سخت دل
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 28 جنوری ، 2009
سورہ الانعام میں فرمایا ’’بلاشبہ ہم نے (آپؐ سے) پہلی امتوں میں (بھی ) رسول بھیجے۔ (مگرانہوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا) تب ہم نے انہیں سختی (تنگی معیشت) اورتکلیف (بیماری وغیرہ) کی گرفت میں لے لیا‘ تاکہ وہ (ہماری جناب میں) زاری کریں۔
’’43۔ پھر جب ان پر ہماری (طرف سے) سختی آئی‘ تو انہوں نے کیوں زاری نہ کی۔ بلکہ انکے دل (اور) سخت ہوگئے اور شیطان نے انہیں انکے (برے)اعمال اچھے کر دکھائے۔
’’44۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا‘ جو انکی طرف بھیجی گئی تھی‘ ہم نے ان پر ہرشے کے دروازے کھول دیئے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس (دنیوی سامان) پر اترانے لگے‘ جو انہیں ملاتھا‘ ہم نے انہیں ایک دم گرفت میں لے لیا‘ پھر وہ ناگہاں ناامید ہوگئے۔
’’45۔ اسکے بعد وہ قوم جو ظلم کرنیوالوں پر مشتمل تھی‘ اسکی جڑ کاٹ دی گئی۔(اسے نیست و نابود کردیا گیا) اور اللہ (تعالیٰ) جو سارے عالموں کا رب ہے‘ قابل تعریف ہے۔گویا ایسی قوموں کی تباہی بھی حق تعالیٰ کی شان ربوبیت کا حصہ ہے۔ جیسے زہر آلود عضو کو کاٹ دیا جاتا ہے‘ تاکہ باقی بدن بچ جائے‘ اسی طرح وہ معاشرے جن کے اندر بد اخلاقی کا زہر سرایت کر جاتا ہے‘ انہیں بھی مٹا دیا جاتا ہے۔ پہلے قوموں کو برائی سے روکا جاتا ہے۔ انہیں مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ برے کام چھوڑ دیں۔ تیسرے مرحلہ پرانکی رسی دراز کر دی جاتی ہے۔ انہیں دنیوی اشیاء کی بہتات حاصل ہو جاتی ہے غفلت اور برائی انکے کردار کا جزو بن جاتی ہیں۔ انکے معاشرہ میں بداخلاقی کا زہر پوری طرح سرایت کر جاتا ہے۔ پھر عذاب الٰہی آتا ہے اور انہیں ملیامیٹ کر دیتا ہے۔ ہمیں اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھنا چاہئے کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں۔ کیا ہمارے لئے اس وقت دنیوی اشیاء کی بہتات نہیں ہو چکی اور کیا غفلت بے پروائی اور برائی اس معاشرے کا جزو نہیں بن چکی؟
اسی سورہ میں فرمایا : ’’124۔ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں جرائم کرنے والے اکابرین بنا دیئے تاکہ وہ اس میں سازشیں کریں اور وہ نہیں سازشیں کرتے تھے‘ مگر اپنے خلاف‘ مگر سمجھتے نہیں تھے۔‘‘
وہ برے کاموں کیلئے جو سازشیں کرتے تھے‘ مثلاً رشوت لینے کیلئے‘ دوسروں سے پیسے بٹورنے کیلئے‘ یا دوسروں پر ظلم کرنے کیلئے‘ یادوسروں کی عزت سے کھیلنے کیلئے‘ یا فساد پھیلانے کیلئے‘ وہ ساری سازشیں ان کے اپنے خلاف جاتی تھیں۔ اس لحاظ سے کہ جس معاشرہ کو وہ خراب کر رہے ہوتے تھے‘ خود بھی اسی میں بستے تھے اور وہ خود یا ان کی اولاد ان برائیوں کے نتیجہ میں آنیوالے عذاب سے بچ نہیں سکتی تھی۔ دوسرے‘ وہ سب کچھ انکے اعمال نامہ میں لکھا جارہا تھا اور قیامت کے دن انہیں اس کا جواب دینا اور سزا بھگتنا ہوگی۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں