وزیر دفاع احمد مختار نے کہا ہے‘ امریکہ نے معافی مانگی تو قبول کرلیں گے جبکہ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے‘ بات اس سے آگے نکل گئی۔
پھیٹ کا جواب تو دُھر ہوتا ہے‘ لیکن ہمارے وزیر دفاع احمد مختار بڑے خوددار بلکہ برخوردار ہیں کہ خون کا بدلہ خون کے بجائے خون کا بدلہ معافی پر راضی ہونے کو تیار ہیں لیکن پاکستانی عوام کے سینے میں لگی آگ پر حنا ربانی کھر نے یہ کہہ کر ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے کہ بات اس (معافی وغیرہ) سے بہت آگے نکل گئی ہے۔ ہم تحسین پیش کرتے ہیں اس جی دار حنا کو جو ایسا رنگ لائی ہے کہ انکی دونوں ہتھیلیاں شہیدان وطن کے خون سے رنگین ہیں اور وہ اس خون کو رائیگاں نہیں جانے دینگی۔ ان کا یہ کہنا بہت مناسب ہے کہ معاملہ معافی تلافی سے بہت آگے نکل گیا ہے اور اب احمد مختار لکیر پیٹنے پر کیوں اکتفا کرنے لگے ہیں؟ کیا اسی کو ملک و قوم کا دفاع کہتے ہیں؟ ہم تو کہتے ہیں کہ یہ قلمدان بھی حنا ربانی کھر کے حوالے کر دینا چاہیے کیونکہ وہ طبعاً خوددار اور ذمہ دار ہیں۔ ہمارے مرد اگر یہ انداز اختیار کرینگے تو ہماری جنگ ہماری جیالی بیٹیاں لڑیں گی۔
احمد مختار نے اوباما کی آواز نہیں سنی کہ ہم معافی نہیں مانگیں گے‘ ہم اوباما کی کالی کلوٹی معافی کے خواہستگار بھی نہیں‘ ہم تو اب صرف تلافی کے قائل ہیں اور اس کیلئے بھی اوباما کو زحمت نہیں دینگے۔ امریکہ نے اچھا دوست گنوا دیا‘ پاکستان کے عوام کھو دیئے‘ تو وہ بتائیں انہوں نے کیا پایا؟ یہ ہمارے شہیدوں کے کفن بہت کچھ ہمیں سکھا گئے ہیں اور ان کو دیکھ کر یہ کہنا ایک ادنیٰ خراج تحسین ہے۔ شہیدوں کے حضور کہ:
کرو کج جبین پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن سردار ہم نے لٹا دیا
٭....٭....٭....٭
جمائما کہتی ہیں: عمران سے وعدہ لے لیا‘ بڑے بیٹے کو تحریک انصاف کی قیادت وراثت میں نہیں دینگے۔
چلو اچھا ہوا جمائما نے عمران خان سے اور کچھ نہ سہی‘ وعدہ تو لے لیا کہ وہ تحریک انصاف کو موروثیت کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ اگر عمران خان کا بڑا بیٹا کل کلاں کو اس قابل ہو جائے کہ اس کو پارٹی کی زمام حوالے کی جا سکے تو اس میں حرج نہیں‘ لیکن اسکے باوجود جمائما کی بات وزنی ہے اور عمران کو اپنا وعدہ نبھانا چاہیے۔ جمائما اگرچہ مطلقہ ہے لیکن دو بیٹوں نے اسے عمران سے اس طرح جوڑ رکھا ہے کہ یہ ندیا نہیں جس کے دو کنارے مل نہ سکیں۔ دو بیٹوں کا پل بہت مضبوط ہے۔ سنا ہے جمائما ہنوز مسلمان ہے اور عمران سے ہوائی انداز میں منسلک ہے۔ شرعی حدود اپنی جگہ قائم ہیں اور ہجر کی حدیں اپنی جگہ۔ پاکستان کی سیاست میں موروثیت نے کافی نجاست پھیلائی۔ یہ اچھا ہے کہ جمائما اس موروثیت کی بیماری کو ختم کرنے میں کامیاب ہوں....
دم رخصت وہ چپ رہی بالکل
آنکھ میں پھیلتے گئے بیٹے
آخر دونوں بیٹوں میں دو عمران ہیں‘ تو کہاں ایک اور کہاں دو۔ اس لئے جمائما کی آنکھوں کی ٹھنڈک میں دونوں فرزندان کے روپ میں عمران بھی اجاگر ہے۔ پانی کس طرح اپنے رستے ڈھونڈ لیتا ہے....
حریم تیرا خودی غیر کی معاذاللہ
دوبارہ زندہ نہ کر کاروبار لات و منات
٭....٭....٭....٭
پیپلز پارٹی کے آصف ہاشمی نے مال روڈ پرگورنر ہاﺅس کے قریب اپنا ہورڈنگ لگوایا جس میں انکی نمایاں تصویر لگی تھی اور ساتھ ہی کچھ افراد کی چھوٹی تصاویر موجود تھیں۔ آصف ہاشمی بھارت کے دورے پر گئے تو انکی عدم موجودگی میں گورنر پنجاب نے آصف ہاشمی کی تصویر والا ہورڈنگ اتروا کر اپنی نمایاں تصویر والا لگوا دیا۔
یہ وہی بات ہو گئی کہ....
دم بھر جو ادھر منہ پھیرے او چندا
میں انکی جیب کاٹ لوں گی
گورنر صاحب بھی اپنی نوعیت کا واحد نمونہ ہیں‘ وہ جو بھی کام کرتے ہیں‘ اس میں ایک ایسا انوکھا پن ہوتا ہے کہ دنیا ششدر رہ جاتی ہے اور انکی چابکدستی و فنکاری کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اگر گورنر صاحب نے اپنی قدآدم تصویراپنے مال روڈ والے گیٹ پر لگوالی تو آصف ہاشمی کو بھی بھارت یاترا پر جانے کی سزا مل گئی لیکن گورنر صاحب نے اپنی گورنری کو ثابت کر دکھایا۔ وہ گورنر ہاﺅس چلا رہے ہیں‘ کوئی گوردوارا یا مندر تو نہیں لیکن ہاشمی صاحب بھی جوش میں آگئے ‘ دیکھیں اب نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ ذرا نئی تصویر تو دیکھیں....
ہنستا ہوا نورانی چہرہ کالی زلفیں رنگ سنہرا
تیری جوانی توبہ توبہ دلربا دلربا
٭....٭....٭....٭
سنسر بورڈ نے بھارتی فلم ”ڈرٹی پکچر“ کی پاکستان میں نمائش پر پابندی لگا دی۔ سنسر بورڈ نے بھارتی فلم ڈرٹی پکچر کی پاکستان میں نمائش پر قدغن لگا کر وہی کچھ کیا‘ جو ہمارے معاشرے کا استحقاق تھا۔ بھارت روزبروز ڈرٹی پکچر بنتا جا رہا ہے اورچاہتا ہے کہ اپنا گند پاک وطن کی پاکیزہ سرزمین پر بکھیر دے۔ اب اگر ہمارے ہاں کوئی ڈرٹی ہے تو وہ ضرور اس فلم کو دیکھ کر کسی نہ کسی طرح اپنی آنکھیں پلید کرنے کی کوشش کریگا سنسر بورڈ نے ڈرٹی پکچر لگانے کا فرض تو بخوبی ادا کردیا ۔ مگر لاہور کے اکثر سینما ہالوں میں آج بھی بھارتی ڈرٹی فلموں کی نمائش دھڑلے سے جاری ہے۔ کیا سنسر بورڈ کا اس جانب آنکھ بند کرنا کسی مصلحت کا تقاضا ہے؟ بھارت کی تہذیب اور اس کا کلچر اب اس قدر گندا ہو چکا ہے کہ وہ ہر قیمت پر ہمارے ہاں بھی اسی کو رائج کرنے کے درپے ہے۔ اب یہ پیمرا کا کام ہے کہ اس ڈرٹ کو سرحد پار نہ کرنے دے اور اگر اسکی سی ڈیز یہاں پہنچ چکی ہیں تو انکی خرید و فروخت یا کسی بھی چینل پر اسکی نمائش پر کڑی نظر رکھے۔ پاکستان اپنی پاکیزگی کی بنیاد پر اور اسلام کے نظریے پر دو قومی نظریے کے تحت وجود میں آیا‘ بھارت اس کوشش میں ہے کہ دونوں متضاد قوموں کو ایک جیسا کرے اور اس طرح ہماری نظریاتی اساس کو ہلا کر ہمارے ریاستی وجود کو نقصان پہنچائے۔ جسے کوئی بھی پاکستانی ہرگز قبول نہ کرے وگرنہ یہ ملک سے اور اپنے نظریے سے غداری ہو گی۔ اب یہ ہماری پوری قوم کی غیرت حمیت اور دینی اقدار کا تقاضا ہے کہ....
اٹھاکر پھینک دو باہر گلی میں
بھارتی تہذیب کے انڈے ہیں گندے