نہیں کہنا سیکھئے
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 26 فروری ، 2011
کلمہ طیبہ میں لاپہلے ہے اور الابعد میں۔ معبود ان باطل کی نفی پہلے ہے اور سچے اللہ کا اقرار بعد میں ہے۔
اللہ تعالیٰ کے دوستوں سے دوستی بہت محبوب فعل ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا محبوب تر ہے۔ سورہ الممتحنہ میں سیدنا ابراہیمؑ کے اس طرز عمل کو دوبارہ ہمارے لئے اسوہ حسنہ فرمایا کہ انہوں نے وطن سے ہجرت کرتے وقت اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا تھا کہ میرے تمہارے درمیان ہمیشہ کیلئے عداوت اور مخالفت ہے تاآنکہ تم خدائے واحد پر ایمان لائو۔ (آیہ…4) اس سورہ کے آغاز میں فرمایا…’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو…‘‘ (آیہ…1)
پاکستان میں یہ طرفہ تماشا ہے کہ ہمارے سامنے تاریخ مسخ کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے مخالفین کی تعریف کی جاتی ہے اور ہم خاموش ہیں۔ غداروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور کوئی بولتا نہیں۔ برسرعام پاکستان کا علاقہ دوسرے ملک کے ساتھ شامل کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کوئی پوچھتا نہیں۔ ایک شخص بھری اسمبلی میں حلف نامہ ہاتھ میں اٹھانے سے اجتناب کرتا ہے اور کوئی نہیں کہتا کہ اسے ممبران اسمبلی کے رجسٹر پر دستخط کرنے کا حق نہیں کیونکہ اس نے پاکستان سے وفاداری کا حلف نہیں اٹھایا۔ ایک ملک کا سفیر غداروں کے گھر جا کر ان سے ملاقاتیں کرتا ہے اور کوئی اس پر احتجاج نہیں کرتا۔
دوسرے ملک کا سفیر علی الاعلان ہمارے ملکی معاملات میں دخل دیتا ہے جیسے ہم اس ملک کی نوآبادی ہوں‘ مگر کوئی اسے ٹوکتا نہیں۔ ’’علمائ‘‘ ایسے سیاست دانوں سے ملتے اور الحاق کی باتیں کرتے ہیں‘ جو سیکولرزم کے حامی ہیں اور مذہبی (بشمول اسلام) کو ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں۔ وفادار اور غدار برابر ہیں۔ محبین اسلام اور مخالفین اسلام میں کوئی فرق نہیں۔ دیانت دار اور بددیانت میں تمیز اٹھ چکی ہے۔ سب کچھ ٹھیک ہے سب کچھ جائز ہے‘ آخر بات کہاں جا کر ٹھہرے گی۔ اسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ نئی نسل اچھے اور برے کی تمیز کھو بیٹھے گی‘ انکے اندر سے نیکی اور بدی کے فرق کا احساس مٹ جائیگا۔ وہ حق و باطل میں فرق کرنا بھول جائینگے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم سب کبھی کبھی نہیں مستقل طور پر ابلیس کی دلجوئی میں لگ گئے ہیں۔ یہ روش خطرناک ہے۔ آخر کسی کو کہیں تو کہنا چاہئے کہ ’’بس! اور آگے نہ بڑھو۔‘‘ ہمیں اپنا دین‘ اپنا ایمان‘ اپنا وطن (جو اسلام کے نام پر اور اسلام کی خاطر بنا ہے) سب محبوب ہیں۔ ہم انکے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ اچھوں اور بروں میں بہت فرق ہے۔ ہم انہیں ایک سطح پر نہیں رکھ سکتے۔ غداروں اور وفاداروں کو بھی برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔ حزب اللہ الگ ہے اور حزب الشیطان الگ اور ان دونوں میں ابدی دشمنی ہے۔‘‘؎
باطل دوئی پسند ہے‘ حق لاشریک ہے ..... شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں