بدھ ‘21 ؍ رمضان المبارک‘1431 ھ یکم ستمبر 2010ء

ـ 1 ستمبر ، 2010
نوائے وقت گروپ آف پیپرز کے انگریزی اخبار نیشن نے جس کمپنی کی دھوکہ دہی کو طشت ازبام کیا‘ او جی ڈی سی ایل نے اسے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دیدیا۔
ہمارے ہاں تو بے ایمانوں‘ بددیانتوں کی تلاش رہتی ہے‘ تاکہ لٹیروں کی قوت و تعداد میں اضافہ ہو۔ نیشن نے یہ رپورٹ شائع کرکے حکومت کیلئے ایک اور بددیانت کمپنی کا سراغ فراہم کر دیا۔ اس کمپنی کا اسم گرامی آئی ای ایس ہے‘ جس نے پہلے بھی جعلی بنک گارنٹی دے کر ٹھیکہ حاصل کیا تھا اور اب باردگر بھی جعلی گارنٹی ہی پیش کرکے ٹھیکہ ہڑپ لیا۔
جب او جی ڈی سی ایل کے افسران اعلیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ مذکورہ کمپنی کا سابقہ ریکارڈ اچھا نہیں تو پھر وہ کون سی اچھائی تھی یا اپنا فائدہ تھا‘ جس نے ٹھیکہ اس بدنام زمانہ کمپنی کو دلوا دیا۔ ’’دی نیشن‘‘ تو پوری قوم ہے اور جب پوری قوم نے کہہ دیا ہے تو پھٹے ڈھول کیسے بجیں گے؟ او جی ڈی سی ایل کے ایم ڈی نعیم ملک کیا علیل ملک ہیں کہ انہیں آئی ای ایس میرٹ پر اترتی چڑھتی نظر آئی۔ ہم نیشن کی ایڈیٹر صاحبہ شیریں مزاری کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ انکے رپورٹر آسمان سے خبریں لاتے اور زمین پر پھیلاتے ہیں۔ اگر یہ رسائیاں جاری رہیں تو نیشن دھوکہ بازوں کیلئے نیشن ثابت ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
لاہور میں پاکستانی کرکٹ کھلاڑیوں کیخلاف گدھوں کا جلوس نکالا گیا‘ گدھوں پر کرکٹ کھلاڑیوں کے نام پلے کارڈ تھے‘ جلوس میں لوگوں نے جوتے اور انڈے برسائے۔
لاہوریے آخر لاہوریے ہیں‘ جب کسی کو عزت دینے پر آئیں تو اسے سدرہ پر بٹھا دیتے ہیں اور جب گرانے پر آجائیں تو گدھے پر سوار کرا دیتے ہیں۔ جن کھلاڑیوں نے میچ فکسنگ کی ان کیخلاف یہ گدھے بروز قیامت گواہی دینگے اور وہاں تو یہ باقاعدہ ان پر سوار حشر کے میدان میں اترینگے۔
ابھی تو پلے کارڈوں کو جوتے پڑے ہیں‘ جب کھلاڑیوں کو گرز پڑیں گے اور کوئی راہ فرار نہ ہو گی تو یہ حکمرانوں کے نقش قدم پر چلنے والے کھلاڑی کدھر جائینگے؟ کہیئے! اب ان اپنے پیرو کاروں کو انکے پیرو مرشد کیا سزا دینگے؟ اور روز جزا کی سزا سے کیسے بچائیں گے کیونکہ وہاں تو یہ بھی گدھوں پر سوار ہونگے۔
ایک زمانہ تھا کہ کرکٹ اور ہاکی پاکستان کی نیک نامی کا باعث تھے اور ایک یہ وقت ہے کہ ورلڈ پریس اور الیکٹرانک میڈیا پر کرکٹ کوڑا کرکٹ بن کر رہ گئی ہے۔ ہاکی کو تو ہم نے کالاباغ ڈیم کی طرح دفن ہی کر دیا ہے اور کھلاڑی بھی دلچسپی نہیں لیتے کیوں اس میں فکسنگ کے مزے نہیں‘ کرکٹ ہو یا ہاکی دونوں کو رکھنا ہے‘ تو حکومت کو انہیں ازسرنو استوار کرنا ہو گا اور مجرم کھلاڑیوں کو نشانِ عبرت بنانا ہو گا۔
٭…٭…٭…٭
خبر ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
رمضان المبارک ایک برکتوں والا مہینہ ہے‘ لیکن مہنگائی کی یہ ’’برکت‘‘ صرف رمضان المبارک تک محدود نہیں رہی‘ اب تو یہ سال کے بارہ مہینے عوام کو متاثر کرتی رہتی ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ مہنگائی کا طوفان اب صرف رمضان میں ہی نہیں آتا‘ بلکہ سارا سال ہی عذاب کی صورت میں قوم پر مسلط رہتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ رمضان میں کھانے پینے کی چیزوں کی رسد بڑھ جاتی ہے‘ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کا فائدہ اٹھا کر عوام کو تنگ کیا جائے اور اشیاء ضروریہ مہنگے داموں فروخت کی جائے۔ لوگ بھی کیا کریں ‘جب تک روزہ افطار کیلئے فروٹ چاٹ‘ پکوڑے‘ سموسے اور دہی بھلے نہ ہو تو انہیں روزہ کھولنے کا مزہ ہی نہیں آتا حالانکہ روزہ ان چیزوں کا محتاج نہیں۔ روزہ تو تقویٰ اور برداشت کا درس دیتا ہے جس کا بہترین عملی نمونہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا۔
میڈیکل سائنس کے مطابق روزہ اندر کی صفائی کرتا ہے‘ جسم میں جمع شدہ سال بھر کا کولسٹرول اور پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے‘ لیکن ہم اپنے جسم کے اندر ناقص گھی اور تیل سے بھری کچوریوں‘ پکوڑوں اور سموسوں کی صورت میں صرف اور صرف کولسٹرول ہی داخل کرتے ہیں جس سے روزے کا جسمانی کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا بلکہ مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ عام دنوں کی نسبت رمضان المبارک میں ہمارے معدہ کو زیادہ مشقت کرنا پڑتی ہے‘ جو روزہ کا تقاضہ ہرگز نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ صرف دو کجھوریں تمام دن کی توانائی بحال کر دیتی ہیں۔ عوام افطار کی ان فضولیات سے بچیں‘ کجھور اور سادہ غذا سے روزہ افطار کریں‘ یقین کریں‘ اس طرح بھی روزہ کھل جاتا ہے۔
٭…٭…٭…٭
سکھر کے ایک سیلاب سے متاثرہ شخص نے کہا ہے: ’’میرا نام بلاول ہے‘ زرداری نے مدد نہ کی تو خودکشی کرلوں گا‘ آئندہ پی پی پی کو ووٹ نہیں دینگے۔‘‘
اس وقت وطن عزیز میں سیلاب نے جو تباہی مچا رکھی ہے‘ اس سے پورا ملک شدید متاثر ہورہا ہے۔ نجانے کتنے بلاول اور کتنی آصفہ نامی بچیاں اس سیلاب کی نذر ہو گئیں‘ اس وقت حکمران مطمئن اور پرسکون ہیں‘ اس لئے انکے بچے ملک سے باہر بیٹھے ڈوبتی قوم کے مناظر دیکھ رہے ہیں‘ رہی قوم اور قوم کے بچے تو وہ قوم جانے۔
پچھلے دنوں برمنگھم میں بلاول زرداری نے ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے اپنی سیاست کا روایتی انداز میں آغاز کیا اور اپنا پہلا سیاسی بیان جاری کیا کہ پاکستان کیلئے اپنی جان بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے‘ اسے انکی جان کی نہیں‘ انکے مال کی ضرورت ہے‘ لندن اور دیگر ممالک میں انکے خزانے بھرے پڑے ہیں‘ ان خزانوں میں سے ایک خزانے کا منہ اپنے پاکستان کے ان سیلاب زدگان کیلئے کھول دیں ‘ جنہوں نے انتخابات میں انکی پارٹی کیلئے ووٹوں کے خزانے کھول دیئے تھے‘ یہی بلاول صاحب کی سب سے بڑی قربانی ہوگی۔
جہاں تک سکھر کے ڈوبتے بلاول کا تعلق ہے کہ وہ آئندہ پی پی پی کو ووٹ دیگا یا نہیں‘ اس سمیت سیلاب نے ان سب کی عقل ٹھکانے لگا دی ہے‘ جنہوں نے اس پارٹی سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں‘ اس مشکل گھڑی میں انکی تمام امیدوں پر سیلاب کی طرح پانی پھر گیا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter