پیر ‘20 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘2 اگست 2010ء

ـ 2 اگست ، 2010
وفاقی وزیر قانون نے کہا ہے پنجاب کے حکمران سیلاب زدگان کی مدد کے بجائے ہیلی کاپٹروں پر سیریں کر رہے ہیں۔
بعینہ یہی بیان دو روز پہلے چودھری پرویز الٰہی نے دیا تھا اس کا مطلب ہے کہ بابر صاحب اور پرویز صاحب آپس میں نوٹس کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔ اب تو لازم ہوگیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب ان دونوں کو بھی ہیلی کاپٹر کی سیر کرائیں اور جہاں بھی جائیں انہیں ساتھ رکھیں تاکہ سیر کے دوران کسی سیلاب زدہ کو نکالنا پڑے تو یہ دونوں حضرات بھی کام آئیں تخت لاہور کہنے والوں کے لاشعور میں کہیں تختۂ لاہور الٹنے کی بات تو نہیں وگرنہ ایک آدھ مرتبہ کہہ دنیا ہی کافی تھا ہر روز تخت لاہور کی گردان اب کافی پرانی ہوگئی ہے ویسے تخت کا لفظ بابر سے زیادہ لگا کھاتا ہے کیونکہ شہباز نام کاکوئی بادشاہ نہیں گذرا، ویسے بابر اعوان کو چاہئے کہ اس مقولے کا لطف اُٹھائیں کہ …ع بابر بعیش کوش کہ ’’وزارت‘‘ دوبارہ نیست۔
( بابر خوب عیش کرو کہ وزارت دوبارہ نہیں ملنی)
بہر حال یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ڈوبتے مرتے لوگوں کو دیکھنا سیر نہیں ہوتا، بہر صورت شہباز شریف بابر اعوان کو بھی ہیلی کاپٹر پر سیلاب زدہ علاقوں کی ضرور سیریں کرائیں تاکہ وہ آئندہ سیر کا نام نہ لیںاور نوٹوں کے ہینڈ بیگ لئے وکلاء میں پھرتے رہیں۔
٭…٭…٭…٭
پٹرول 21 پیسے سستا کردیا گیا۔
’’ اوگرا‘‘ اس قدر گر گیا ہے کہ اُس نے پٹرول 21پیسے فی لٹر کردیا ہے، حالانکہ پیسے کے سکے کا سرے سے وجود ہی نہیں، کیونکہ اب ٹکسال میں پیسے کی جگہ روپیہ ڈھلتا ہے اور اُس کی بھی قدروقیمت ماضی کے پیسے جتنی نہیں، سنا ہے کہ قانوناً کرنسی کا کوئی یونٹ منسوخ نہیں کیاجاسکتا، آج پیسے کا سکہ شمار میں ہے قطار میں نہیں ، اگر کسی نے ایک لٹر پٹرول لینا ہو تو اسے 21پیسے کہاں سے دئیے جائیںگے اس ایک مثال سے آپ ہمارے اداروں کی دانش مندی کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُن میں وقت کے کتنے بڑے بڑے افلا طون بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ کیسے کیسے فلسفے تراشتے ہیں، صحیح کہا تھا اقبا ل نے…؎
فلک نے اُن کو عطاکی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے
اوگرا سے مرغیوں کا ٹوکرا بھلا جسے اُٹھائو تو نیچے مرغیاں نکلتی ہیں اوگرا سے بڑی مشکل سے 21پیسے رعایت برآمد ہوئی ہے جبکہ پیسے کاسکہ ہی موجود نہیں ، کیا یہ کھلی نو سر بازی نہیں؟ ڈیزل مہنگا کردیا ہے، تاکہ غریب عوام پر مزید بوجھ پڑے اور وہ رو پڑیں اگر حکمرانی کا یہی انداز یا اس کے یہی لچھن رہے تو آنے والی حکومت تو اس سے بھی دس قدم آگے جائے گی۔
٭…٭…٭…٭
دی ٹائمز نے خبر دی ہے کہ صدر زرداری نے بھی دورئہ برطانیہ منسوخ کرنے پر غور شروع کردیا۔
برطانوی وزیراعظم نے بھارت جاکر پاکستان کے خلاف جو زہر اگلا ہے اُس کا جواب امرت سے دینا مناسب نہیں، صدر آصف علی زرداری مرد حُر ہیں ہمیں توقع ہے کہ وہ احتجاجاً اپنا دورئہ برطانیہ ضرور منسوخ کردینگے کیونکہ وہ ایک غیرت مند انسان ہیں پیپلز پارٹی لندن کو بھی وزیراعظم برطانیہ کے پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کے خلاف لندن کی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرناچاہئے اور جو پیسہ وہ صدر کے دورئہ برطانیہ پر خرچ کرناچاہتے ہیں احتجاج پر صرف کرے، جب تک وزیراعظم برطانیہ معذرت نہیں کرلیتے اور اپنے الفاظ واپس نہیں لے لیتے صدر آصف علی زرداری برطانیہ نہ جائیں لیکن پیپلز پارٹی کے ایوان صدارت کے کڑ چھوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہے کہ زرداری لندن جائے ہی جائے ۔یہ بات پاکستان کی حکومت کیلئے تشویشناک ہونی چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ جو بھی مغرب سے بھارت آتا ہے وہ بنیئے کے شیشے میں اتر کر پاکستان کے خلاف باتیں کرکے چلا جاتا ہے کیا برطانوی وزیراعظم کو بھارت کی کشمیر میں دہشت گردی اور پاکستان کا پانی بند کرنے کا مسئلہ نظر نہیں آیا، سچ کہا ہے رسول اللہؐ نے کہ کفر ملت واحدہ ہے۔
٭…٭…٭…٭
’’ فلسطینی شہداء سے متاثر ہوں‘‘ فریڈم فلوٹیلا پر موجود آئرش خاتون رضا کار نے اسلام قبول کرلیا۔
آئرش خاتون پہلے اُس ترک باشندے کے گھر تعزیت کیلئے گئیں جو فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے میں شہید ہوگیا تھا، اس کے بعد اُس نے کہا کہ میں آپ کو خوشخبری سناتی ہوں کہ آج سے میں نے پورے شعور کے ساتھ اسلام قبول کرلیا یہ جذبۂ شہادت ہے جو تبلیغِ اسلام کا کام دیتا ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں شہادت اور مجاہدین فلسطین کو امداد پہنچانے والے رضا کاروں کی شہادت ایک جیسی ہے جس امت کا ماٹو ہی بقول اقبالؒ یہ ہو کہ…؎
شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اُس امت کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے یہ جو مسلمان آج خوابیدہ ہیں طاغوتی قوتوں کے کچوکے کھا کھا کر بالآخر بیدار ہوںگے اور پوری دنیا میں باطل کے خلاف عَلمِ جہاد بلند کریں گے ، آئرش خاتون نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا آئرش خاتون کو یفا ماتلی کا اگراسلامی نام خولہ رکھا جائے تو بہت مناسب ہوگا کیونکہ حضرت خولہؓ نے باقاعدہ جہاد میں حصہ لیا تھا اب وقت بہت قریب آگیا ہے کہ اُمت مسلمہ خوابِ گراں سے اٹھے اور چار دانگ عالم میں اپنے گھوڑے دوڑادے، مسلم اُمہ کے مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب ان کا حل فقط جہاد ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter