پیر‘ 7 صفر 1433ھ‘2 جنوری 2012ئ
سر را ہے …پروفیسر اسرار بحاری ـ 2 جنوری ، 2012
مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ملک کا انتظام جلد بہترین لوگوں کے پاس ہوگا۔ گوجرانوالہ کا طوفان ورلڈ الیون کو بہا لے جائیگا، کرپٹ حکومت سے جلد چھٹکارا ملے گا، گیس مہنگی ہونے پر چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ ہم تو سمجھے کہ میاں نواز شریف، خواب گراں میں خوبصورت نظارے دیکھ رہے ہیں مگر جو بھی دیکھا وہ خواب نہ تھا اور جو سنا وہ افسانہ نہ تھا کسی کا آنا اورکسی کا جانا تھا ،تعین قارئین خود ہی کرلیں ۔ اگروہ صدقِ دل سے کہتے ہیںکہ ملک کاانتظام جلد بہترین لوگوں کے ہاتھ میں ہوگا تو یہ ہدف لیگوں کے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں اور وہ اب یہ بہترین کی شرط بھی ڈھیلی کرکے اسے بہتر کردیں۔ کسی کا مسلم لیگی ہونا بھی سیاسی ولایت سے کم نہیں اس لئے وہ منانے کی طرف آئیں اور یہ سوچ کر آئیں کہ....
روٹھڑے یار ڈاڈھے اوکھے منیندے
منتاں تے ترلے تے چارے کریندے
اور تصور خانم کو بھی یاد رکھیں کہ....
”نواں“ سال چڑھیا نواں دن اڑیا
تیرے لئی بدنام ہوئی آجا گھر شام ہوئی
نواز شریف خوبرو سیاستدان ہیں وہ پاکستان کے چہرے کوبھی تو دیکھیں کہ ”یار لوگوں“ نے اُس پر اپنے مکروہ چہرے مَل دئیے ہیں اور وطن کے چمن کا رنگ ہی بدل گیا ہے ،گوجرانوالہ کے پہلوان یاد رکھیں گے کہ سیاست کا پہلوان کیسے داﺅ پیچ جانتا ہے اور گوجرانوالہ کے متوالے جوانواں جنہوں نے میاں صاحب کی ایک للکار پر جلسہ کو اتنا بھر دیاکہ وہ کناروں سے نکل گیا اور سونامیوںکو مات دے گیا۔نواز ،شہباز کی دھاڑ سے ڈر کریہ سونامی، لیگی انقلاب کے بند سے بند ہونے کا خدشہ ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
اسفند یارولی نے کہا ہے: ہماری مخالفت کی وجہ سے کالا باغ ڈیم ہمیشہ کیلئے ختم کردیاگیا۔اسفند یارولی نے لگ بھگ ایسی بات کی ہے کہ چار انگریز ایک جگہ اکٹھے بیٹھے تھے اُن میں سے ایک نے کہا آپ سب مجھے پسند ہیں سوائے ایک کے، دوستوں نے پوچھا وہ کون؟ اُس نے کہا جس نے ٹائی لگا رکھی ہے، سب نے کہا ٹائی تو ہر ایک نے لگا رکھی ہے اُس نے جیب سے پستول نکال کر تین کوگولی ماردی جو زندہ بچ گیا اُس کے بارے میں کہا تو مجھے پسند ہے۔اسفند یارولی خاندان کیلئے باچا خان نے کا بل میں نہایت اچھی جگہ پر قبضہ کررکھا ہے اب دیکھتے جائیں کہ کالا باغ ڈیم ختم ہوتا ہے یا کابل کا قبرستان آباد ہوتا ہے۔اسفندیارولی کے منہ سے اللہ نے ایسا جملہ ادا کرادیا کہ جسے وہ اپنا کارنامہ سمجھے وہ اس کی سیاست کا ختم نامہ ہے ،شمس الملک اور اسفند یارولی دونوں پٹھان اور ایک صوبے کے رہنے والے ہیں کیا وجہ ہے کہ ایک کالا باغ ڈیم کوپاکستان کا سر چشمہ¿ حیات سمجھتا ہے اور دوسرااُسے ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کی بڑہانک رہا ہے ، اگر ہمالہ کے بارے کوئی کہہ دے کہ ہم نے اُسے ہمیشہ کیلئے ختم کردیا توکیاہمالہ اپنی جگہ چھوڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا؟ کالا باغ ڈیم ریلوے نہیں جسے ولی خاندان ہڑپ کرجائے یہ بن کر رہے گا کیونکہ خوداُن کے صوبے کے عوام اس کے حق میں ہیں تاکہ اُن کو بجلی ملے پانی ملے، گوسفند یارولی کیوں عید قرباں کا انتظار کر رہے ہیں وہ مزے سے گوسفند کھائیں اور اپنے والد محترم کی طرح اُس کی لاٹ بھی ہضم کرجائیں مگر صوبہ سرحد اور ملک کے عوام کو اندھیرے میں نہ رکھیں وہ تسلی رکھیں اب ووٹ اُن کو ہی ملیں گے جوکالا باغ ڈیم بنائیں گے کیا وہ نہیں چاہتے کہ پٹھانوں کووافر بجلی ملے، اُن کے کھیت ہرے بھرے ہوں، ریلوے کو تباہ کیا مگر کالا باغ ڈیم کو ختم کرنا اُس کے بس میں نہیں۔
٭....٭....٭....٭....٭
صدر کی ہمشیرہ فریال تالپور سے لوگوں نے شکایت کی کہ وفاقی محکمے بات نہیں سنتے۔جب فریال تالپور نے اپنے بھائی کی بات سن لی اور پی آئی اے کو ” ترقی“ دینے کی ٹھان لی تو پھر یہ نگوڑے وفاقی محکمے کیا چیز ہیں کہ لوگوں کی بات تک نہیں سنتے، وفاق، وفاقی قیادت پر گیا ہے دونوں کی تصویریںبنوا کر دیکھ لیں ایک جیسی نکلیں گی،فریال تالپور کے بارے میں سنا ہے کہ وہ بڑی فیاض ہیں اور لوگوں کی شکایات تو ہوا کے دوش پر بھی سن لیتی ہیں وفاقی محکمے بے چارے کیا کریں کہ وہ حکمرانوں کے ” اسوئہ حسنہ“ کے پیروکار ہیں۔ عربی کا مقولہ ہے کہ لوگ اپنے حکمرانوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں جس روز فریال تالپور اپنے برادر محترم کے بجائے اپنے ضمیر کی بات مان لیں گی پھر وہ لوگوں کی بات بھی سنیں گی اور وفاقی محکمے بھی، وگرنہ کیا مجال کہ سرکاری تنخواہ کھانے والے اور سرکار کو کھانے والے لوگوں کی شکایات سن کر عمل نہ کریں بعض لوگوں کو شوق ہوتا ہے کہ دوسروں کے گھروندے گرا کر اپنے محل تعمیر کرتے ہیں اور یوں غریبوں کی مفلسی کا اڑاتے ہیں مذاق اب فریال تالپور لوگوں سے بزبان اقبال یہ کہہ کر جان چھڑا سکتی ہیں....
مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری
خدا ایسا بھائی ہر بہن کو دے جو ملک کے مفاد کو بہن کی محبت پر قربان کردے اوروہ دن جلد آئے کہ پی آئی اے کا ڈھانچہ تجہیز و تکفین کیلئے بے گوروکفن پڑا ہو اور فریال ائرلائنز سے آسمان بھرجائے، بہتر ہوگا کہ آصفہ جو اُن کو بہت پیاری ہے اُس کیلئے بحری بیڑہ چلا دیںیہ آخری سال کا نئے سال کو بہترین تحفہ ہوگا ، رہ گئے لوگ تو اُن کیلئے مہنگائی سے بڑھ کرکیا تحفہ ہوسکتا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
نیا سال سب اہلِ وطن کومبارک ہو اور اس کے ساتھ آنے والی مہنگائیاں اور امراءکی کج ادائیاں بھی مبارک ہوںنئے سال کی رات میں تو جیسے زمینی ستارے آسمان پر پہنچ گئے تھے۔ایک جگہ تو چار ہزار کی ٹکٹ پر چار لاکھ کے مزے تھے، لوٹنے والوںنے یہ مزے خوب لوٹے اور باقی عام لوگ اپنے گھروں میں لوڈشیڈنگ اور گیس شیڈنگ کے سنگ آئی شیڈنگ کرتے رہے،نئے سال کی رات کے آنسو بھی بڑے نمکین ہوتے ہیں اور دولتمندوں کے ” کوجھے“ بھی کتنے حسین ہوتے ہیں یہ طبلوں، گھنگروﺅں اور رقصوںکی رات اب اگلے برس آئے گی اور فائیو سٹار ہوٹلوں کو بھی اپنے کمروں کوغسل دینا چاہئے کیونکہ پاکیزگی نصف ایمان ہے اور باقی نصف ایمان جو وجود نہیں رکھتا وہ ایلیٹ کلاس کے ہاں اپنے عدم کے ساتھ کھیل رہا ہے ،یہ ہے نیا سال، پرانا حال ، اور تعیش کا سنہری جال مگر کس کا کیا ہوگا مآل اس کا پتہ تو چلے گا جب ہوگا احتساب اعمال۔ وطن کے غریبوں کو نئے سال کے نئے غم مبارک اور امیروں کو جامِ جم مبارک۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں