اللہ تعالیٰ کا ذکر … (۱)
نُورِ بَصیِرتْ… میاں عبدالّرشید ـ 27 اگست ، 2010
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے۔
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا…:
’’جو شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے وہ زندہ کے اور جو ذکر نہیں کرتا وہ مردہ کے مانند ہے۔
(بخاری و مسلم)
ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔
’’جب میرا بندہ ذکر کرتا ہے تو میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ اور جب وہ کسی گروہ میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں بھی اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہوں جو اس گروہ سے بہتر ہے۔‘‘
(بخاری و مسلم)
حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے۔
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا…:
’’کیا میں تمہیں ایسے اعمال سے آگاہ نہ کروں جو ان اعمال سے بہتر ہیں جو تمہارے خیال میں بہترین اور پاکیزہ ہیں اور بلند درجات والے ہیں نیز وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں سونا اور چاندی خرچ کرنے اور جہاد کرنے سے بہتر ہیں… وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘‘۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے۔
ایک بدوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔
’’کون سا آدمی بہتر ہے؟‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’خوشخبری ہے اس آدمی کے لئے جس نے طویل عمر پائی اور اس کے اعمال بہترین ہوئے‘‘۔
پھر اس نے عرض کیا۔
’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا عمل سب سے بہتر ہے‘‘؟
آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کہ جب تو دنیا سے جدا ہو تو تیری زبان پر ذکر الہیٰ ہو۔ (یعنی مرتے دم تک زبان پر ذکر الہیٰ جاری ہو)۔‘‘
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے۔
حضورﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور وہاں اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا تو اس کا وہاں بیٹھنا اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کیلئے افسوس اور خسارہ کا باعث ہوگا‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے۔’’جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا بہت باتیں نہ بنایا کرو‘ کیونکہ ایسی باتیں دل کو سخت کر دیتی ہیں‘‘۔
یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.
جہاں کلیک کریں