی شرط سمجھتے تھے اور انکے بعد کی سیاسی و فکری زندگی میں کوئی تعارض نہیں۔ اقبالؒ کی رباعی نے محمود احمد مدنی کے دادا جان کے نظریے کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا تھا‘ اب پھر ایک دفعہ ویسا ہی موقع آگیا ہے کہ مولانا مدنی کے پوتے سے روحؒ اقبال یہ کہہ رہی ہے کہ…؎
عجم ہنوز نہ داند رموز دیں ورنہ
ز دیوبند ’’محمود احمد‘‘ ایں چہ بوالعجبیست
سرود برسرِ منبر کہ ملت از وطن است
چہ بے خبر ز مقامِ محمدِ عربیست
حسن ز بصرہ بلال از حبش‘ صُہیب از روم
ز خاکِ مکہ ابوجہل این چہ بوالعجبیست
بمصطفیٰ ؐ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبیست
ترجمہ : عجمیوں کو ابھی تک دین کی حقیقت کا علم نہیں ہو سکا‘ ورنہ دیوبند کے ’’محموداحمد‘‘ ایسی بے تکی نہ ہانکتے۔ منبر رسول پر بیٹھ کر یہ کہنا کہ ملت کا تعلق وطن سے ہے‘ منبر پر سرود بجانے کے مترادف ہے۔یہ محمد عربی کے مقام سے کس قدر بے خبری ہے ‘ حسن بصری‘ بصرہ کے‘ بلال‘ حبشہ کے اور صہیب روم کے رہنے والے تھے‘ مگر خاکِ مکہ سے ابوجہل یہ کیسی تعجب خیز بات ہے۔
اے (محمود احمد مدنی!) خود کو مصطفیٰ ؐ کے قدموں تک پہنچائو کہ وہ ہی سراپا دین ہیں‘ اگر ان تک نہ پہنچے تو سارا کچھ بولہبی و گمراہی ہے۔
دو قومی نظریہ درحقیقت کفر و اسلام اور خیر و شر ہے‘ ظاہر ہے کہ کفر و اسلام اور خیر و شر میں ملاپ ممکن نہیں‘ اسی حقیقت تک لالہ لاجپت رائے پہنچ گیا تھا مگر حسین احمد مدنی پہنچ سکے‘ نہ انکے پوتے محمود احمد مدنی‘ دو قومی نظریہ تو کائنات کے ساتھ ہی پیدا ہوا‘ اقبالؒ و قائدؒ نے تو اس کو زندہ کیا اور پاکستان وجود میں آیا‘ وقت نے ثابت کیا کہ آج بھارت میں مسلمان کس کسمپرسی میں ہیں‘ کیا مولانا گائے کا گوشت نہیں کھاتے‘ کیا انہیں گجرات کے فسادات بھول گئے‘ کیا وہ وبال ٹھاکرے جیسے غنڈے کو صالح ہندو سمجھتے ہیں؟ مسلمانوں کیخلاف سرگرم ہندو انتہا پسند تنظیموں نے مسلمانانِ ہند کا ناطقہ بند کر رکھا ہے‘ اگر محمود احمد مدنی ہندو کو خوش کرکے‘ دیوبند میں حکومت بھارت کے وظیفے پر عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں تو کیا وہاں سارے مسلمانوں کی حالت بہتر ہے؟ پاکستان میں مسلمان آزاد ہیں‘ یہ نہیں کہ گائے کو ہُش کر دیں اور مسلمانوں کی لاشوں کے انبار لگ جائیں۔
٭…٭…٭…٭
مظفر آباد میں زلزلے کے پانچ سال بعد ملبہ سے سات نعشیں برآمد ہو گئیں۔ سیلابی ریلوں کے باعث لینڈ کروزر پر پڑا ملبہ ہٹ گیا‘ کپڑوں سے شناخت کی گئی۔
جو کام انسانوں کے کرنے کا تھا‘ وہ سیلابی ریلے نے کر دیا‘ یعنی لاشیں نکالنے والوں کو پورا لینڈ کروزر نظر نہ آسکا‘ یا پھر انہوں نے اس پر سے ملبہ ہٹانے کی زحمت بھی نہیں اٹھائی۔ 2005ء کے زلزلے میں کتنے پھول تہہ خاک دب گئے ہونگے‘ جن کو غسل دیا گیا نہ کفن دیا گیا اور نہ قبر نصیب ہوئی…؎
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
قدرتی آفات تو آتی جاتی رہتی ہیں‘ مگر گئے ہوئے سرو سمن لوٹ کر نہیں آتے‘ ہمارے ہاں 2005ء کے زلزلے کے بعد اب سیلابوں نے ہمیں آگھیرا ہے‘ کاش ہم نے بھی بھارت کی طرح کئی ڈیم بنا لئے ہوتے اور ڈیموں پر سیاست نہ کی ہوتی تو آج بہت سی جانیں بچ جاتیں۔ جو سات نعشیں سیلاب نے لینڈ کروزر سے نکالی ہیں‘ انکے لواحقین کے سوئے ہوئے زخم جاگ اٹھے ہونگے اور جب زخم ہرے ہوتے ہیں تو درد سویا ہوتا ہے۔ اللہ ان مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے‘ جن ایک آفت نے دبا دیا‘ دوسری نے نکال دیا۔
٭…٭…٭…٭
گوجرانوالہ میں خاتون نے بیک وقت پانچ بچوں کو جنم دیا‘ تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
وزارت بہبود آبادی کا قلمدان تھامے‘ فردوش عاشق اعوان کیلئے اس واقعہ میں درس عبرت پنہاں نہیں‘ ظاہر ہے اس لئے وہ قدرت خداوندی کے ساتھ ٹکر لینے کا خیال ترک کر دیں۔ وہ خاتون کتنی زرخیز ہے جس نے پورا خاندان یکبارگی جنم دے دیا اور بہبود آبادی پر پانی پھیر دیا۔ یہ خاتون پانچ بار دردِ زہ کی مصیبت سے بچ گئی اور ہمت کرکے پانچ بچے دے دیئے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یہ پانچوں بچے ہم عمر ہونگے اور شناختی کارڈ بنانے والے حیران و پریشان ہونگے۔
اللہ کے کارخانوں میں کون مداخلت کر سکتا ہے‘ جس نے آنا ہے‘ وہ آکے رہے گا۔ پانچ کاکے بیک وقت جلوہ گر ہونے میں ہمارے لئے نشانیاں ہیں۔ قارئین چاہیں تو تلاش کر سکتے ہیں۔ اب کاکوں کے والد کو فل سٹاپ لگا دینا چاہیے‘ کیونکہ جو کام اس نے دس سال میں بمشکل کرنا تھا‘ وہ اسکی اہلیہ نے ایک لحظہ میں کردیا۔ اگر اس طرح کی مثالیں عام ہو گئیں تو بہبود آباد‘ بہبود آبادی بن کر رہ جائیگی۔