ربوبیت

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 30 اگست ، 2010
اللہ تعالیٰ نے اپنی تین صفات ربوبیت‘ رحمت‘ اور عدل کا ذکر فرمایا۔ رحمت کیلئے دو اسمائے صفات لاکر اس کی فوقیت کی طرف اشارہ فرما دیا۔ دیکھا جائے تو ربوبیت بھی رحمت ہی کا کرشمہ ہے ہر وجود کو ہر مرحلہ پر اس کی مناسب نشو و نما کیلئے اسباب مہیا کرنا ربوبیت ہے۔ بچے کیلئے ماں کا دودھ ہے‘ جو ابتداء میں پتلا‘ اور پھر جیسے جیسے اس کا معدہ متحمل ہوتا ہے گاڑھا ہوتا جاتا ہے بڑا ہوتا ہے تو اس کیلئے انواع و اقسام کے پھل اور مختلف اناج ہیں۔ ان میں سے وہ اپنی ضرورت کے مطابق‘ اپنے شعور کی مدد سے انتخاب کر سکتا ہے۔ ماں کے اندر مامتا کا جذبہ رکھ دیا بچے کو پالنے کے دوران راتوں کو اٹھنا دن کو اسے اٹھائے پھرنا‘ اسکی ہر ضرورت کا اہتمام کرنا اسے شاق نہیں گزرتا بلکہ وہ اس میں راحت محسوس کرتی ہے۔ باپ بچے کے تحفظ اور اس کی تربیت میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ اس پر خرچ کر کے اس کا دل اور خوش ہوتا ہے۔ اپنی استطاعت کے مطابق بلکہ اس سے بڑھ کر بچے کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرتا ہے۔ ماں اور باپ میں اولاد کی محبت اور نگہداشت کا جذبہ رکھ دینا اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا ہی ایک پہلو ہے۔ ہر شخص بچوں سے پیار کرتا ہے خواہ وہ اپنے ہوں یا دوسروں کے ہر شخص بچوں کو تحفظ دیتا ہے۔ ہر شخص بچوں کی رہنمائی کرنے پر تیار رہتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہی کے جلوے ہیں جو مختلف انداز میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ بچہ جوان ہوتا ہے اس میں قوت اور سمجھ آجاتی ہے۔ اب اسے بدنی تحفظ کی ضرورت نہیں اب اسے ذہنی تحفظ اور رہنمائی کی ضرورت ہے اس مرحلہ پر اس کیلئے ہدایت کے جملہ سامان مہیا فرما دیئے علماء اور اساتذہ نوجوانوں کو پڑھا کر انہیں زندگی کے مسائل سمجھا کر دلی خوشی محسوس کرتے ہیں اپنی طرف سے پیغمبر اور کتابیں بھیجیں۔ انسان بڑھاپے کو پہنچتا ہے پھر کمزور ہو جاتا ہے اس مرحلہ پر اس کیلئے یہ انتظام کر دیا کہ ہر جوان بالعموم بزرگوں کی مدد پر آمادہ رہتا ہے ان کا احترام کرتا ہے انکے کام آکے خوش ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو اپنی شان ربوبیت سے یہ سب انتظامات کر دیئے ہیں مگر ان سے پورا فائدہ اٹھانا ہمارا اپنا کام ہے۔
چھوٹا بچہ تو معصوم ہوتا ہے اسے سب پیار کرتے ہیں‘ لڑکپن کو پہنچتا ہے تو اپنے ادب اور فرمانبرداری کیمطابق والدین اور اساتذہ کی توجہ حاصل کرتا ہے جوانی میں بھی یہی چیزیں کام آتی ہیں۔ بڑھاپے میں وہ لوگ دوسروں سے زیادہ عزت کراتے ہیں جو بور اور بدمزاج نہیں ہوتے۔ جو دوسروں پر اپنی ہمہ دانی کا رعب بٹھانے کی کوشش نہیں کرتے۔ آخری عمر میں جب بدن کمزور اور چہرہ مردہ ہو جاتا ہے ان دنوں خوش مزاجی اور بچوں اور جوانوں کی غلطیوں سے عفو و درگزر کام آتے ہیں۔ ورنہ لوگ پاس نہیں پھٹکتے عام طور پر بزرگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ نوجوان نسل ان کا ادب نہیں کرتی مگر اپنی بدمزاجی اور بسیار گوئی کی طرف ان کا دھیان نہیں جاتا ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter