اللہ تعالیٰ کا ذکر … (۲)

ـ 28 اگست ، 2010
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے۔
’’بعض حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا :
’’ کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کونسا مال بہتر ہے تاکہ ہم اسے جمع کر لیتے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بہترین مال اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والی زبان اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرنیوالا دل ہے۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابوسعیدؓ سے روایت ہے۔
جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کوئی قوم (لوگ) ذکر الہیٰ کیلئے نہیں بیٹھی‘ مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت چھا جاتی ہے اور ان پر سکینت و سکون (اطمینان قلب) نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے‘‘۔
(مسلم)
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
’’ میرا بندہ میری نسبت جیسا گمان رکھتا ہے‘ میں اس سے اسی کے موافق سلوک کرتا ہوں اور جب میرا بندہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس وقت اس کے پاس ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی جماعت (گروہ) میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس سے بہتر جماعت میں (یعنی فرشتوں کی جماعت میں) اس کا ذکر کرتا ہوں‘‘۔
(بخاری و مسلم)
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
’’ جو شخص ایک نیکی کرتا ہے‘ اسے دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ اور جو ایک برائی کرتا ہے اسے ایک ہی برائی کی سزا ملتی ہے یا میں اسے بھی معاف کر دیتا ہوں اور جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے‘ میں اس کی طرف ایک گزر بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلائو کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں اور جو شخص آئے گا‘ میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر میں اسے اسی قدر بخشش سے ملوں گا بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو‘‘۔ (مسلم)
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

Twitter