تازہ ترین:

سورہ الانفال و التوبہ

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 30 دسمبر ، 2011
سورہ الانفال اور سورہ التوبہ دونوں جنگ کے بارے میں ہیں۔ سورہ الانفال میں ان اصولوں کا بیان ہے‘ جو اسلام نے جنگ کے بارے میں مقرر کئے ہیں۔ سورہ التوبہ میں بعض خاص جنگی حالات بیان فرمائے۔ سورہ الانفال جنگ بدرکے موقع پر نازل ہوئی۔ سورہ التوبہ فتح مکہ کے بعد 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ دونوں سورتوں کا مضمون ایک جیسا ہونے کے باعث سورہ التوبہ کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم(جو نئی سورہ کے آغاز کا نشان ہے) نہیں لکھی جاتی۔
سورہ الانفال کا آغاز اس اعلان سے ہے کہ مال غنیمت پر اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول پاک کا حق ہے۔ کیونکہ فتح محض اللہ تعالیٰ کی نصرت سے ہوتی ہے۔ فرمایا کہ مومنوں کی یہ صفت ہے کہ انکے سامنے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے توانکے دل دہل جاتے ہیں۔ اسکے بعد غزوہ بدر کا واقعہ بیان فرمایا کہ اس دوران اللہ تعالیٰ نے کیسے مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ بعد میں ازراہ مہربانی فرما یا کہ پانچواں حصہ رکھ کے باقی سارا مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کردیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے جنگ میں اپنی مدد کی مندرجہ ذیل صورتیں بیان فرمائیں۔
-1 مسلمانوں کے دلوں کو قائم اور ان کے قدموں کو مضبوط رکھا۔
-2 کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈالدیا۔
-3 فرشتے بھیجے جو مسلمانوں کی طرف سے لڑے۔
-4 مسلمانوں کی نظروں میں کافروں کی تعداد حقیر کرکے دکھائی۔
جنگ میں فتح کے حصول کیلئے مندرجہ ذیل اصول ارشاد فرمائے۔
-1لڑائی میں پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ فرمایا جو ایسا کرےگا اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور وہ جہنمی ہے۔
-2 ثابت قدم رہو اور اس کیلئے طریقہ بھی بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثیر کرو۔
-3 اللہ تعالیٰ اور جناب رسول پاک(اب کمانڈر اعلیٰ) کی پوری اطاعت کرو۔ آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ مبادا دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب جاتا رہے (اور وہ تم پر دلیر ہو جائیں)
-4 اتراتے ہوئے اور دکھاوا کرتے ہوئے لڑائی کیلئے نہ نکلو (صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رکھو)
-5 اپنی استطاعت کےمطابق سامان جنگ کا پورا انتظام رکھو۔ مسلمانوں کو بشارت دی کہ وہ اپنے سے دس گنا فوج پر غالب آسکتے ہیں اورکمزور ہوں تو بھی اپنے سے دو گنا فوج پر ضرور غلبہ پاسکتے ہیں۔
سورہ التوبہ میں مندرجہ ذیل احکام صادر فرمائے۔
-1 مشرکوں سے کہہ دیا گیا کہ انہیں چار ماہ کی مہلت ہے۔ اسکے بعد ان کےخلاف فوجی کارروائی شروع کردی جائےگی۔ البتہ جن مشرکوں نے مسلمانوں سے کئے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی‘ ان سے معاہدوں کی پابندی کی جائےگی۔
-2 مشرکوں کو کعبتہ اللہ میں بغرض نام نہاد عبادت آنے سے منع کر دیا گیا کیونکہ وہ نجس ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter