وفاقی وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور کے بارے میں خبریں ہوائوں میں اڑتی رہتی ہیں اور جونہی وہ کہیں سے راہ پاتی ہیں تو بلور صاحب کے ساتھ بغل گیر ہو جاتی ہیں۔ کبھی ریلوے میں خسارہ ہو گیا اور کبھی بلور صاحب نے چھ ٹرینیں بند کر دیں۔ پچھلے دنوں انکے بارے میں معتبر ذرائع سے خبر چلی جس کا ذکر سرراہے میں بھی ہو گیاکہ وہ سرکاری خرچہ پر عمرہ کیلئے جا رہے ہیں اور انکے اس نفلی عمرہ کی ادائیگی پر سرکاری خزانہ سے نو لاکھ روپے خرچ ہونگے۔
مگر غلام احمد بلور صاحب نے اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال عمرہ پر نہیں جا رہے‘ یہ خبر غلط ہے اور دوسری اہم اور شرعی بات جو انہوں نے کہی‘ وہ یہ ہے کہ وہ سرکاری خرچ پر کبھی حج یا عمرہ پر نہیں جاتے‘ ہمیشہ اپنی ذاتی آمدنی سے یہ فریضہ ادا کرتے رہے ہیں اور اب بھی جب ضرورت ہوئی تو وہ یہ دینی فریضہ اپنے ذاتی خرچ پر ادا کرینگے۔ اس موقع پر ہم بلور صاحب کی خدمت میں فارسی کے ایک بہت بڑے شاعر انوری کے ایک شعر کا ترجمہ پیش کرتے ہیں۔
’’جب بھی آسمان سے کوئی مشکل زمیں پر نازل ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے دریافت کرتی ہے کہ انوری کا گھر کہاں ہے!‘‘
حاجی غلام احمد بلور خوش قسمت ہیں کہ اچھی اور بری دونوں طرح کی خبریں انکی تلاش میں اڑتی رہتی ہیں وگرنہ ایسے بھی سیاسی لیڈر اور وفاقی وزیر موجود ہیں جو رپورٹروں اور اخبار نویسوں کی منت ترلے کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں کوئی خبر لگا دیں خواہ غلط ہی ہو۔ بہرطور ہم حاجی صاحب سے معذرت خواہ ہیں اور ان سے اظہار ہمدردی بھی کرتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
سید حسین شہید سہروردی بہت بڑے سیاست دان تھے‘ وہ قیام پاکستان سے قبل بنگال کے وزیراعظم بھی رہے اور قیام پاکستان کے بعد وفاقی وزیر قانون اور بعد میں وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ خبروں کے معاملہ میں وہ بہت بڑے فنکار تھے۔ اس زمانے میں یہ جیبی سائز کے ٹیپ ریکارڈر نہیں ہوتے تھے اور میڈیا کے کیمرے بھی کم ہی تھے مگر وہ جہاں جاتے رونق لگا لیتے۔ سرکاری دورے پر جاپان گئے تو وہاں دکانوں اور بازاروں میں کھلے عام پھرتے رہے۔ امریکہ گئے تو سرکاری ملاقاتوں اور میٹنگوں سے فارغ ہوتے ہی وہ ہالی ووڈ چلے گئے۔ ایکٹروں اور ایکٹرسوں سے ملتے رہے۔ کچھ رپورٹروں نے سوال کیا کہ صوفیہ لورین سے آپ ملے؟ کیا بات چیت ہوئی؟ تو جناب سہروردی نے کہا کہ جدید دنیا کی سیاست پر اسکے خیالات بہت اچھے ہیں اور ہمارا بہت سے امور پر اتفاق ہے۔
سیاست میں تلون سہروردی کے مزاج کا حصہ تھا‘ جب چاہتے اپنا بیان بدل لیتے۔ ایک دفعہ ریلوے سٹیشن لاہور پر کوئی صاحب بڑا سا ٹیپ ریکارڈر لے کر اخبار نویسوں کے ہجوم میں انکی گفتگو ریکارڈ کرنے لگے تو سہروردی جلدی سے آگے بڑھے‘ ’’سٹاپ‘‘ کا بٹن دبا کر کہنے لگے:
’’باتوں کو نہیں پکڑتے‘ زبان پر بھی اعتبار کیا کرو‘‘۔
٭…٭…٭…٭
سیلاب کی خوفناکیوں میں جعلی ڈگریوں کا طوفان کچھ دب سا گیا ہے‘ مگر یہ طوفان بھی کوئی کمزور سا طوفان نہیں ہے۔ سیلاب بلاخیز جیسے طوفان کے باوجود جعلی ڈگریوں کا ہنگامہ مسلسل چل رہا ہے۔ اگرچہ بہت سے جعلی ڈگریاں رکھنے والے ارکان اسمبلی یہ دعائیں کرتے ہونگے کہ اللہ کرے سیلابی ریلوں میں وہ تمام یونیورسٹیاں اور انکے سالوں پرانے ریکارڈ بھی بہہ جائیں‘ غرق ہو جائیں تاکہ ہماری ڈگریاں بچ جائیں۔
مگر ہائر ایجوکیشن کمشن کے چیئرمین جاوید لغاری بھی دھن کے بڑے پکے ماہر تعلیم ہیں کہ وہ ہر روز ان سیلابی ریلوں کے زور و شور میں بھی دو چار جعلی ڈگریاں والے ارکان اسمبلی کو پکڑ ہی لیتے ہیں اور تازہ ترین اطلاع کے مطابق ایف آئی اے کے ایک ریٹائرڈ بڑے افسر کی بیگم کے بارے میں بھی انکشاف ہو گیا ہے کہ انکی ڈگری جعلی ہے۔
خبر ہے کہ انہوں نے اپنی جعلی ڈگری کی خفت مٹانے کیلئے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بہانے اپنی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے سوچا ہو گا کہ جو رکنیت برقرار ہی نہیں رہنی‘ اس پر لات مارنے کا احسان چڑھا دیا جائے۔ مگر کیا چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمشن ایسے ’’احسان‘‘ کے زیر بار رہ سکتے ہیں؟ انہوں نے تو اپنی ذمہ داری نبھانی ہی نبھانی ہے۔
٭…٭…٭…٭
یونیورسٹی اورینٹل کالج میں طلباء و طالبات کسی بات پر ناراض ہو گئے‘ انہوں نے زبردست احتجاج کیا‘ پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ اپنے کمرے سے نکلے اور طلباء کے ہجوم کے سامنے آکھڑے ہوئے۔ طلباء بڑے جوش میں تھے‘ سید صاحب سے محبت بھی کرتے تھے‘ انکے عقیدت و احترام کے باوجود کچھ طلباء زور زور سے بول رہے تھے‘ نعرے لگاتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب بڑی سنجیدگی سے سب کو دیکھتے رہے‘ انہوں نے ایک طالب علم کو اشارہ کیا:
’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘
طالب علم لیڈر نے لمبی تقریر کی‘ پھر دوسرے سے پوچھا‘ اس نے بھی تقریر کی۔ تیسرے‘ چوتھے ‘ پانچویں کی طرف اشارہ کرتے اور سب لوگ لمبی لمبی تقریر کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جب دیکھا کہ اب ماحول ٹھنڈا ہو گیا ہے تو انہوں نے مسکرا کر جیب سے کان میں لگانے والا آلہ نکالا اور بڑے اطمینان سے بولے:
’’ہاں… تو اب بتائو کیا قصہ ہے؟‘‘
طلباء و طالبات اپنے جوش میں بھول گئے تھے کہ ڈاکٹر صاحب ہیئرنگ ایڈ استعمال کرتے ہیں‘ اور وہ اسکے بغیر ایک گھنٹہ تک انکی جوش بھری تقریریں سنتے رہے تاکہ جب جوش ختم ہو گا تو ہوش کی باتیں ہونگی۔