ایوان صدر میں گھوڑوں کے اصطبل کو بجلی کی فراہمی اور دیگر منصوبوں پر 35 لاکھ خرچ ہونگے۔
پہلے آتی تھی ہم کو بھی غیرت
اب کسی بات پر نہیں آتی
”ایوان صدر“ کا نہ عالم پوچھ
اچھی صورت نظر نہیں آتی
یہ سب کچھ عوام کا ہی کیا ہوا ہے‘ محاورہ درست ہے ”جو بوﺅ گے‘ وہی کاٹو گے“۔ 2008ءکے الیکشن میں آنکھیں بند کرکے ووٹ ڈالا تھا تو آج ایوان صدر میں گھوڑوں کا اصطبل ہی آباد ہونا تھا۔ شکر کریں کہیں کتوں کا اصطبل نہیں بن گیا کیونکہ عوام گھوڑوں کو مربے کھلانے اور ہر منصوبے میں ٹین پرسنٹ لینے والے سیاست دان کو اگر ایوان صدر میں بٹھائیں گے تو وہاں گانے بجانے کیلئے ساﺅنڈ سسٹم کی اپ گریڈیشن پر 19 لاکھ خرچ ہی ہونگے۔ یقینی طور پر اس میں سے بھی کمیشن کسی نہ کسی اکاﺅنٹ میں گیا ہو گا۔
حسنی مبارک تو زمانہ قریب کا فرعون مصر تھا جو آجکل جانوروں کے پنجرے میں بند ہو کر زندگی کے دن پورے کر رہا ہے‘ اسی سے عبرت پکڑ لیں اور عوام کا پیسہ اصطبلوں اور ساﺅنڈ سسٹم پر خرچ مت کریں۔ قبیلہ تارڑ کے سرخیل رفیق تارڑ بھی تو اسی ایوان صدر میں خاموشی سے زندگی کے تین سال گزار گئے‘ کرپشن کی نہ گھوڑوں کے اصطبل کی تزئین و آرائش کا حکم دیا۔ اسی وجہ سے آج بھی ہر ایک کیلئے محترم ہیں لیکن عوام نے 2008ءمیں بینظیر بھٹو کی قبر کو ووٹ دیکر جنہیں ایوان اقتدار تک پہنچایا وہ آج ایوان صدر کو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل کرتے نظر آرہے ہیں۔ عوام اپنے انتخابات کا شکوہ اسکے سوا کیا کریں کہ....
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
٭....٭....٭....٭
”آپ موت کے ذمہ دار ہیں“ امریکی عدالت نے مائیکل جیکسن کے معالج کو چار سال سزا سنا دی۔
حالی نے کہا تھا....
گو طبیب اور ڈاکٹر تھے شہر میں بے انتہا
کوئی مفلس کا نہ تھا پرسان حال اس کے سوا
مائیکل جیکسن کیا کرتا‘ ڈاکٹر مرے کے علاوہ اس کا پرسان حال کوئی اور تھا ہی نہیں۔ ڈاکٹر مرے نے اپنے نام کی طرح مائیکل کو بھی مار دیا۔ پاکستان کے گلی محلے میں بھی ڈاکٹر مرے کی طرح مسیحاﺅں نے ڈیرے جما رکھے ہیں‘ ہر روز موت تقسیم کی جاتی ہے کیونکہ سینئر ڈاکٹر اور طبیب کی فیسیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں‘ مجبور اور غریب تو پھر حادثاتی مسیحاﺅں کے پاس ہی جائینگے نا! ایسے ہی نیم خواندہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر بھی وبال جان بنے ہوئے ہیں۔
امریکی عدالت نے تو مرے کو چار سال کیلئے مار دیا ہے لیکن نہ جانے پاکستان میں موت کے سوداگروں کو کون انجام تک پہنچائے گا۔ گردے سرعام نکالے جا رہے ہیں‘ دو نمبر دوائیوں کی خرید وفروخت عروج پر ہے‘ محکمہ صحت کے کارندے تو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مگن ہیں۔ ہوٹلوں پر ناقص کھانے‘ مکھیوں اور مچھروں کی بہتات میں سالن اور روٹی کی تیاری ہر گلی اور چوک میں یہی تماشا ہے۔ محکمہ صحت کے احباب اگر شیشوں کے دفتروں سے باہر نکلیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن یہاں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کتیا چوروں سے ملی ہے۔ نشاندہی کرتی ہی نہیں۔
٭....٭....٭....٭
امریکہ کو ایئر بیس نہ دیتے تو بھارت تمام اڈے دینے کیلئے تیار تھا۔ پرویز مشرف۔
ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ راندہ گاہ سابق صدر سچ بول دے کہ نائن الیون کے ڈرامے کا سکرپٹ لکھنے والوں نے اپنے ڈرامے کی کامیابی کیلئے 12اکتوبر 1999ءکا کردار اہم قرار دیا تھا کیونکہ امریکہ کو ایئربیس حاصل کرنے کیلئے صرف پرویز کو ہی راضی کرنا تھا۔ جتنی تباہی امریکہ نے ان ایئربیسز سے اڑان بھر کر کی ہے‘ وہ مشرف کے سیاہ کارناموں میں سرفہرست ہے۔ عربی کا مقولہ ہے:
”اذا فاتک الحیاءفافعل ماشئت“
(جب حیا ختم ہو جائے تو جو کچھ مرضی کر)۔
بھارت اپنا پورا ملک امریکہ کو ٹھیکے پر دے دے‘ ہمیں کوئی تکلیف نہیں‘ کیونکہ رسول اللہ کے فرمان کے مطابق کفار تو ملت واحدہ ہیں۔
ہمیں اپنے افغان بھائیوں کے قتل عام کیلئے بحری‘ فضائی‘ زمینی راستہ اور ایئربیس نہیں دینے چاہئیں تھے۔ مشرف نے افغانوں کے دلوں میں پاکستان کے بارے میں دشمنی کے ایسے بیج بوئے ہیں‘ جنہیں کاٹتے ہوئے آنیوالی نسلوں کو حساب چکانا پڑیگا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ قیام پاکستان کے بعد یو این کی ممبر شپ کے حوالے سے پاکستان کیخلاف واحد ووٹ ظاہر شاہ کے افغانستان کا آیا اور اب بھی پاکستان پر حملہ کرنیوالے نیٹو طیارے افغانستان سے آئے ہیں لیکن کرزئی کہہ سکتے ہیں میرے بھائی شمسی کے علاوہ بھی آپ نے کئی اڈے اسی کارثواب کیلئے امریکہ کو دیئے ہوئے ہیں۔
بہرحال دبئی اور لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے سابق صدر کی پاکستان آمد کی آوازیں آرہی ہیں۔ ادھر جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے شہداءکے لواحقین بھی منتظر ہیں اور استاد امام دین گجراتی کے شعر میں بتائے طریقے سے کم پر اکتفا کرنے پر راضی نہیں ہیں....
کوئی ہاتھ پاﺅں پکڑے تو کوئی کمر کو
دم لینے دینا نہ اس فتنہ گر کو
سزا اس کی یہ ہے ہر قصبہ و شہر کو
گھسٹ کر دکھاتے پھرو در بدر کو
٭....٭....٭....٭