تازہ ترین:

فسادی

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 27 فروری ، 2011
سیدنا عثمانؓ کے دور کے آخری برسوں میں ابن سبا یہودی اور اسکے بعض ساتھیوں نے حکومت کیخلاف بغاوت اور فتنہ و فساد کی سازش کی۔ پہلے یہ لوگ حضرت سعیدؓ بن عاص کے پاس گئے جنہوں نے کوفہ کی گورنری سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر ابھی تک قصر امارت میں تھے۔ ان کا گمان تھا کہ سعیدؓ حضرت عثمانؓ سے ناراض ہونگے اور آسانی سے انکے ورغلانے میں آجائیں گے مگر سعیدؓ انکی باتوں میں نہ آئے، انہیں سمجھانے کی کوشش کی اور کہا ’’جو قوم آپس میں لڑتی جھگڑتی ہے، وہ مٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ عافیت کیساتھ بھی رزق دیتا ہے‘‘۔
پھر وہ لوگ شام میں امیر معاویہؓ کے پاس پہنچے۔ امیر معاویہؓ نے ان سے کہا ’’میں نے سنا ہے تم قریش کو مطعون کرتے ہو حالانکہ یہ قریش ہی تھے جنہوں نے تمہیں اسلام سے روشناس کرایا اور اقوام عالم میں ممتاز کر دیا… تم ایسے کاموں کی طرف کیوں مائل ہو، جو تمہاری ز ندگی میں اور تمہاری زندگی کے بعد بھی قوم کے کردار پر برا اثر ڈالتے رہیں‘‘۔
فسادیوں میں سے صعصہ نامی شخص نے کہا ’’آپ نے جو قریش کا ذکر کیا ہے، تو کیا سارے عرب میں ان کی اکثریت ہے یا وہ زمانہ جاہلیت میں اکثریت رکھتے تھے؟‘‘
امیر معاویہؓ نے کہا ’’کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہاری قلت عقل کے باوجود تمہاری عددی اکثریت قابل اعتنا ہے صعصہ ! تو قوم کا خطیب بنتا ہے، مگر میں دیکھتا ہوں کہ تجھ میں ذرا عقل نہیں۔ تو احمقوں کا نمائندہ ہے اور اپنی بات کو حرف آخر سمجھتا ہے۔ تم لوگ اپنی طرف سے باتیں گھڑتے ہو اور انہیں اللہ تعالیٰ کا حکم کہتے ہو۔
’’تم غیر معروف لوگ ہو، جو اللہ تعالیٰ کے راستہ سے پھر گئے ہو تمہیں اپنی بیکار ضد سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔‘‘
دمشق سے فسادی الجزیرہ گئے جہاں حضرت خالد بن ولیدؓ کے بیٹے عبدالرحمان والی تھے۔ انہوں نے ان سے کہا جو کچھ تم نے معاویہؓ سے کہا ہے، مجھے اس کی اطلاع مل گئی ہے۔ مجھ سے وہ سب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کے سامنے سارے عجم نے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔ میں فسادیوں کی جڑ کاٹنے والے کا بیٹا ہوں۔
’’اے صعصہ بن ذلتہ! اگر میں اپنے ساتھیوں کو اشارہ کر دوں تو وہ تیرا ایک ایک عضو علیحدہ کر کے ادھر ادھر بکھیر دیں اور اے ابن حطیہ ! میں جانتا ہوں کہ جو شخص بھلائی سے نہیں مانتا، اسے دوسرے طریقے سے سیدھا کیا جاتا ہے۔ جو بکواس تونے سعیدؓ اور معاویہؓ کے سامنے کی ہے، وہ میرے سامنے نہ کرنا۔‘‘ عبدالرحمٰن بن خالدؓ کے طرز عمل سے فسادی دب گئے۔ ایک موقع پر قعقاع نے کہا ’’بخدا! فساد و شر کو شرافت سے نہیں روکا جا سکتا۔‘‘
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں
Twitter