تازہ ترین:

شہید اور شہداء

نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 27 جنوری ، 2010
سورۃ البقرہ میں فرمایا : ’’اور اس طرح ہم نے تمہیں امتہ وسطاً (افراط تفریط سے پاک امت) بنایا‘ تاکہ تم لوگوں پر شہداء بنو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پاک) تمہارے لئے شہید ہوں‘‘۔
سورۃ الحج کے آخر میں فرمایا :
’’اے صاحب ایمان لوگو! اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکو اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت بجا لاؤ اور نیک کام کرو تاکہ تم (فلاح و کامیابی) پاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو‘ جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمہیں منتخب فرمایا ہے اور تمہارے لئے اس دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی۔ یہ تمہارے باپ ابراہیم ہی کی ملت ہے۔ اسی نے اس سے قبل تمہارا نام مسلمین رکھا تھا اور اس (قرآن پاک) میں بھی (تمہیں یہی نام دیا گیا ہے)۔ ’’تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پاک) تم پر شہید ہوں اور تم لوگوں پر شہداء بنو۔ (آیت: 76-75)
اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو بڑا بلند منصب عطا فرمایا ہے اور اسے عظیم مقصد کیلئے منتخب فرمایا ہے کہ وہ نوع انسان کو افراط تفریط کی راہوں پر چلنے سے بچائے اسے راہ اعتدال پر گامزن رکھے…؎
فطرت کا تقاضا ہے کہ ہر شب کو سحر کر
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
امت مسلمہ یہ فریضہ اسی صورت ادا کر سکتی ہے‘ جب وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاک کو اپنے لئے نمونہ‘ مثال اور آئیڈیل بنائے۔ انفرادی اور اجتماعی ہر دو لحاظ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انفرادی زندگی کو بھی ہم اپنے لئے نمونہ بنائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ معاشرہ اور مملکت کو بھی اپنے لئے مثال بنائیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی مملکت قائم فرمانے کے بعد دس برس کی قلیل مدت میں 26 غزوات کی بنفس نفیس قیادت فرمائی اور 86 جنگی مہمات بھیجیں۔
پاکستان کی اسلامی حکومت نے اپنے چالیس سالہ قیام کے دوران جہاد کو کس حد تک اپنایا ہے۔ اسکے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مسلمانوں پر جو گزر رہی ہے‘ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہم دن رات لوٹ کھسوٹ اور لڑائی جھگڑوں میں مگن ہیں۔ کبھی کبھار دعائوں میں تمام مسلمانوں کو یاد کر لیتے ہیں۔ مگر عملاً کچھ نہیں کرتے …؎
کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی
اے شیخ حرم تیری مناجات سحر کیا
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاک کا ارشاد گرامی ہے کہ میری امت پر قیامت تک کیلئے جہاد فرض کر دیا گیا ہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! جس شخص نے ساری عمر جہاد میں حصہ نہیں لیا‘ یا اس کے دل میں جہاد میں حصہ لینے کی خواہش پیدا نہیں ہوئی‘ وہ منافق ہے۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

سب سے زیادہ پسندیدہ

سب سے زیادہ ا یمیلڈ

Twitter