قرآن پاک کی عظمت
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 30 اگست ، 2009
قرآن پاک عظیم ہے، حکیم ہے، مجید ہے، آسان ہے، مبین ہے، ہدایت ہے، رحمت ہے، نور ہے، منیر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا عظیم احسان ہے کہ جناب رسول پاک کے وسیلہ سے ہم مسلمانوں کو یہ نعمت بے بہا عطا فرمائی گئی۔ چونکہ قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لے رکھا ہے، اسلئے اسکی حفاظت میں امت مسلمہ کی حفاظت خودبخود آ گئی۔ امت مسلمہ بھی انشاء اللہ العزیز تاقیامت محفوظ رہے گی۔
سورہ الحشر میں فرمایا ’’اگر ہم اس قرآن پاک) کو پہاڑ پر نازل فرماتے، تو آپؐ دیکھتے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خشیت کے سبب پچک کر ریزہ ریزہ ہو جاتا۔‘‘ (آیۃ ۱۲)
یہ ہے شان اس کتاب کی اور ہم اس کے احکام سے لاپرواہی برتتے ہیں۔
قرآن پاک کے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، مگر اس سے ہدایت وہی پاتے ہیں جن میں تقویٰ ہے (۲، ۲) جو اقوم ہیں (۷۱، ۹) جو اس پر غور کرتے ہیں جو اسے سمجھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر جو اس پر عمل کرتے ہیں۔ جو اس پر ایمان ہی نہ لائے یا جو اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کرے، وہ اس سے کیا فائدہ پا سکتا ہے۔
قرآن پاک کی تلاوت کے چند آداب ہیں، جو اسی کے اندر موجود ہیں۔ (۱) پہلا ادب تو یہ ہے کہ پاک شخص ہی اسے ہاتھ لگائے۔ فرمایا ’’مطہرین کے علاوہ اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتے‘‘۔
(۲) تلاوت شروع کرنے سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم پڑھنا ضروری ہے۔ (سورہ النحل میں فرمایا ’’اور جب تم قرآن (پاک) کی تلاوت کرو تو (پہلے) شیطان راندہ درگاہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو‘‘۔ (آیۃ ۸۹)
(۳) قرآن پاک ترتیل سے (آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر) پڑھو۔ (سورۃ مزمل)
(۴) قرآن پاک پڑھا جائے تو اسے خاموشی اور توجہ سے سنو۔ سورۃ الاعراف میں فرمایا ’’اور جب قرآن (پاک) پڑھا جائے، تو اسے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔ (آیۃ ۴۰۲)
سورۃ الکٰہف کے آغاز میں فرمایا ’’تعریف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے، جس نے اپنے بندہ (محمدؐ) پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہ رکھا۔ یہ قیم (سیدھی راہ پر قائم رکھنے والی کتاب) ہے‘‘۔ (آیات ۱، ۲)
سورہ حٰم السجدہ میں فرمایا ’’یہ کتاب الرحمٰن و الرحیم (اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے، جس کی آیات (کے مطالب) واضح طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ یہ قرآن عربی ہے۔ (اور) ان لوگوں کیلئے ہے جو اس کا علم حاصل کرتے ہیں‘‘۔ (آیات ۱ تا ۳)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں