تازہ ترین:

تقویٰ

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 30 مارچ ، 2011
عزت کا معیار تقوی ہے اور تقویٰ کی پہلی پہچان حق تعالیٰ کی خشیت اور محبت ہے‘ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت و محبت نہیں‘ وہ تقویٰ اور ایمان سے خالی ہے۔ تقویٰ کی دوسری پہچان حضور اکرم کا ادب و احترام ہے۔ سورة الحجرات میں ارشاد ہے : ”اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لوگ جو رسول اللہ کے سامنے ادب و احترام سے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے جانچ لیا ہے‘ ان کیلئے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (آیہ۳)
جتنا حضور کا ادب اتنا ہی دل میں تقویٰ اور جتنا تقویٰ اتنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تکریم‘ اسکے برعکس جو دل حضور کے ادب سے خالی ہے وہ تقویٰ سے بھی خالی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شرک معاف نہیں ہو گا باقی جس کا جو گناہ اللہ تعالیٰ چاہیں معاف فرما دیں گے‘ اس لئے شرک کے ظاہر اور باطن سے بچنا چاہئے اور شرک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی اور کو انکے برابر سمجھا جائے۔ شرک ظلم عظیم ہے بغیر سوچے سمجھے یونہی کسی پر شرک کا الزام لگانا بھی ظلم ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضور اکرم کی شان میں گستاخی سے سارے اعمال ضائع ہو جانے کا خدشہ ہے۔(۴۹-۲)اس سے آنجناب کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھنا چاہئے۔ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر!
ایمان تقویٰ کی شرط اول ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اور جناب رسول پاک پر ایمان نہ ہو تو ان سے محبت و ادب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سورہ البقرہ میں فرمایا اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو تخلیق فرمایا تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ (آیہ ۲۱)
اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اسکے اندر تقویٰ پیدا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرے اور اللہ تعالیٰ کا رنگ اپنائے تاکہ اسکے اندر اعلیٰ ذوق پیدا ہو۔ اچھے کام اس کی طبیعت کا جزو بن جائیں‘ برے خیالات بری باتوںاوربرے کاموںسے اسے طبعاًنفرت ہو جائے۔اسی سورہ میںآگے چل کر فرمایا (ترجمہ) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں‘ جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ (آیہ ۱۸۳)
اس رکوع کے آخر میں پھر فرمایا: اس طرح اللہ تعالیٰ(روزوںکے بارے میں)اپنی آیات وضاحت سے بیان فرماتے ہیں تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو (آیہ ۱۸۷)۔ انسان کے اندر ایک تو اللہ تعالیٰ کی روح میں سے پھونکی ہوئی روح ہے جو ایک نورانی چراغ ہے‘ دوسری طرف اس کے اندر نفس ہے جو حیوانی جبلتوں کا مخزن ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter