اتوار ‘19 ؍ شعبان المعظم‘1431 ھ‘یکم اگست 2010ء
ـ 1 اگست ، 2010
لاہور میں گراں فروشی کی انتہائی ہو گئی‘ ڈی سی او اور 43 مجسٹریٹ چین کی بانسری بجانے میں مصروف ہیں‘ پھل‘ سبزیاں‘ گوشت‘ دودھ‘ دہی سمیت ہر چیز مقررہ نرخوں سے زائد پر فروخت ہو رہی ہے‘ بکرے کا گوشت 220 کے بجائے 550 روپے فی کلو ہو گیا ہے۔
پہلے تو کہا کرتے تھے کہ مہنگائی مار گئی‘ اب کہنا چاہیے کہ مہنگائی دفنا گئی اور انتظامیہ تجہیز و تکفین میں مصروف ہے۔ ایک طرف حکومت کی شاہ خرچیاں ہیں‘ دوسری جانب مہنگائی کی برچھیاں ہیں‘ شاید یہ حکومت کی طرف سے رمضان شریف کا خصوصی استقبال ہے‘ اس لئے یہ حال ہے۔ ایک ڈی سی او کے ساتھ 43 مجسٹریٹوں کی فوج ظفر موج چھاپے بھی مارتی ہے‘ مگر شاید کھابے کھا کر واپس آجاتی ہے اور سب اچھا ہے کی تصویر دکھاتی ہے۔ شہر میں انسانوں کا گوشت سستا ہے اور بکروں کا مہنگا‘ یہ حال ہے امن و امان کا‘ ارباب بست و کشاد بھی غائب ہیں۔
اگر رمضان شریف سے پہلے مہنگائی کا یہ عالم ہے تو رمضان کے دوران کیا عالم ہوگا‘ ظاہر ہے کہ لوگ روزوں کی جگہ پیٹ پر پتھر رکھیں گے‘ جس کا ثواب حکومت پنجاب کو جائیگا‘ اگر حکومت ایک شہر کی مہنگائی کو مقررہ نرخوں پر نہیں لا سکتی‘ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ وہ گھر جا سکتی ہے۔ غریب لوگ تنگ آکر اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجاتے تھے‘ اب ان کیلئے روزے رکھنے بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ جنت بھی ایلیٹ کلاس لے جائیگی اور غریب لوگ بیٹھے ایک ڈی سی او اور اسکے 43 مجسٹریٹوں کو روئیں گے۔
٭…٭…٭…٭
سیالکوٹ میں اقبال منزل تزئین و آرائش کے ایک ماہ بعد ہی بارشوں سے ٹپکنے لگی۔ ایک کروڑ 40 لاکھ روپے سے کام مکمل ہوا تھا۔
یہ کیسا قیامت خیز دور ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے قوم انکے گھر کا پیسہ بھی کھا گئی ہے‘ جس عظیم لیڈر کے باعث آج ہم اپنی اپنی چھتوں تلے بیٹھے ہیں‘ اگر اسکے مکان کی چھتیں بھی ٹپکنے لگی ہیں تو سمجھ لو کہ یہ ملک بھی ٹپکنے لگا ہے۔ بددیانتی‘ بے ایمانی اور کرپشن اس حد تک جا چکی ہے کہ اگر مسجد بھی بنائی جائیگی تو دوسرے دن ٹپک پڑیگی۔ حکومت کو چاہیے کہ ذمہ دار افراد کو لائن حاضر کریں اور ان سے ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے وصول کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیں۔ یوں لگتا ہے کہ سارے محکمے بے لگام ہو گئے ہیں‘ شاید کہ حکمران محو جام ہو گئے ہیں۔ یہ تو صرف ایک صوبے میں کرپشن کی حالت ہے‘ خدا جانے دوسرے صوبوں میں کیا ہوتا ہو گا۔ محکمہ آثار قدیمہ انجینئرز کی نگرانی میں اقبال منزل کی تزئین و آرائش کے کام میں وسیع پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں‘ اقبال منزل کی دیواروں اور چھتوں سے رنگ بھی اترنے لگا ہے‘ جبکہ اسکی سیڑھیوں کی حالت زار بھی ٹھیک نہیں کی گئی اور نہ ہی عملہ نے اسکے دروازوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے تبدیل اور ٹوٹی ہوئی الماریوں کی مرمت کی جبکہ اقبال منزل کا سیوریج سسٹم بھی درست نہیں کیا گیا ہے۔
پبلک اکائونٹ کمیٹی نے کہا ہے‘ این جی اوز کو دی جانیوالی رقوم کا باقاعدہ حساب مانگا جائے اور عمل درآمد نہ کرنیوالی تنظیموں کو بلیک لسٹ پر کیا جائے۔
ہماری این جی اوز جہاں درد ہوتا ہے‘ وہاں نہیں پہنچتیں‘ البتہ جہاں سیمینار ہوتا ہے‘ وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ ہمارا این جی اوز کلچر بحیثیت مجموعی طبقہ امراء کی مصروفیت کا ایک بہانہ ہے‘ اس نے کیا کسی کی مدد کو جانا ہے‘ بہت ساری این جی اوز ایسی ہیں‘ جو غریبوں کے نام پر اندر باہر سے فنڈز وصول کرتی ہیںاور اپنے اللوں تللوں پر خرچ کرتی ہے‘ شاندار عمارتوں میں پورے ساز و سامان کے ساتھ دفاتر چلاتی ہیں اور کوئی نہیں جو ان سے حساب کتاب مانگے۔ ان این جی اوز میں خطرناک بھیڑیں بھی موجود ہیں‘ جو ملک و قوم کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں‘ اسلئے ہمارے خفیہ اداروں کو بھی انکی چھان بین کرنی چاہیے۔ پبلک اکائونٹ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز پارلیمنٹ ہائوس میں میاں ریاض حسین پیرزادہ کی زیر صدارت ہوا‘ اجلاس میں آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا‘ جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 1995ء میں معذور بچوں کیلئے بس خریدنے کے بجائے اس وقت کے وزیر مملکت کیلئے 1300 سی سی گاڑی خریدلی گئی۔ این جی اوز کی کارکردگی کیلئے یہ ایک مثال ہی کافی ہے۔ اس ملک میں ضرورت مندوں سے زیادہ این جی اوز کھلی ہوئی ہیں‘ جو دونوں ہاتھوں سے پیسہ سمیٹ رہی ہیں بلکہ اب تو یہ باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر گیا ہے‘ اس لئے حکومت اگر کوئی واقعتاً این جی او ہے تو اسے چھوڑ دے‘ باقی سب کو بلیک لسٹ کرکے انکے کاروبار کو بند کرے۔
٭…٭…٭…٭
وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے‘ افسر دفاتر میں نہ بیٹھیں‘ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔
راجن پور کے فضائی معائنہ کے بعد وزیر اعلیٰ نے میڈیا کو بتایا کہ پہاڑی نالوں کے بند غیرمعیاری نہ ہوتے تو جانیں محفوظ رہتیں‘ یہی تو وقت ہوتا ہے‘ افسروں کے دفتروں میں بیٹھنے کا کہ وہ بارش کے موسم میں پکوڑے‘ سموسے اور چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بہرحال بھلا ہو وزیر اعلیٰ کا جنہوں نے افسروں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔ وزیر اعلیٰ نے جانی نقصان کا معاوضہ تین لاکھ کردیا ہے‘ اب یہ نہ ہو کہ یہ افسر اس کے بھی پکوڑے کھا لیں کیونکہ جس ملک میں جائے حادثہ پر لاشوں کی گھڑیاں اور انگوٹھیاں اتارلی جائیں‘ انکی نقدی لوٹ لی جائے‘ وہاں سیلاب زدگان کیساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس لئے ایک ٹاسک فورس ایسی بھی ہونی چاہیے جو سیلابی کاموں میں مصروف عملے پر نظر رکھے۔ چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر سیر کا لطف اٹھا رہے ہیں‘ انہیں چاہیے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ کو بھی ساتھ بٹھا لیا کریں تاکہ وہ بھی سیلابی مناظر سے لطف اٹھائیں۔
پنجاب حکومت کا سیاپا کرنیوالے گورنر پنجاب امدادی کارروائیوں میں دکھائی نہیں دیتے‘ شہباز شریف ان کو بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں