تازہ ترین:

چند اور باتیں

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 28 جنوری ، 2012
تعمیر شخصیت کےلئے تین چیزیں بنیادی ہیں۔ ایک اللہ تعالیٰ سے، جو ہر خیر کا منبع و مخزن ہے، گہرا تعلق اور یہ تعلق ایمان و عشق کا ہے۔ دوسرے بلند ترین شخصیت کا عملی نمونہ، جسے انسان اپنے سامنے رکھے۔ یہ نمونہ جناب رسالت مآب ہیں اور تیسرے ضبط نفس تاکہ اسکی مدد سے اپنے آپ کو صحیح سمت چلایا جا سکے۔ نماز و روزہ تعلق باللہ بھی پیدا کرتے ہیں اور ضبط نفس بھی۔ پانچ وقت کی نماز باجماعت ڈسپلن کا عادی بناتی ہے اور روزہ اندرونی ضبط پیدا کرتاہے۔ اسکے علاوہ ایک اور ضروری چیز فضول کاموں اور باتوں سے بچنا ہے۔ قرآن پاک میں بار بار ارشاد ہے کہ صاحب ایمان لوگ لغو سے بچتے ہیں نیز فرمایا وہ جاہلوں سے الجھتے نہیں اور اگر کوئی جاہل الجھے تو اسے سلام کہہ کر الگ ہو جاتے ہیں۔ اہل جنت کے بارے میں ارشاد ہے کہ وہ جنت میں گناہ کی باتیں یا لغو باتیں نہیں سنیں گے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ وہ لغو اور جھوٹ نہیں سنیں گے۔ حضور اکرم نے فرمایا۔ خرابی ہے اس بندے کےلئے جو لوگوں کو ہنسانے کےلئے جھوٹ بولتا ہے۔اگر ہم اپنے دن بھر کے کاموں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ہمارا زیادہ وقت لغو ہی میں کھو جاتا ہے۔ ذہن کو آزاد چھوڑ دینا بھی لغو ہی میں آتا ہے۔ کبھی ادھر بھاگ رہے ہیں، کبھی ا دھر۔
ایک دوست نے یہ واقعہ سنایا اس نے حضرت شاہ عنایتؒ کے مزار کےساتھ والی مسجد میں غالباً ظہر کی نماز ادا کی وہاں ایک اور شخص بھی نماز پڑھ رہا تھا۔ وہیں ایک مجذوب بیٹھا تھا۔ وہ شخص نماز ادا کر چکا، تو مجذوب نے اس سے کہا۔ نماز پڑھی ہے؟ وہ بولا۔ ہاں، نماز ہی تو پڑھی ہے۔ مجذوب بولا۔ یہ کیسی نماز تھی؟ کبھی تو ادھر دوڑا جاتا تھا کبھی ادھر ‘کیا اس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ بیشتر لوگوں کا یہی حال ہے اور اکثر لوگ شکایت بھی کرتے ہیں کہ نماز میں انکی توجہ قائم نہیں رہتی۔ اسکا علاج اللہ کا ذکر کثیرہے۔
اللہ تعالیٰ کے کسی اسم مبارک کا ورد، پہلے زبان سے اتنی اونچی آواز میں کہ خود سن سکے اس سے توجہ قائم رہنے میں آسانی ہوتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ قلب ذکر کا عادی ہو جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ ذکر کثیر کا ارشاد ہے‘ عین میدان جنگ میں بھی۔ تجارت کے دوران بھی اور اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے بھی۔ (یعنی ہر وقت) لغو سے بچنے کا بہترین طریقہ ذکر کثیرہے۔ لغو میں سب سے زیادہ نقصان دہ غیبت یا دوسروں کی عدم موجودگی میں انکی برائی بیان کرناہے۔ قرآن پاک میں اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ایک شخص میں وہ عیب موجود ہوں ، پھر بھی ان کا بیان کرناغیبت ہے۔ آپ نے فرمایا یہی تو غیبت ہے اگر اس میں وہ عیب نہ ہوں اور انہیں بیان کیا جائے تو وہ بہتان ہے۔ حضور نے فرمایا‘ مبارک ہے وہ بندہ جسے اسکے اپنے عیب دوسروں کے عیب بیان کرنے سے باز رکھیں ۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter