شکر گزاری … (۱)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 28 جنوری ، 2010
بعض لوگ زندگی کو اپنے لئے بوجھ اور دوسروں کیلئے مصیبت بنائے رکھتے ہیں۔ اس بیماری کا علاج شکر گزاری ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہم پر اتنے احسانات ہیں کہ اگر دنیا کے سارے درختوں کے قلم بنا لئے جائیں اور سات سمندر سیاہی میں تبدیل ہو جائین تو بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ ختم نہ ہو۔ ہماری بقاء کے لئے ہر قسم کی غذا مہیا فرمائی۔ زمین میں اجناس اور پھل اگانے کی صلاحیت رکھی۔ آسمان سے پانی اتارا۔ زمین کے اندر سے پانی کے چشمے جاری کر دئیے۔
پانی میں یہ تاثیر رکھی کہ اسکی برکت سے مٹی کے اندر سے سبزہ اور سبزیاں اور پھل اور اجناس پیدا ہوتے ہیں۔ سورج کی شعاعوں میں یہ قوت رکھی کہ وہ انہیں بڑھاتی اور پکاتی ہیں۔ جو کچھ ہم کھاتے ہیں اسی کے دئیے ہوئے میں سے کھاتے ہیں۔ اس کا جتنا شکر بجا لائیں کم ہے۔
پانی بھی کیا چیز بنا دی۔ دو ہواؤں کا مرکب ہے، مگر ان سے مختلف اور تاثیر میں زندگی بخش۔ پی لو پیاس بجھ جائے۔ نہا لو تو تازہ دم ہو جاؤ۔ بدن کے کپڑے دھو لو، تو غلاظت ختم۔ کھیتوں اور باغوں کو سیراب کر لو تو غذا پا لو۔ پھر اسے عام کر دیا۔ دریاء بہا دئیے۔ چشمے نکالے۔ بارش سے پانی برسایا۔ زمین کے اندر پانی رکھ دیا۔ ذرا کھودو اور میٹھے پانی کا کبھی ختم نہ ہونے والا ذخیرہ پا لو۔
سانس لینے پر زندگی موقوف ہے اور ہر دم سانس لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہوا کو عام کر دیا۔ جہاں جائیں پاکیزہ ہوا موجود ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم نے ترقی کر کے ہوا کو آلودہ اور پانی کو غلیظ کر دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اجناس کو بھی زہریلی کھادوں سے زہرناک بنا لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے یہ کائنات تخلیق فرمائی، جس میں ہر طرف حسن ہی حسن ہے۔ہر انسان اس کی حسین آغوش میں آنکھ کھولتا ہے۔ اس کے شفقت آمیز ماحول میں اپنی صلاحیتوں کوچمکاتا اور پروان چڑھاتا ہے اور پھر یہیں اپنی قوتوں کو بروئے کار لا کر اپنی شخصیت کی تکمیل کرتا ہے۔
اس کیلئے دن ہنگامہ آرائیوں کا پیغام لاتے ہیں اور راتیں سکون آفرینیوں کا۔ ہر روز ایک سجیلی اور حسین صبح اسکے خیرمقدم کیلئے موجود ہوتی ہے۔ ہر چاشت اسے دعوت عمل دیتی ہے۔ ہر دوپہر اسے ترقی کے نصف النہار کی طرف بلاتی ہے۔ ہر شام اپنی تمام رنگینیوں کے ساتھ اسے رخصت کرنے آتی ہے تاکہ وہ رات کو آرام کر کے اگلی صبح کیلئے تیار ہو جائے۔
انسان باہر نکلتا ہے تو پھول اس کیلئے جنت نگاہ بنتے ہیں درخت اس کیلئے سایہ مہیا کرتے ہیں۔ پودے اسے پھل پیش کرتے ہیں۔ حیوانات سواری کیلئے حاضر ہو جاتے ہیں۔ بلند پہاڑ اس کی تعظیم کیلئے اٹنشن کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں