گنجینہ حکمت
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 31 جنوری ، 2010
قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ (ترجمہ) ’’جسے حکمت و (دانش) عطا ہوئی اسے خیر کثیر مل گئی‘‘۔
جناب رسول پاکؐ نے اس خیر کثیر سے سب سے وافر حصہ پایا‘ اوروں کے لئے نوشت و خواند نہ کرسکنا عیب ہے۔ جبکہ حضور اکرمؐ کے لئے اُمی ہونا باعث فخر ہے۔ آپؐ کے مختصر کلمات میں حکمت کے بے پایاں سمندر بند ہیں۔ کتب احادیث میں پہلی حدیث شریف یہ ہے ’’ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے‘‘۔ ذرا اس کی گہرائی پر توجہ کریں عمل وہی ہے لیکن نیت سے اس کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا گیا عمل اور ہے۔ اپنی غرض کے لئے کیا گیا اور ہے۔ دکھاوے اور واہ واہ کے لئے کیا گیا اور ہے۔ بظاہر اعمال کی صورت وہی رہتی ہے لیکن اندر سے نیت اسے کچھ سے کچھ بنا دیتی ہے۔ فرمایا اے اللہ! مجھے اشیاء کی حقیقت جیسی ہے دکھا!
یہ دعا گویا سارے اخلاق کا مخزن اور بنیاد ہے۔ قرآن پاک کے مطابق کائنات حق و باطل کی رزم گاہ ہے اور اس رزم گاہ میں حق کو حق سمجھنے کے بعد ہی اس کا ساتھ دیا جا سکتا ہے اور ساتھ اسی صورت دیا جا سکتا ہے جب توفیق الہیٰ شامل حال ہو۔
فرمایا جب تیری نیکی تجھے بھلی معلوم ہو اور تیری بدی تجھے بری لگے تب تو مومن ہے۔ یعنی ایمان کا مقصد یہ ہے کہ نیکی کے لئے ذوق پیدا ہو جائے۔ نیکی طبیعت کا جزو بن جائے۔ نیکی کرکے دل خوش ہو برائی سے طبیعت مکدر ہو۔ خطبات میں بالعموم فرماتے تھے جس میں امانت داری نہیں اس میں ایمان نہیں اور جس میں عہد (کی پابندی) نہیں اس میں دین نہیں۔
یہ بھی فرمایا کہ پوچھنے والے کو صحیح مشورہ دینا بھی امانت داری میں داخل ہے۔ امانت داری اور عہد کی پابندی اچھے معاشرہ کی بنیاد ہے۔ اس کے بغیر اچھا معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا نہ قائم رہ سکتا ہے۔ فرمایا غیبت کرنے والے (چغل خور) جنت میں نہیں جائیں گے۔
کسی نے پوچھا اگر میں کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے وہ عیوب بیان کروں جو اس میں موجود ہیں تو کیا یہ بھی غیبت ہو گی؟ آپؐ نے فرمایا یہی تو غیبت ہے اگر تو اس کے ذمہ وہ عیوب لگائے جو اس میں نہیں ہیں تو یہ بہتان ہو گا۔ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کے نتائج کو مندرجہ ذیل تمثیل سے واضح فرمایا۔
آدم کا بیٹا جب صبح سو کر اٹھتا ہے تو اس کے بدن کے سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ اسلئے کہ تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر تو ٹھیک رہے گی تو ہم بھی ٹھیک رہیں گے اگر تو نے کج روی اختیار کی تو ہم بھی کج رو ہو جائیں گے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں