عہد پیغمبران

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 30 جنوری ، 2010
عالم ارواح میں جملہ انسانوں سے عہد الست لیا گیا تھا۔ حق تعالیٰ نے سب سے فرمایا۔ ’’کیا میں تمہارا رب نہیں؟ سب نے عرض کیا! بلیٰ ’’(ہاں) ہم گواہی دیتے ہیں (کہ آپ ہمارے رب ہیں)‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا تم سے یہ عہد اس لئے لیا گیا ہے کہ روز قیامت تم یہ نہ کہو کہ ہم وجود باری تعالٰی سے غافل تھے‘ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہر شخص کی نہاد میں اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس اور اقرار موجود ہے۔
عہد الست تو جملہ اولاد آدم سے لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ عالم ارواح میں دو خاص عہد پیغمبروں سے بھی لئے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر حضرات کی ارواح دوسروں سے مختلف اور ممتاز تھی۔ گویا پیغمبر اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی پیغمبر تھے۔ جناب رسول پاکؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ آپؐ اس وقت بھی پیغمبر تھے جب آدم ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔ یعنی جب انسان کا بدن وجود میں نہیں آیا تھا۔ سورہ الاحزاب میں ارشاد ہے ’’اور جب ہم نے انبیاء سے انکا عہد لیا اور آپؐ اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیؑ اور عیسیٰؑ ابن مریمؑ سے (خاص طور پر عہد لیا) اور ہم نے ان سب سے پکا عہد لیا (کہ وہ اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں اپنی پوری کوشش صرف کردینگے) تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے انکی راستی کے بارے میں پوچھے (حق گویان یعنی پیغمبران سے انکے پیغام حق کے بارے میں روز قیامت سوال کرے) اور جو لوگ پیغمبروں پر ایمان نہ لائیں گے ان کیلئے المناک عذاب تیار ہو گا۔ اس آیہ مبارکہ میں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ جملہ انبیاء میں سے پانچ انبیاء ؑ مخصوص کیا گویا یہ پانچ درجہ میں باقی سب انبیاء ؑسے افضل ہیں۔
تیسرے پارہ کا آغاز اسی بات سے ہوتاہے کہ یہ جو ہمارے رسل ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اس آیت کی دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ ان پانچ افضل رسل میں سے چار اسی ترتیب لائے جس کیمطابق وہ دنیا میں مبعوث ہوئے لیکن ہمارے حضور اکرمؐ کا اسم مبارک سب سے پہلے لائے حالانکہ آپؐ کی بعثت سب سے بعد ہوئی۔ اس طرح الوالعزم رسل پر آپؐ کی فوقیت کا اظہار فرمایا۔
اس آیہ مبارکہ میں تیسری قابل غور بات یہ ہے کہ حضور اکرمؐ کیلئے لفظ ’’من‘‘ علیحدہ ہے اور باقی چاروں حضرات کیلئے علیحدہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنجنابؐ جوکام سرانجام دیں گے‘ وہ خاص اور ممتاز ہوگا۔ بہ الفاظ دیگر آپؐ جملہ انبیاؑء کے مشن کی تکمیل فرمائیں گے‘ یعنی انبیاء ؑکا جو مشن ہے وہ آپؐ کے ذریعہ سرانجام کو پہنچے گا اور یہی ہوا۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter