منگل ‘ 17 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ 2؍ فروری 2010ء

ـ 2 فروری ، 2010
پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ بھی تسلیم کیا جائے۔ روٹی کپڑا مکان کا وعدہ پورا کرینگے۔ ہم نے سب کا مینڈیٹ تسلیم کیا ہے‘ جمہوری دور میں فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے ہوتے ہیں وہی سپریم ادارہ ہے۔ عدالتی فیصلوں کا مکمل احترام کرتے ہیں۔ بجلی گیس بحران ختم کر دیں تو قوم سمجھے گی کہ پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ پورا ہو گیا۔
روٹی کپڑا مکان تو بہت بڑا دعویٰ ہے جسے پیپلز پارٹی اپنے نقطہ آغاز سے لیکر آج تک پورا نہیں کر سکی‘ اس لئے آسان آسان سے کام جو ان سے ہو سکیں کر کے دکھا دیں تو مینڈیٹ کافی حد تک پورا ہو جائے گا ان کا یہ جملہ قابل ستائش ہے کہ عدالتی فیصلوں کا مکمل احترام کرتے ہیں اور ہمیں عدالتی مشکلات معلوم ہیں امریکا کے کہنے پر ہم نے سوات کے قبائلی علاقوں میں جتنے مکان گرائے ہیں وہ کون تعمیر کریگا۔ اسی لئے تو ہم کہتے ہیں کہ روٹی اور مکان کا مسئلہ اچھالنا درست نہیں اس وقت ملک میں مہنگائی گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے حکومت کی چونکہ کوئی ناک نہیں اس لئے ان کا دم انکی سیاسی ناک میں پھنسا ہوا ہے۔ مسلم لیگ ’’ن‘‘ کا کمال ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے بیک وقت رومانس بھی کرتی ہے اور نفرت بھی۔ ان کا عندیہ تو یہی ہے کہ میثاق جمہوریت پر عمل کرایا جائے جبکہ وہ اتنا زور عدالتی فیصلے پر عمل درآمد پر نہیں لگاتے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت جمہوریت گرانے کی کسی سازش کا حصہ نہیں بنے گی‘ عدلیہ کے فیصلے پر عمل کرکے ہی آئین و قانون کی حکمرانی کا بول بالا ہو سکتا ہے۔
لگتا ہے شہباز شریف اپنے بیانات میں کچھ ماٹھے ہو گئے ہیں اور اب وہ حکومت کو جمہوریت کہنے لگے ہیں‘ بہرصورت حکومت بھی جمہوریت کا جسم ہوتی ہے‘ یہ چلتی رہے جسم بھی تروتازہ رہتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں آمروں کی لائی ہوئی حکومتیں وقت بتاتی رہی ہیں‘ وہاں ایک غیرآمرانہ حکومت جمہوریت کی زیادہ نمایاں نہ سہی‘ ایک مبہم سی علامت تو ہے جو وقت کے ساتھ روز روشن بھی بن سکتی ہے۔ پاکستان میں ان دنوں امریکی پادری بن کر بڑی نیکی کی باتیں کرتے ہیں‘ جنہیں موجودہ حکومت بھی سنتی ہے۔ رحمان ملک تو انکے خاص سامع ہیں‘ انکے سننے والوں اور ماننے والوں کی حالت یہ ہے کہ…؎
پڑھ پڑھ ملّے پیا سناویں
کھانا شک شبے دا کھاویں
دسیں ہور تے ہو کماویں
اندر کھوٹ باہر سچپار
علمو بس کریں او یار
ہمارے ہاں کھوٹ کمانا‘ جھوٹ بولنا‘ چور بازاری کرنا اور کالادھن جمع کرنا خصوصاً پنجاب میں عام ہے‘ حکومت پنجاب کا شہباز ایسے لوگوں کی طرف بھی پرواز کرے‘ ان کو اپنے پنجوں میں لے اور وہاں پھینک آئے جہاں انہیں گدھ نوچیں۔
٭…٭…٭…٭
سٹیٹ بنک نے کہا ہے اس سال مہنگائی بارہ فیصد تک رہے گی‘ حکومت کو زیادہ قرضہ لینا پڑیگا۔
ہر خبر غریب کو زیرو زبر کرتی ہے‘ خوشی اپنے جعلی روپ میں غربت کا ساتھ دے رہی ہے‘ یہ تو سٹیٹ بنک نے کہہ دیا ہے نا کہ اس سال مہنگائی بارہ فیصد تک رہے گی لیکن سٹیٹ بنک ذرا دوکانوں پر تو جا کر دیکھے کہ ہر دکاندار کے نرخ مختلف ہیں‘ ایک دس روپے کی چیز دیتا ہے تو دوسرا ذرا بڑی دکان سجا کر وہی چیز بیس روپے کی دیتا ہے۔ سٹیٹ بنک نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو زیادہ قرضہ لینا پڑیگا اور ہم سے ہمارے حکمران کہتے ہیں کہ ملک کو ترقی کی راہ پر روانہ کر دیا ہے‘ گویا…؎
اہل تدبیر کی کرامت سے
آبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
اور غریب لوگ جواب دیتے ہیں…؎
سادہ پرکار ’’حکمراں‘‘ غالب
ہم سے پہچان وفا مانگتے ہیں
غضب خدا کا کہ قرضہ تو لینا ہی پڑیگا‘ مگر اس سال زیادہ لینا پڑیگا۔ ہر سال سٹیٹ بنک کی یہی سٹیٹ منٹ ہوتی ہے‘ ہماری کیا نئی مانٹری پالیسی ہو گی جو کشکول پر چلتی ہے‘ کیا کوئی ایسا انقلاب نہیں آسکتا کہ 62 سال سے باہر گیا ہوا کالا دھن واپس لا کر قرضے چکا دیئے جائیں۔ سٹیٹ بنک نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی کا امکان ہے یعنی اب کھلے مین ہولوں پر جو ڈھکنے ہم نے رکھنے تھے‘ وہ بھی نہیں رکھ سکیں گے‘ بہرحال قوم کو مانٹری پالیسی مبارک ہو۔
٭…٭…٭…٭
مفتی منیب نے کہا ہے کہ ماہ صفر میں نحوست کا تصور‘ عہد جہالت کی علامت ہے۔
سارے دن سارے مہینے خدا کے ہیں‘ ہر لمحہ مبارک ہے‘ ماہ صفر وقت کا حصہ ہے‘ اسی وقت کا جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ ’’وقت کو برا مت کہو کہ میں ہی وقت ہوں‘‘ ہم نے جب بھی اپنے آپ کو برا کہنا ہوتا ہے‘ تو وقت کو برا کہتے ہیں۔ شاید اسی لئے ہم اکیسویں صدی میں داخل نہیں ہو سکے اور یہی حال ہماری پچھلی صدیوں کا بھی ہے۔
اسلامی علوم میں ایک اصطلاح ہے جسے اسرائیلیات کہتے ہیں‘ انکی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ عرب فارغ وقت میں یہودی علماء کے پاس جا کر بیٹھتے تھے اور وہ ان کو اپنی تحریف شدہ کتابوں کے حوالے سے الٹی سیدھی کہانیاں اقوال اور باتیں سنایا کرتے تھے چونکہ یہ کہانیاں بڑی دلچسپ ہوتی تھیں‘ اس لئے عربوں کے لاشعور میں اتر گئیں اور جب وہ مسلمان ہوئے تو قرآن کی آیات سے جوڑ کر ان میں من گھڑت کہانیوں کا سہارا لیتے تھے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری اکثر تفاسیر عربی میں ہوں یا اردو میں‘ انکے حواشی ان سے بھرے پڑے ہیں اور رفتہ رفتہ یہ دین کا حصہ بنتے گئے۔ صفر کا مہینہ دوسرے مہینوں کی طرح پاک صاف ہے‘ اس میں کوئی نحوست نہیں‘ مفتی منیب صاحب ویسے تو روئیت ہلال کے عالم ہیں مگر درحقیقت پڑھے لکھے عالم ہیں اور انہوں نے جو کہا ہے‘ سچ کہا ہے‘ اس سے مسلمانوں کو صفر کے مہینے میں اپنے معمولات اسی طرح جاری رکھنے چاہئیں جیسے دوسرے مہینوں میں رکھتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter