پیر ‘ 16 ؍ صفر المظفر1431ھ‘ یکم فروری 2010ء

ـ 1 فروری ، 2010
خبر ہے کہ چین نے پاکستان سمیت دوسرے ملکوں میں فوجی اڈے قائم کرنے کا عندیہ دے دیا اس نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے ارادہ ترک نہیں کرینگے۔ فیصلے کی وجہ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی ہے۔
چین نے اب تک امریکا کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی تھی مگر یہ پہلا موقعہ ہے کہ اسنے خطرہ محسوس کرتے ہوئے دوسرے ملکوں میں فوجی اڈے قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا ہے۔ یہ ردعمل خطے میں امریکی فوج کی موجودگی کے باعث سامنے آیا ہے اور نہایت بروقت ہے اس طرح امریکا اپنی کارروائیوں میں کافی حد تک کمی کرنے پر مجبور ہو گا یہ ردِ عمل ایک ایسے وقت میں آیا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے بیک وقت چین اور پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکی آ چکی ہے۔ اس وقت دنیا میں امن کے لئے ضروری ہے کہ کوئی قوت ایسی ہو جو امریکا کو کائونٹر کر سکے چین نے یہ محسوس کیا ہے کہ امریکا اپنے حواریوں کے ذریعے اس کو ہراساں کر رہا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس اقدام سے ہم ہمسایہ ممالک کے کسی بھی حملے کا فوری جواب دے سکیں گے۔ امریکا کی پوزیشن اس وقت یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے‘‘ چین پاکستان کا مشکل کی گھڑی میں کام آنے والا دوست ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان میں بھی اپنے فوجی اڈے قائم کرنے کا اظہار کیا ہے۔ اس کا یہ اقدام کافی حد تک بھارت کی ریشہ دوانیوں کو بھی روک دے گا۔
٭…٭…٭…٭
وزیر خارجہ نے کہا ہے امریکہ نے طریقہ نہ بدلا تو ہم اسی طرح امریکیوں کی تلاشی لیں گے۔
ہمارے وزراء کے ہاں ’’گا گے گی‘‘ کا لفظ عام ہے اور وہ انہی تین لفظوں کے بل بوتے پر چلتے ہیں۔ جو کام نہ کرنا ہو اس کے بارے میں کہہ دیتے ہیں یوں کریں گے اور یوں کریں گے۔ یہی حال وفاقی وزیر مملکت برائے دفاعی پیداوار عبدالقیوم جتوئی کا ہے جنہوں نے کہا ہے امریکہ نے میزائل حملے بند نہ کئے تو پاکستان ڈرون طیارے مار گرائے گا جو کام نہ کرنا ہو اس کے بارے میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے تو زور ہوا ’’گا‘‘ پر ہی ہو گا۔ جتوئی صاحب کو معلوم ہے کہ امریکا نے ڈرون حملے بند نہیں کرنے۔ قبائلیوں کو بھی پتہ تھا کہ امریکا ڈرون طیاروں کے حملے بند نہیں کرے گا۔ لیکن انہوں نے ’’گا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے گرا کا لفظ استعمال کیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ وہ امریکی طیارے گرائیں گے نہیں بلکہ گرا دئیے ہیں۔ بھئی ایک طرف محدود قبائل ہیں دوسری جانب ایک بھرپور حکومت ہے مگر کارکردگی ’’گا گے گی‘‘ کے اوپر کھڑی ہے۔ یہی حالت ہر شعبے میں ہے کام کرنے والے کام دکھا دیتے ہیں اور سیاست چمکانے والے ’’گا گے گی‘‘ کا استعمال کرتے رہ جاتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
ایک بھارتی اخبار نے کہا ہے نئی دہلی پاکستان سے نپے تلے روابط کے حق میں ہے۔
بنیا ترازو میں تولنے کا بڑا ماہر ہے اور ہمارے ہاں سرے سے ترازو ہی نہیں جو ترازو عدلیہ کی عمارتوں پر لگا ہوتا ہے ہم نے اس کو بھی صرف ایک تصویر بنا رکھا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ عدالت عظمیٰ کا ترازو کام کرنے لگا ہے۔ ہمارے ہاں سے بغیر نپے تلے پیار محبت کے وفد بھارت جاتے ہیں تاکہ بھارت سے تجارت کریں روابطہ رکھیں جبکہ بھارت نے اس کے جواب میں کراچی میں ناچیاں بھیجی ہیں جو کروڑوں روپے سمیٹ کر چلی گئیں اس کو کہتے ہیں نپے تلے تعلقات بھارت نے ترازو میں سے کشمیر کا باٹ ہی نکال دیا ہے اور وہاں وہ غیر نپے تلے اقدامات کر رہا ہے۔ پانی کے مسئلے میں بھی وہ ناپ تول کا قائل نہیں ہے بلکہ بندربانٹ کا قائل ہے۔ پاکستان اپنا ترازو ڈھونڈے اور بنیا کے ساتھ ناپ تول کر بات کرے۔ یہ دونوں ملکوں میں شارع عام کھولنے کی خواہش فضول ہے۔ اس سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ بھارت اپنے ناپ تول کے مطابق بھرپور فائدہ اٹھائے گا بھارت سے ہماری دشمنی بھی نپی تلی نہیں اگر ہوتی تو آج شہ رگ آزاد ہوتی پانی کامسئلہ حل ہو چکا ہوتا اور دونوں ملکوں میں برابر کی سطح پر نپے تلے تعلقات قائم ہوتے۔ جب بھی ہماری طرف سے پیار محبت کا اظہار کیا جاتا ہے ہندو بھوتر جاتا ہے اور کوئی ایسی بات کر دیتا ہے کہ پاکستان کی امن آشا دھری کی دھری رہ جاتی ہے مہاتما گاندھی کی موت کے 60 برس بعد ان کی راکھ سمندر میں بہا دی گئی۔
٭…٭…٭…٭
ہندوؤں کی موت کی مثال بھی وہی ہے کہ کسی نے ایک سیٹھ سے پوچھا آپ اتنے امیر آدمی ہیں ٹرین کی جگہ جہاز پر سفر کیوں نہیں کرتے۔ سیٹھ نے جواب دیا بھائی ٹرین کا حادثہ ہو جائے تو "Where you are" اور اگر جہاز گر جائے تو "There you are" ہندو اپنی سرزمین پر مرنے والوں کا بوجھ بھی استعمال نہیں کرتے۔ مہاتما گاندھی جسے ہندو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں گاندھی خاندان نے کہا ہے کہ مہاتما گاندھی کی راکھ جنوبی افریقہ میں مقیم ان کے دوست کے پاس خفیہ طور پر رکھی گئی تھی جہاں انہوں نے اپنی جوانی کے ایام گذارے تھے۔ اور انہوں نے 60 برس بعد انکی راکھ افریقی سمندر میں بہا دی! راکھ بہانے سے پہلے ہندو اپنے مردے کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ تو ہمارے ہاں ’’سجی‘‘ کے ساتھ بھی نہیں ہوتا بہرحال ہمارے ایک مشہور کالج کی پرنسپل نے جسے ہیرو کہا اسکی راکھ کو بھی ہندوؤں نے برداشت نہ کیا اور گنگا کی لہریں مہاتما کی راکھ کے لئے ترستی رہ گئیں۔ اسلام اس لحاظ سے کیسا بامقصد دین ہے کہ مسلمان اپنے مردے کو نہلا دھلا کر اسکی نمازِ جنازہ پڑھا کر بڑی عزت و احترام کے ساتھ زیر زمین دفن کرتے ہیںاور اسکی قبر بناتے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ کوئی انسان مرا تھا ہندوؤں کا ہیرو نہیں مرا۔ ہندو مذہب میں انسان کا انجام جہنم سے پہلے جہنم ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter